Daily Mashriq

چیک پوسٹس،بنوولنٹ فنڈ اور اساتذہ کی تبادلہ پالیسی

چیک پوسٹس،بنوولنٹ فنڈ اور اساتذہ کی تبادلہ پالیسی

کے کالم کی ابتداء براہ راست برقی پیغام سے کرتے ہیں، محمد انعام پشاور سے اپنے برقی پیغام میں امن وامان کے لوٹ آنے اور اس کی تسلی بخش صورتحال کے بعد آرمی چیک پوسٹوں کو غیرضروری قرار دیکر ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے غیرضروری رش بنتا ہے، حال ہی میں عدالت نے بھی قبائلی اضلاع میں چیک پوسٹوں کی ضرورت پر سوال اُٹھایا تھا، بہرحال عدالت کو جواب دینا حکومت یا جس سے عدالت جواب طلب کرے اس ادارے اور حکام کا کام ہے۔ جہاں تک محمد انعام کے اعتراض کا سوال ہے میرے خیال میں صوبائی دارالحکومت پشاور کی حد تک ان کا اعتراض غلط فہمی کا حامل اسلئے ہے کہ نہ صرف یہاں پر بلکہ جہاں بھی سول آبادی والے علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم ہیں وہاں پر پہلی حصار پولیس اہلکاروں ہی کی نظر آتی ہے، پاک فوج کے جوان دوسرے حصار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ صوبے میں مختلف مقامات پر سڑکوں پر پاک فوج کی ذمہ داریاں پولیس کو منتقل ہونے کی اطلاعات اخبارات میں آتی رہی ہیں، ممکن ہے کسی خاص اور حساس جگہ پر اب بھی پاک فوج کے جوان حفاظتی خدمات انجام دے رہے ہوں۔ میرے خیال میں امن وامان کی مکمل بحالی کی حد تک تو اختلاف کی گنجائش نہیں لیکن فوجی چوکیوں کی ضرورت اور نگرانی اولاً کوئی ایسی مشکلات کا باعث نہیں جن کو برداشت نہ کیا جا سکے سب سے بڑھ کر یہ کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ان چوکیوں پر تعینات جوانوں کو مکمل طور پر ہٹانے کے بعد موقع کی تاک میں بیٹھے شرپسند فائدہ نہ اُٹھائیں۔ صوبہ کے مختلف حصوں میں اب بھی موقع ملنے پر شدت پسندوں کی کارروائیاں اور پولیس اہلکاروں کی شہادت کوئی مخفی امر نہیں۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع جن حالات سے گزر چکے ہیں ان کے اثرات کے زائل ہونے میں ابھی بہت سا وقت باقی ہے، بہرحال اعتراض کرنے اور چوکیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والوں کا حق ہے ان کے نقطۂ نظر کا احترام ہونا چاہئے اور ان کے تحفظات کو بھی اہمیت ملنی چاہئے۔چارسدہ کے مختلف تعلیمی اداروں سے ریٹائرڈ ہونے والے اساتذہ نے ریٹائرمنٹ کے سالوں گزرنے کے بعد بھی بنوولنٹ فنڈ کی رقم نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد برسوں سے ماہانہ ملنے والی رقم اچانک کم ہونے سے مالی مشکلات بڑھنا فطری امر ہے، آج کل کے دور میں بیروزگاری کے باعث بچوں کی کفالت کا ذمہ ریٹائرمنٹ کی عمر کے بعد بھی والد ہی کو اُٹھانا پڑتا ہے۔ بچوں کی شادیوں پر اخراجات اور گنجائش ہونے پر مکان کی تعمیر جیسے بھاری اخراجات بھی ہوتے ہیں۔ تنخواہ دار اور ایماندار سرکاری ملازم کی پوری جمع پونجی ہی پنشن کی رقم اور مختلف مراعات ہوتی ہیں جن کی جتنی جلدی ادائیگی ہو بہتر ہوگا۔ پنشن کی ادائیگی کیلئے اے جی آفس نے جو نیا نظام متعارف کرایا ہے اس سے شکایات میں کمی آنی چاہئے۔ بنوولنٹ فنڈ کے حکام کو ریٹائر ہونے والے ملازمین کے حصے کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر کا نوٹس لینا چاہئے اور چارسدہ کے ریٹائر ہونے والے اساتذہ سمیت تمام سرکاری ملازمین کو ان کا حق جلد سے جلد دیا جائے۔سپین وام تحصیل شمالی وزیرستان سے فیض افگن نے 2014ء سے تاریندم بنیادی صحت مرکز کی بندش سے علاقے کے لوگوں کو علاج کی مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ حال ہی میں علاقے میں تعلیمی اداروں کی بندش کی شکایات کے بعد تعلیمی اداروں میں تدریس کی بحالی خوش آئند اقدام ہے۔ اسی طرح بنیادی صحت مرکز سپین وام میں بھی عملے کی تقرری ضروری ساز وسامان کی بہم رسانی کے بعد صحت کی سہولتوں کی بحالی یقینی بنائی جائے۔ سرکاری عمارتیں جس مقصد کیلئے بنائی گئی ہیں انہیں اسی مقصد کیلئے بروئے کار لانا قانون کا تقاضا ہے جس میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔کرک سے محمد ذیشان نے کر ک کے عوام پر رائیلٹی کی رقم خرچ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ دس سالوں کے دوران علاقے سے وزراء اور اراکین اسمبلی کو اس کا ذمہ دار ہی نہیں ٹھہرایا ہے بلکہ ان پر بدعنوانی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ رائیلٹی کی رقم گیس اور معدنیات کی ہے یا کچھ اور اس کی وضاحت نہیں لیکن گیس کی رائیلٹی نہ ملنے کی قبل ازیں بھی شکایات آتی رہی ہیں۔ بہرحال جس مد میں بھی رائیلٹی کی رقم ہے وہ علاقے کے عوام کا حق ہے جو انہیں ملنی چاہئے اور اس رقم سے ہی ان کے مسائل حل کئے جانے چاہئیں۔ایک قاری نے خیبر پختونخوا میں کالج پروفیسروں اور لیکچرارز کے تبادلوں کے حوالے سے کوئی واضح اور شفاف پالیسی نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔ ان کی دانست میں ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے تبادلوں کے طرز پر آن لائن اور بلاامتیاز پالیسی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ابھی تک تو سکولوں کے اساتذہ کے تبادلوں کے نئے نظام کی فعالیت وشفافیت کے حوالے سے کسی قابل ذکر پیشرفت کا کوئی علم نہیں، بہرحال اس طرح کی پالیسی کا مطالبہ کالج اساتذہ کا بھی حق ہے جس پر غور ہونا چاہئے اور کالج اساتذہ کے تبادلوں کیلئے بھی مرکزی ومنصفانہ پالیسی وضع کرکے اس پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ایک طالب علم نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے الائیڈ ہیلتھ سائینسز کی تعلیم کے چار بیج مکمل ہونے کے باوجود حکومت کی طرف سے اس شعبے کے فارغ التحصیل طالب علموں کی ملازمتوں کیلئے کوئی پالیسی مرتب نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو فطری امر ہے۔ میرے خیال میں کے ایم یو کو ان مضامین کی تعلیم سے قبل ہی اس پر حکومت سے پالیسی تیار کرانے کیلئے رجوع کرلینا چاہئے تھا۔ چار بیج فارغ ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ کم ازکم پانچ چھ سالوں سے اس شعبے میں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ابھی تک ان کی ملازمت کے حوالے سے کوئی پالیسی وضع نہیں ہوئی۔ الائیڈ سائنسز کے طالب علموں کیلئے نجی شعبے میں بھی اچھے مواقع ہیں، بہرحال ہمارے طلبہ کی پہلی ترجیح سرکاری ملازمت ہی ہوتی ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شعبے میں ملازمت کے مواقع پیدا کرے اور پالیسی وضع کی جائے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں