Daily Mashriq

ایک طرف کھائی ہے ایک طرف کنواں

ایک طرف کھائی ہے ایک طرف کنواں

کی جانب سے معیشت کو درپیش خطرات سے نکالنے کیلئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی امداد کیلئے باضابطہ طور پر درخواست کے بعد آئی ایم ایف کی طرف سے شرائط عائد کرنا تو فطری امر ہے۔ آئی ایم ایف ہر بار اپنی شرائط پر ہی قرضے دیتا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں البتہ اس مرتبہ قرضے کی شرائط میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کی تفصیلات کی طلبی سنجیدہ امر ہے۔ اس شرط پر قرضے کا حصول قومی وقار کا تقاضا ہے یا نہیں اس پر مشترکہ طور پر غور وخوض کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں ایک ملک سے اربوں ڈالر کے معاہدے کی تفصیلات کیسے دی جائیں یہ ایک حساس موضوع ہے، بہرحال بھکاریوں کے پاس حق انتخاب نہیں ہوتا کے مصداق معاملہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک نیوز کانفرنس کے دوران آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چین سمیت تمام قرضوں میں مکمل شفافیت لانا ہوگی اور وہ یہ چاہیں گی بھی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کو بیل آؤٹ پیکج دینے سے قبل اس کے تمام قرضوں کے بارے میں مکمل آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مشترکہ طور پر جو بھی کام کریں گے، اس سے پہلے متعلقہ ملک کے قرضوں کی نوعیت، حجم اور قرض کی شرائط کے بارے میں مکمل علم اور شفافیت کا ہونا ضروری ہے، پاکستان تمام قرضوں کی تفصیل دے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف یہ بھی جاننا چاہے گا کہ اداروں سمیت ملک پر کتنا قرضہ ہے تاکہ ہم ملک کے قرضوں کی نوعیت کا اندازہ لگا سکیں۔ پاکستان روانگی سے قبل وزیر خزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملک جس مشکل حالات سے گزر رہا ہے پورے ملک کو ادراک ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ایسا پروگرام لینا چاہتے ہیں جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے، ایسا پروگرام لانا چاہتے ہیں کہ جس کا کمزور طبقے پر کم سے کم اثر پڑے، معاشی بحالی کیلئے ہمارا ہدف صاحب استطاعت لوگ ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکجز لے چکا ہے اور اس کا6 ارب40کروڑ روپے کا آخری پیکج اگست 2016میں مکمل ہوا تھا جو آئی ایم ایف پر پاکستان کے کوٹے کا 216فیصد تھا۔ پاکستان نے جن مالیاتی مشکلات سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا ہے اس کی چیدہ چیدہ وجوہات یہ بتائی جاتی ہیں کہ پاکستان کو اس وقت کئی طرح کی مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کیلئے اپنی انتخابی مہم کے دوران بلند وبالا دعوؤں کے باوجود آئی ایم ایف کے پاس جانا لازم تھا۔ بہرحال دو بنیادی مشکلات ایسی ہیں جنہوں نے پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کر دیاہے۔ ان میں سے ایک وجہ تو مالی خسارہ ہے جس سے حکومت کی آمدن اور اس کے اخراجات میں توازن قائم نہیں۔ ان کے بقول اس کیلئے حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے ہوتے ہیں یا ٹیکسز لگا کر اپنی آمدنی کو بڑھانا ہوتا ہے اور یا پھر ان کا کوئی درمیانی راستہ نکالنا پڑتاہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو آگے چل کر حکومت کے قرضے بڑھ جائیں گے اور نوٹ چھاپنا مجبوری بن جاتی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ دراضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے حکومت کے اس اقدام سے اب مالی خسارہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ قابو نہیں ہو پارہا۔ دوسری بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن بڑھ جائے تو زرمبادلہ گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگرزرمبادلہ کی صورتحال شدید حالت تک پہنچنا شروع ہو جائے تو پھر فوری طور پر باہر سے زرمبادلہ کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔ جس کیلئے موجودہ حکومت اپنے سیاسی بیانات اور اعلانات کے برعکس مجبوراً آئی ایم ایف سے رجوع کر رہی ہے۔ موجودہ بحران کیلئے موجودہ حکومت کو الزام نہیں دیا جا سکتا لیکن اس مالی بحران کو بری طرح سے سنبھالنے کا الزام موجودہ حکومت کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی ہے اور اس کی وجہ تیل کی قیمتیں ہیں۔ تیل کی قیمتیں گزشتہ پانچ سالوں میں کم رہنے کے بعد اب اپنی اصل حالت پر آئی ہیں۔ موجودہ حکومت کا یہ عذر کافی نہیں کہ ماضی میں کرپٹ لوگ خزانے کو لوٹ کر پیسہ باہر لے گئے یہ اپنی جگہ حقیقت ضرور ہے لیکن اس طرح سے مشکلات کا حل ممکن نہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ حکومت پُرعزم ہے کہ وہ اس سائیکل کو توڑے گی اور وہ سب کچھ کرے گی جو ستر سالوں میں نہیں ہوا۔ ان تمام حالات اور معاملات کے علی الرغم اس وقت جو تشویش کی بات ہے وہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف چین کیساتھ نہ صرف ہمارے معاملات کی جملہ تفصیلات جاننے کی ضد میں ہے بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری اور اقتصادی راہداری کے بھی درپے ہے۔ ایسا ہونے کا امکان تو بہرحال نظر نہیں آتا لیکن اگر کوئی کمزور فیصلہ کیا جائے تو پھر انیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہ صرف خطرے میں پڑ جائے گی بلکہ ان منصوبوں کا سود تو ہم ادا کر رہے ہوں گے مگر اس سے ہماری معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال قدرت اور حالات کی طرف سے تحریک انصاف کی حکومت کا کڑا امتحان ہوگا کہ جو حکمران کشکول لیکرآ ئی ایم ایف کے پاس جانے کے سب سے زیادہ مخالف تھے اب ان کو ایک ایسی کڑی شرط کا سامنا ہے جو ایک طرف کھائی ہے اور ایک طرف کنواں کے مصداق ہے یعنی حالات مشکل اور سخت ہیں اور فیصلہ دشوار۔

متعلقہ خبریں