Daily Mashriq

صدارتی نظام پلس

صدارتی نظام پلس

ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے متعلق ایک مرتبہ پھر چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ وہ ناقدین جو موجودہ جمہوری نظام کو ہمارے عوام کی ذہنی بلوغت سے ہم آہنگ نہیں سمجھتے اور کلی طور پر کسی استبدادی نظام کی حمایت کرنے سے بھی گریزاں نظر آتے ہیں، صدارتی نظام کی درمیانی راہ کو اختیار کرنے کے پرچارک ہیں۔ ایک ایسا مضبوط صدارتی نظام جہاں چیف ایگزیٹو کو یہ اختیار ہو کہ وہ اپنی کابینہ کا انتخاب کر سکے اور ملکی امور کو پارلیمانی پابندیوں کی چھلنی سے گزرے بغیر بخوبی سرانجام دے سکے۔ موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے صدارتی نظام کا یہ خواب پورا ہو چکا ہے۔ ہم جس طرز حکمرانی کو دیکھ رہے ہیں وہ دراصل صدارتی نظام سے بھی ایک قدم آگے ہے، یہ صدارتی نظام پلس ہے جس میں حکومت نے خود کو پارلیمان کو بالکل لاتعلق کر دیا ہے اور تمام تر احتسابی چھلنیاں اس کے نزدیک درخوراعتنا ہی نہیں۔آپ ایک مرتبہ ذرا عمران خان کی چنیدہ ٹیم پر نظر ڈالیں، وفاق اور صوبوں میں انہوں نے تمام تر پارلیمانی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی مرضی سے لوگوں کو کابینہ کا حصہ بنایا ہے۔ ان میں سے کئی لوگ ٹیکنوکریٹ ہیں جنہیں وزیراعظم نے اپنی دانش میں بہترین انتخاب سمجھتے ہوئے اہم اداروں کے کلیدی عہدوں پر فائز کیا ہے۔ ان کی کابینہ میں ہر طرح کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مشرف کے غیرجمہوری دوراقتدار میں ان کی حکومت کاحصہ رہے ہیں۔

عمران خان وفاق اور صوبے میں فرق کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔آج پنجاب کے حوالے سے بالکل بھی محسوس نہیں ہوتا کہ وہ وفاق کی الگ اور خودمختار اکائی ہے۔ پنجاب کو عثمان بزدار کے ذریعے مرکز ہی چلا رہا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ ڈگر سے اُتار رہا ہے۔ پنجاب کے اوپر مرکز کا ایسا اثر ورسوخ تو تب بھی دیکھنے کو نہیں ملا تھا جب وزیراعظم کا اپنا بھائی یہاں کا وزیراعلیٰ تھا۔ آج سندھ کے علاوہ وفاق پورے ملک میں اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ روایتی صدارتی نظام میں سربراہ ریاست کے پاس انتظامی امور چلانے کیلئے خاصے وسیع اختیارات ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ ریاست کے باقی ستونوں کو بالکل بے وقعت کر دے مگر ہمارا نظام صدارتی پلس نظام ہے جس میں وزراء اپنے اثر ورسوخ کے بل بوتے پر پارلیمنٹ میں بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ تمام تر پارلیمانی روایات کے برعکس آٹھ صدارتی حکم ناموں کی منظوری دیدی گئی۔ پی ایم ڈی سی کی تحلیل اور پاکستان میڈیکل کونسل کی تشکیل بھی صدارتی حکم نامے کے ذریعے ہوئی اور پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرتے ہوئے اس کے تمام ملازمین کو بھی خلاف قانون برخواست کر دیا گیا۔ یہ حکم نامہ بیس اکتوبر کو جاری ہوا تھا اور اس کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر وزیراعظم نے اپنی مرضی ومنشاء کے مطابق، بغیر کسی مشاورت یا قانونی تقاضے کے، اس کمیشن کے تمام ممبران کوخود چن بھی لیا۔ ہمارا آئین صدر مملکت کوآرڈیننس بنانے کی فیکٹری کے طور پر ہرگز نہیں قبولتا۔ یہ عاملہ کو پارلیمان میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود اس طور قوانین پاس کرنے کا اختیار نہیں دیتا بلکہ اکثریت نہ ہونے کی صورت میں مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نمائندگان کو راضی کرنا ہی جمہوری طریقہ ہے۔آئین کے مطابق صدر مملکت صدارتی حکم نامہ صرف اسی وقت جاری کر سکتا ہے جب وہ سمجھے کہ اس قانون کی فوراً اور اشد ضرورت ہے اور جب پارلیمان کا سیشن جاری نہ ہو، یہ حکم نامہ 120دنوں کیلئے نافذالعمل ہوتا ہے۔ آرٹیکل 48کیمطابق صدر ہمیشہ وزیراعظم کی ایڈوائس پر منظوری دیتا ہے سو اس طرح ہمارے وزیراعظم کے پاس وسیع اختیارات ہی نہیں بلکہ قوانین بنانے کے بھی کئی ذرائع موجود ہیں۔

ابھی اکتوبر کے آخری دس دنوں میں نو صدارتی حکم نامے جاری کئے گئے تھے۔ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے الیکشن ٹریبیونل سے نااہل ہونے کے بعد دو اکتوبرکو صدر نے پارلیمان کا سیشن مدعو کیا۔ اس سیشن میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسمبلی اپنا ایک نیا ڈپٹی سپیکر منتخب کرتی تاکہ قاسم سوری کو اپنے لئے سٹے آرڈر لینے کا وقت مل جاتا مگر ہماری صدارتی پلس حکومت نے اس موقع کا فائدہ یوں اُٹھایا کہ آناً فاناً ان تمام حکم ناموں کو قانونی شکل دیدی۔ اب بھلا اتنی بھی کیا اُفتاد آن پڑی تھی کہ یوں کرنا پڑا؟ نیب کے قانون میں نئی ترمیم سے لیکر پی ایم ڈی سی کی تشکیل تک تمام ہی اقدامات شدید ایمرجنسی اور صدارتی حکم ناموں کے ذریعے کئے جا رہے ہیں۔ صدر مملکت کے عہدے کو یوں متبادل قانون ساز کے طور پر استعمال کرنا آئین کے آرٹیکل 89کی صریح خلاف ورزی ہے۔ابھی ہم اس پر تو بات ہی نہیں کر سکتے کہ وفاق کے چہرے کے پیچھے اصل میں کون حکمرانی کر رہا ہے کہ وہ ایک الگ بحث ہے۔ ہم یہ گمان کرتے ہیںکہ ہمارے وزیراعظم ہی مکمل اور کلی طور پر بااختیار ہیں، پر وہ ایک ایسی حکومت کے سربراہ ہیں جس میں پارلیمانی طور طریقے اور قانونی چھلنیاں بالکل ہی بے وقعت اور غیرمؤثر ہوکر رہ گئی ہیں۔ پارلیمان صرف تقریر کرنے کی جگہ بن کر رہ گئی ہے، الیکشن کمیشن غیرمؤثر ہو چکا ہے اور میڈیا بدترین پابندیوں کا شکار ہے۔ مگر ریاست کے اس اختیارات کے تجاوز پر عدلیہ کس قدر قدغن لگانے کے قابل ہے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ سو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ہاں یہ صدارتی پلس نظام نتائج د ے رہا ہے؟ کیا ریاست کے تین ستونوں کی قیمت پر تمام تر طاقت واختیار کا ایک ستون میں جمع ہو جانا ہمارے تمام تر مسائل کا سبب ہے یا پھر ان کا حل؟

(بشکریہ دی نیوز۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں