Daily Mashriq

عید میلادالنبیۖ کے جلوس کا پرامن انعقاد

عید میلادالنبیۖ کے جلوس کا پرامن انعقاد

صوبائی دارالحکومت سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں معمول کے حفاظتی اقدامات کیساتھ ربیع الاول کے جلوسوں کا پرامن طور پر اختتام پذیر ہونے میں امن وامان کی بہتر صورتحال سے زیادہ اس کے منتظمین کی جانب سے کسی سے اُلجھے بغیر اور عوام کے معمولات کو سخت متاثر کئے بغیر میلاد کے جلوسوں کا اہتمام ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں سخت حالات میں بھی کبھی بھی میلاد کے جلوس تضادات کا باعث نہیں رہے، تصادم اور کشیدگی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس کا انتظام کرنے والے سادات خاندان محرم الحرام میں اتحاد بین المسلمین اور شہر میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے متحرک ہونے، عوام اور انتظامیہ میں رابطے کی مثالی خدمات انجام دیتی ہے۔ جس کے مثبت اثرات محرم کے علاوہ کے دنوں میں بھی محسوس ہوتے ہیں۔ عید میلادالنبیۖ جلوس کی قیادت اس خاندان کے ذمے ہونا بھی شہر میں رواداری اور ہم آہنگی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ کسی قسم کے اشتعال اور انتہا پسندی سے گریز کرتے ہوئے کوئی بھی جلوس خواہ وہ محرم الحرام کے جلوس ہوں یا میلاد کے ان کا بہتر انداز میں انعقاد ممکن ہے۔ اس طرزعمل کی سال بھر تقلید کی جانی چاہئے تاکہ شہر کا مثالی امن قائم رہے۔ میلادالنبیۖ کے جلوس کا مختصر روٹ اور کم وقت میں اس کا اختتام شہر میں معمولات زندگی پر اثرانداز نہیں ہوتا یہ بھی ایک ایسا نکتہ ہے جس پر غور کیا جائے اور اس کی تقلید کی جائے تو بعض مواقع پر پورے شہر کو بند کرنے اور عوام کو متاثر کرنے کی نوبت نہ آئے۔ ہمیں ان جلوسوں کے انعقاد میں انتظامیہ کی خدمت اور انتظامات سے انکار نہیں لیکن اصل کردار بہرحال عوام کا ہے اور جلوس کے منتظمین کا جو اس کے احسن، مناسب وقت اور پرامن انعقاد کی کامیاب سعی کرتے ہیں جس کی تقلید کی ضرورت ہے۔

زرعی اراضی کو بچانے کی ضرورت

صوبے میں زرعی اراضی پر بے ہنگم آبادی اور متعلقہ حکام کی سنگین غفلت سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ صورتحال خیبر پختونخوا تک محدود نہیں ہے، سارے پاکستان میں زرعی زمینیں سستے داموں خرید کر مکانات تعمیر کرنے کا رجحان جاری ہے۔ اس سے زرعی اجناس کی پیداوار کم ہونے سے ان کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے، اس کی ترقی کا دار ومدار بڑی حد تک زراعت کی ترقی پر ہے۔ اسلئے ملک کی زرعی صلاحیت کی حفاظت کرنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ یہ درست ہے کہ آبادی کے بڑھنے کیساتھ ساتھ مکانوں کی ضرورت بھی زیادہ ہو گئی ہے اس کا حل زرعی اراضی پر تعمیرات کئے بنا مختلف اندازمیں نکالنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس کیلئے زرعی اراضی کے استعمال کی کلی ممانعت ہونی چاہئے۔ اونچی رہائشی عمارتوں کی تعمیر ہی اس کا بہتر حل نظر آتا ہے۔ دیہی علاقوں میں تعمیر مکانات کیلئے بھی موجودہ سے زیادہ زرعی اراضی کا استعمال ممنوع ہونا چاہئے اور وہاں بھی رہائشی علاقوں کا رخ افقی کی بجائے عمودی ہونا چاہئے۔ شہروں میں ہاؤسنگ کالونیوں کیلئے صرف ایسی اراضی استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہئے جو زراعت کے قابل نہ ہو۔ خیبر پختونخوا میں زرعی اراضی پچاس لاکھ ایکڑ سے کچھ زیادہ ہے اس میں کمی نہیں آنی چاہئے بلکہ اس پر زراعت کے جدید طریقوں کے استعمال کیلئے اس کی افادیت میں اضافہ کیا جانا چاہئے مزید اراضی زیر کاشت لانے کی ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔ اُمید کی جانی چاہئے کہ ارباب حل وعقد اس صورتحال کا ادراک کریں گے اور متعلقہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنا کر اس سنگین مسئلے کو فوری طور پر سنگین تر ہونے سے روکا جائے گا۔

مصالحہ جات میں بڑے پیمانے پر ملاوٹ

خیبر پختونخوا حلال فوڈ اتھارٹی کے حکام نے پشاور میں ایک اور مصالحہ فیکٹری سیل کر کے بیس ہزار کلو چوکر برآمد کر لیا جسے مصالحہ میں ملاوٹ کیلئے استعمال میں لایا جانا تھا۔ حلال فوڈ اتھارٹی کے حکام کا ملاوٹ شدہ اشیاء کیخلاف کارروائی کے دوران جس قسم کی صورتحال سامنے آرہی ہے اس سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ تمام تر کوششوں اور کارروائی کے باوجود صارفین کو خالص چیز ملنے کی توقع نہیں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ ناخالص اور ملاوٹی اشیائے خوردنی نہ صرف رقم کا ضیاع ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ حلال فوڈ اتھارٹی کے حکام بساط بھر کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے مختلف دھندوں پر قابو پانے کیلئے جس بڑے اور منظم طور پر اقدامات انتظامات اور عملے کی ضرورت ہے فوڈ اتھارٹی کے پاس وہ موجود نہیں۔ ایسے میں جہاں فوڈ اتھارٹی کو مضبوط ادارہ بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے وہاں محکمہ خوراک، محکمہ صحت اور محکمہ بلدیات کے متعلقہ عملے کو بھی اس کی ذمہ داریوں کا پابند بنایا جانا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ہی قسم کی ذمہ داریوں کو مختلف محکموں کے عملے سے کروانے کی بجائے اگر ان کو ایک ہی نظم کے تحت لاکر ایک ہی قسم کی ذمہ داری تفویض کی جائے تو ان کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور جواب طلبی میں آسانی ہوگی۔ ایک ہی مصالحہ فیکٹری میں اگر بیس ہزار کلو چوکر مصالحہ میں ملا دیا جاتا اور اس کی فروخت ہوجاتی تو ایک بڑے علاقے کیلئے کافی ہوتا۔ اس طرح کی کوششوں کے تدارک کیلئے جہاں فیکٹریوں کی سطح پر نگرانی اور چھاپے مارنے کی ضرورت ہے وہاں تھوک فروشوں کی طرف سے مال سپلائی کرنے اور ان کے گوداموں میں بھی جاکر معائنہ کیا جائے بلکہ حلال فوڈ اتھارٹی سے چیک کروائے اور سند تصدیق حاصل کئے بغیر مصالحہ کی منڈی میں ترسیل پر بھی پابندی عائد ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں