Daily Mashriq

لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں

لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں

انقلاب فرانس کے دور کی شہزادی کے فرمودات یاد آرہے ہیں، فرق صرف اتنا ہے اس دور کے حکمرانوں اور آج کی ''اشرافیہ کے نمائندوں میں کہ شہزادی نے تو بھوک سے بلبلاتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ اگر انہیں روٹی نہیں ملتی تو وہ کیک پیسٹری کیوں نہیں کھاتے جبکہ آج کے حکمران صرف ٹماٹروں کے وہ نرخ بتا رہے ہیں جو خواب ہی میں سوچے جا سکتے ہیں اور دوسرے یہ کہ جو لوگ احتجاج کرنے کیلئے پنڈال سجائے بیٹھے ہیں وہ وزیراعظم سے منصب چھوڑنے کے مطالبات کرتے ہوئے اپنے اجتماع کو آزادی مارچ تو کہہ رہے ہیں، مختلف النوع الزامات لگا رہے ہیں، مگر ان کے مطالبات میں غریب عوام کی مہنگائی کے ہاتھوں درگت کا کوئی احساس نہیں، بس فکر ہے تو اقتدار کے ایوانوں میں جلد سے جلد پہنچنے کی، اسلئے اگر عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی کے گراف کے ''ریڈزون'' میں ہونے کے باوجود عوام صرف چیخنے چلانے تک ہی خود کو محدود رکھے ہوئے ہیں اور پی این اے کی تحریک والی کوئی صورت نہیں بن رہی ہے تو اس کی وجہ لیڈران کرام کی ان پر کوئی توجہ نہ ہونے کی صورتحال ہی ہے۔ ورنہ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ ایسے حالات میں انقلاب فرانس ہی جنم دیتے ہیں۔ اب تو حبیب جالب کا یہ شعر بھی غلط ہی لگتا ہے جب اس نے کہا تھا۔

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے

نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں

مشیرخزانہ کو اس سے کیا غرض کہ ٹماٹر اپنے رنگ کی مانند انگار بن کر غریبوں کی سوچوں تک کو جلا رہا ہے، انہیں تو ہندسوں کے گورکھ دھندوں ہی میں زندہ رہنا ہے، اسلئے اگر معاشی اعشاریئے ان کو یہ بتلارہے ہیں کہ ٹماٹر 17روپے کلو ہیں وہ بھی بقول ان کے ٹی وی چینلز کے ٹکرز میں تو ان کا کیا قصور، حالانکہ جن چینلز کا ذکر وہ کرنا چاہ رہے ہیں وہ پاکستان میں تو نہیں ہوسکتے، ممکن ہے کسی ہمسایہ ملک کے چینلز پر ایسی خبریں چل رہی ہوں، وگرنہ تو پاکستانی چینلز تو ٹماٹروں کے نرخ تین سو روپے کلو تک (مختلف شہروں میں مختلف نرخ) بتا رہے ہیں، گزشتہ ہفتے میں چار روز تک اسلام آباد کے ہمسائے میں گزار کے آیا ہوں، وہاں 170 سے لیکر 190 روپے کلو تک ٹماٹر بکتے دیکھے بلکہ خریدنے بھی پڑ گئے تھے، جبکہ پشاور میں پیر کے روز 120روپے قیمت تھی باوجود اس کے کہ سوات کے ٹماٹروں کی فصل مارکیٹ میں آگئی ہے مگر قیمت کراچی میں تین سو اور 320 روپے تک جا پہنچی ہے، تاہم مشیرخزانہ شاید شماریات والوں کے دیئے گئے اعداد وشمار سے ابھی تک متاثر ہیں اور 17روپے کلو کے ٹماٹر کی ''نوید'' سنارہے ہیں، اسلئے میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ نہ ہم فرانسیسی ہیں نہ ہمارے ہاں گلوٹین کا ''رواج'' ہے، نہ یہاں کوئی شہزادی عوام کو روٹی کی جگہ کیک پیسٹری کھانے کے مشورے دیتی ہے۔ ٹماٹروں کی گرم بازاری دیکھ کر تو ایسے لگتا ہے کہ جس طرح گزشتہ ہفتے وزیرستان میں کچھ لوگوں نے چلغوزے چوری کر لئے تھے جو اب برآمد بھی کر لئے گئے ہیں، ایسے ہی آنے والے دنوں میں شاید بعض ضرورتمند سبزی مارکیٹوں یا دکانوں سے ٹماٹر لوٹنے کی کوشش کرتے دکھائی دیں گے،بلکہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بغیر ٹماٹر کے لوگوں کے گھروں میں ''کشیدگی'' کی صورتحال جنم لے اور جس گھر میں کہیں سے ٹماٹر بطورتحفہ آجائیں تو وہاں مرزا غالب کے بقول یہ صورتحال بھی ہوسکتی ہے کہ

ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

عین ممکن ہے کہ ہوٹلوں کے اشتہارات میں ٹماٹروں کے استعمال کا ذکر بطورخاص کرتے ہوئے گاہکوں کی توجہ مبذول کرنے کا ٹرینڈ بھی چل پڑے، اس پر وہ اشتہار یاد آگیا ہے جو ایک مشہور سینیٹری والے اپنے مال کی مشہوری کیلئے چلاتے رہے، یعنی چور ایک گھر میں گھس کر صرف سینیٹری کا سامان چوری کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو ممکن ہے کہ ایسا ٹماٹروں کیساتھ بھی ہونا شروع ہو جائے اور بڑی مارکیٹوں کیساتھ ساتھ گھروں کیلئے سبزی لے جانے والوں سے موٹر سائیکل سوار پستول دکھا کر تھیلے سے صرف ٹماٹر ہی چھین کر لے جانے کی وارداتیں کرنے لگیں۔ ایسا ہوا تو پھر حکمرانوں کو کسی فکر کی ضرورت نہیں کیونکہ اس ''ٹماٹر کی چھینا جھپٹی'' میں انقلاب فرانس کی سوچ بھی جنم نہیں لے سکے گی کہ ٹماٹروں کی مہنگائی میں انسان ہی سستے رہیں گے، بقول علامہ محمد قاصر مرحوم

لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں

کل بھی قاصر کم قیمت تھا آج بھی قاصر سستا ہے

متعلقہ خبریں