Daily Mashriq


انصاف کیساتھ ساتھ احتساب بھی ہونا چاہئے

انصاف کیساتھ ساتھ احتساب بھی ہونا چاہئے

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منرل واٹر پینے کے بجائے نلکوں کا پانی پئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ چاروں صوبے پانی کی قیمتوں کے حوالے سے پالیسی بنائیں اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے موبائل کارڈ پر ٹیکس کا خاتمہ کرکے صارفین کو ریلیف دیا اور کمپنیوں کی لوٹ مار رکوائی‘ منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں کو بے نقاب کیا۔ ان احسن اقدامات پر غور کرتے ہوئے اس امر کا احساس ہوتا ہے اور ذہن میں سوال اُٹھتا ہے کہ کیا اس لوٹ مار کا حساب ممکن نہ تھا۔ اس لوٹ مار کا نوٹس تو لیا گیا اسے بند بھی کرنے کا احسن اقدام یقینی بنایا گیا لیکن جتنا عرصہ یہ غیر قانونی کام ہوا اس کا حساب کون لے گا۔ اس بارے میں انصاف خاموش کیوں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیلولر کمپنیوں نے صارفین سے اتنی رقم لوٹی ہے جو ان کمپنیوں کی قیمت کے برابر ہوگی۔ علاوہ ازیں اس میں حکومتیں بھی شامل رہی ہیں۔ کیا یہ سوال نہیں اُٹھتا کہ اس سارے عمل میں حکومتی اداروں اور سیلولر کمپنیوں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے اس کا حساب لیا جائے۔ یہ غیر قانونی کام اتنے عرصے تک کیسے ہوتا رہا اور اس کا جواز کیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت نے بھی تاخیر سے اس کا نوٹس لیا بہرحال دیر آید درست آید عوام کو ریلیف تو مل گیا زیادہ بہتر یہ تھا کہ عدالت کمپنیوں سے حساب لیتی چونکہ ہر صارف کو یہ رقم واپس کرنا ممکن نہیں تو یہ رقم ڈیم تعمیر کے فنڈ میں جمع کروا کر مجموعی قومی منصوبے کی تعمیر میں مدد ممکن تھا۔ بہرحال اب جبکہ منرل واٹر کمپنیوں کی باری آگئی ہے تو اس ضمن میں ہماری گزارش ہوگی کہ ان کمپنیوں کا احتساب کیا جائے۔ ایف بی آر ملی بھگت نہ کرتی تو محولہ کمپنیاں اتنے عرصے قوم کے اجتماعی حق پر یوں ڈاکہ نہیں ڈال سکتے تھے۔ چیف جسٹس نے عوام کو سادہ پانی ابال کر استعمال کرنے کا درست مشورہ دیا ہے۔ منرل واٹرز کی جانچ پڑتال سے اس پانی کے مضر صحت ہونے کی رپورٹیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ عوام کو خواہ مخواہ کی دکھاوے کی طرز زندگی کی نقل نہیں کرنی چاہئے۔ جن لوگوں کے پاس فالتو کی دولت ہے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا نہ صرف عوام کو منرل واٹر پینے سے گریز کرنا چاہئے بلکہ عوام کے پیسوں سے منرل واٹر خریدنے پر بھی پابندی لگائی جائے۔

فاؤنٹین ہاؤس کی تعمیر میں تاخیر کا سخت نوٹس لیا جائے

خیبر پختونخوا میں دو سو پچاس بستروں کے دماغی امراض کے علاج کیلئے فاؤٹین ہاؤس کی تعمیر میں محکمہ صحت کے بار بار توجہ دلانے کے باوجود سی اینڈ ڈبلیو کے من مانی کا رویہ عوام دشمنی اور ناقابل قبول امر ہے جس کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور وزیر مواصلات وتعمیرات کو فوری اور سخت نوٹس لینا چاہئے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ دنیا بھر میں دماغی عارضے میں مبتلا افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں ضلع چترال کے بعد اب سوات سے خودکشیوں کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر اخبارات میں خودکشی کے کئی واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ دماغی امراض اور نفسیاتی عارضے میں مبتلا افراد کے علاج کا نہ ہونا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ایک برائے نام ہسپتال امراض دماغی موجود ہے لیکن جیل سے متصل ہونے کی بناء پر لوگ اسے بھی قیدخانہ ہی سمجھتے ہیں۔ ویسے لوگوں کا یہ سمجھنا اسلئے بھی غلط نہیں کہ وہاں مریضوں کو زنجیروں سے باندھا جاتا ہے۔ بہرحال شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہاں صرف ایسے ہی افراد لائے جاتے ہوں جن کو سنبھالنا ممکن نہ ہو‘ سرکاری ہسپتالوں میں نفسیاتی امراض کا شعبہ تو موجود ہوتا ہے مگر افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ان شعبوں میں علاج کا معیار انتہائی ناقص اور ادویات کمپنیوں سے ملی بھگت کا حامل ہے جبکہ ڈاکٹروں اور عملے کا رویہ ایسا ہے کہ کوئی بھی ان سے علاج کرانے پر تیار نہیں ہوتا۔ اس ساری صورتحال میں کسی صاف ستھری جگہ پر دماغی امراض کے مریضوں کیلئے شفاخانے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ چھ سال گزرنے کے باوجود اس کیلئے عمارت کی تعمیر ہی مکمل نہیں کی جا سکی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اب مزید تاخیر نہیں ہوگی اور جلد سے جلد فاؤنٹین ہاؤس کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی تاکہ دماغی ونفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کو قدرے سہولت میسر آئے۔

متعلقہ خبریں