Daily Mashriq

آصف زرداری، سندھ کا مقدمہ اسلام آباد میں

آصف زرداری، سندھ کا مقدمہ اسلام آباد میں

سابق صدرمملکت آصف علی زرداری نے سوموار کے روز ایک بار پھر اپنے وکلاء کو بیماری کی بنیاد پر درخواست ضمانت دائر کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا کہ ''حکومت نے مجھ پر مقدمات بنوائے ہیں۔ اب ثابت کرے یا معافی مانگے میں ضمانت کی درخواست نہیں دوں گا۔ یہ میرا کیس ہے میں ہی فیصلہ کروں گا کہ کیا کرنا ہے۔ دیکھتا ہوں حکومت کہاں تک جاتی ہے''۔ آصف علی زرداری کیخلاف جعلی اکاؤنٹس کو ریفرنس کی شکل دینے کی ابتدائی کارروائی مسلم لیگ(ن) کے دور حکومت میں وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے حکم پر شروع ہوئی تھی۔ چودھری نثار علی خان نے اس حوالے سے وزیراعظم میاں نوازشریف کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا تھا کہ ''اوپر'' سے حکم ہے۔ اوپر سے مراد اُس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف تھے۔ چودھری نثار کے اس موقف میں سچ کتنا تھا اور ہے اس بارے راحیل شریف، میاں نوازشریف اور خود چودھری نثار علی خان ہی بتا سکتے ہیں۔ چند ماہ قبل ان سطور میں عرض کیا تھا ''جس دن آصف علی زرداری نے عدالت سے اپنی ضمانتوں کیلئے دائر درخواستیں واپس لی تھیں اُس دن صبح ان سے دو اہم شخصیات نے ملاقات کرکے یقین دہانی کروائی تھی کہ ریاست اس بکیھڑے کا حصہ نہیں۔ سینیٹ میں چیئرمین کیخلاف عدم اعتماد کے حوالے سے بھی جب ایک ذریعے نے ان سے مدد مانگی تو جواب دیا قیدی کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں۔ پھر ایک اور موقع پر انہوں نے اپنے ملاقاتیوں سے کہا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد سندھ میں حالات کو ہم نے سنبھال لیا تھا۔ ایک اور نعش سندھ جائے گی تو حالات کو کون سنبھالے گا؟ جعلی اکاؤنٹس کیس کی پاکستان کے میڈیا میں سب سے زیادہ تشہیر ہوئی۔ سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں درجنوں جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے۔ اربوں روپے جمع ہوئے اور نکالے گئے۔ بعض اکاؤنٹس کے حوالے سے دعوے تھے کہ ان سے اربوں روپے دوسرے اکاؤنٹس میں گئے۔ جناب زرداری سے پہلے پہل 35ارب کے جعلی اکاؤنٹس کو منسلک کیا گیا۔ سبزی والے، فالودے والے، سموسہ پکوڑے اور بزنس روڈ کے حلیم والے سمیت نجانے کس کس کے اربوں کروڑوں کے اکاؤنٹس سامنے آئے۔یہ اکاؤنٹس جن بنکوں کی متعلقہ برانچوں میں کھلے ان برانچز سے کتنے افراد کو شامل تفتیش اور گرفتار کیا گیا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ 53ارب روپے کی رام لیلہ ساڑھے تین کروڑ پر آکر رُک گئی۔ ان ساڑھے تین کروڑ روپے بارے دستاویزاتی ثبوت سامنے آئے کہ یہ گنے(گنا) کی خریداری کیلئے ادائیگی تھی۔ کیس یا کیسز سندھ صوبہ کے تھے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر یہ اسلام آباد منتقل ہوئے کیونکہ ثاقب نثار سمجھتے تھے کہ سندھ میں انصاف ممکن نہیں، سندھیوں نے اس فیصلہ کو مفتوحہ علاقے کیلئے قابض ریاست کے فیصلے کے طور پر لیا، مگر ثاقب نثار وفاقی حکومت اور پنجاب بیس میڈیا نے ملکر یہ تاثر بنا دیا کہ سندھ لاقانونیت، کرپشن، اقرباپروری کا گڑھ ہے، انصاف صرف اسلام آباد میں ملتا ہے۔ صوبائی خودمختاری اور انصاف کے تقاضوں کی پامالی پر میڈیا میں تالیاں بجانے والے آزادی اظہار کے علمبرداروں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ پرویز خٹک، فردوس عاشق اعوان، محمود خان وغیرہ کیخلاف ان کے اپنے صوبوں میں تحقیقات کیوں ہوئیں اور کیوں غیر مؤثر رہیں؟ کیا اگر ان معاملات کی تحقیقات خیبر پختونخوا اور پنجاب کی بجائے سندھ میں ہوتیں تو آسمان گر پڑتا؟ پچھلے 31برسوں کے دوران پنجاب میں میڈیا نے آصف زرداری پر وہ کونسا الزام ہے جو نہیں لگایا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے خاتمہ پر زرداری گورنر ہاؤس لاہور سے گرفتار ہوئے تھے۔ ان کے بیڈ کے نیچے سے چند صندوق احتساب سیل نے اپنی تحویل میں لئے، ملکی وغیرملکی کرنسی اور سونے سے بھرے ہوئے ان صندوقوں کا کیا ہوا؟ آپ جب بھی یہ سوال پوچھیں گے تو کرپشن کے حامی انصاف کے دشمن قرار پائیں گے۔ اس ڈر سے کبھی یہ سوال نہیں پوچھا کہ وہ جو دوارب ڈالرز اور پانچ من سونا کراچی سے دبئی پہنچاتی لانچ سے پکڑا گیا کہاں گیا؟ دلچسپ قصے اور بہت ہیں پھر کسی وقت سہی۔آصف زرداری شدید علیل ہیں، وہ گرفتاری سے قبل جن ڈاکٹرز کے زیرعلاج تھے حکومتی میڈیکل بورڈ ان سے ابتدائی معلومات لے سکتا تھا مگر اسے بھی رہنے دیجئے۔ اس بات پر غور کیجئے کہ جعلی اکاؤنٹس 53ارب کے تھے پھر معاملہ تین ساڑھے تین کروڑ پر کیوں آکر رُکا؟ دوسری طرف ایک خاتون ہیں 60ارب روپے کے غیرملکی اثاثے اس کے اور 40ارب روپے کے اس کی بہن کے سامنے آئے۔ ثاقب نثار، ایف بی آر اور دوسرے محکموں نے کس پھرتی کیساتھ اس معاملے کو دفن کروایا۔ اس موضوع کو بھی دیوار پر ماریئے۔ پیپلزپارٹی، بلاول اور زرداری خاندان کو پنجاب میں میڈیا سے کوئی شکوہ نہیں، ان کا مؤقف ہے کہ کمرشل ازم نے آزاد صحافت کی جگہ لے لی ہے، ہم وقت کیوں خریدیں۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ آصف علی زرداری شدید بیمار ہیں۔ عارضہ قلب کے علاوہ ان کا شوگر لیول معمول پر نہیں آرہا۔ ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ریکارڈ پر ہے۔ مثانے میں غدود میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ادویات نے جسمانی کمزوری بڑھا دی ہے۔ اس کے باوجود ضمانت کی درخواست دائر کرنے پر رضامند نہیں، کیوں یہ زرداری کے مؤقف سے واضح ہے۔ سمجھنے والی بات صرف یہ ہے کہ اگر آصف علی زرداری کی بیماری سے کسی سانحہ نے جنم لیا تو اس کے سندھ اور سرائیکی وصیب پر جو اثرات مرتب ہوں گے ریاست، حکومت اور پنجاب بیس میڈیا تینوں حکمران اثرات کا مقابلہ کرسکیں گے؟ حرف آخر یہ ہے کہ آصف علی زرداری کو ضمانت کی درخواست بالکل دائر نہیں کرنی چاہئے۔ سندھ کا مقدمہ اسلام آباد میں ہی انجام کو پہنچے تاکہ معاملات زرداری کی توقع کے مطابق آگے بڑھ پائیں۔

متعلقہ خبریں