Daily Mashriq

سوات ، بریکوٹ میں سکندر اعظم کے تین ہزار سال پرانے شہر ''بازیرہ''کے آثار دریافت

سوات ، بریکوٹ میں سکندر اعظم کے تین ہزار سال پرانے شہر ''بازیرہ''کے آثار دریافت

سوات (فیاض ظفر) سوات کو آثارِ قدیمہ، گندھارا تہذیب اور مختلف مذاہب کا گہورا کہا جاتا ہے۔ سوات اپنے تاریخی دامن میں پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب اور آثار رکھتا ہے۔ سوات کی تحصیل بریکوٹ میں سکندر اعظم کے تین ہزار سال پرانے شہر ''بازیرہ''کے آثار کی دریافت ہوئی ہے۔ اٹلی اور پاکستانی حکومت کے محکمۂ آثار قدیمہ کے ماہرین نے کھدائی کے دوران بریکوٹ میں بازیرہ شہر کے نئے آثار دریافت کئے ہیں۔ ماہرینِ آثار قدیمہ کے مطابق سکند ر اعظم 326 قبل مسیح میں اپنے لشکر کے ساتھ سوات آیا تھا۔ مینگورہ کے قریب اوڈیگرا کے مقام پر مخالفین کے ساتھ لڑائی کے دوران اُن کو شکست کے بعد انہوں نے بریکوٹ میں بازیرہ کے نام سے اپنے لئے شہر تعمیر کیا، جس کا شمار اُس وقت کے جدید ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ کھدائی کے دوران ملنے والے آثار کے مطابق بازیرہ شہر میں سکند اعظم نے چار دیواری بھی کی تھی اور حفاظتی قلعہ بھی تعمیر کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکندر اعظم سے پہلے بھی بازیرہ میں آبادی کے آثار ملے ہیں۔ سکندر اعظم سے پہلے انڈو گریگ، بدھ مت، ہندو شاہی اور پھر مسلمانوں نے بھی بازیرہ شہر میں قیام کیا تھا، جس کے آثار کھدائی کے دوران ملے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے بھی بازیرہ میں ان مذاہب کے لوگوں نے اس شہر کو آباد رکھا تھا اور یہاں قیام کیا تھا ۔

متعلقہ خبریں