Daily Mashriq

تحریک انصاف کے لئے سنہری موقع

تحریک انصاف کے لئے سنہری موقع

گزشتہ 10سالوں کے دوران لئے گئے بیرونی قرضوں کی تحقیقات کروانے کا فیصلہ اصولی طور پر درست ہے‘ 24ہزار ارب روپے کے قرضوں اور ان کے استعمال کے حوالے سے وزیراعظم نے وزارت خزانہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ وزیراعظم نے سابق حکومت کے 60ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم بارے سپیشل آڈٹ کرانے کی بھی منظوری دی ہے۔ بلاشبہ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ حاصل کردہ بیرونی وملکی قرضے کہاں اور کیسے خرچ ہوئے اور 60ارب روپے کے وزیراعظم ترقیاتی فنڈ کا اجراء کرتے وقت کن امور کو مدنظر رکھا گیا۔

اس حوالے سے ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ حکومت اپنے وعدے کے مطابق پچھلے دس سالوں کے دوران بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے معاف کروائے گئے قرضوں کی بھی تحقیقات کرائے۔ ایسا کیا جانا اسلئے بھی ضروری ہے کہ قرضے معاف کروانے والوں کی سماجی ومعاشی حیثیت میں تو کوئی فرق نہیں آیا بلکہ وہ پھل پھول رہے ہیں مگر اربوں روپے کے قرضے اس بنیاد پر معاف کئے گئے کہ قرضہ لینے والوں کے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیراعظم قرضے معاف کرانے والے ان افراد کی جماعتی اور حکومتی حیثیت کو بھی معطل کرنے کا حکم دیں گے جو ماضی کی طرح سیاسی ہجرت کر کے تحریک انصاف میں اسلئے شامل ہوئے کہ اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ مثال کے طور پر قومی اسمبلی کی سابق سپیکر محترمہ فہمیدہ مرزا کا نام لیا جا سکتا ہے جنہوں نے اپنے خاندان کے کاروباری اداروں کے ذمہ بھاری قرضے 2008ء سے 2013ء کے درمیان معاف کرائے۔

یہ ایک مثال ہے وزیراعظم چاہیں تو بنک اور دوسرے مالیاتی اداروں سے کم ازکم دس سال کے دوران قرضے معاف کروانے والے بااثر افراد بارے تفصیلات طلب کروا کر ایک خصوصی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کروا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک کیس سپریم کورٹ میں بھی زیرسماعت ہے جس میں قرضے معاف کروانے والوں میں سے بہت سارے کردار عدالتی حکم پر معاف کرائے گئے قرضوں کا ایک حصہ واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکے۔ بیرونی قرضوں وخصوصی ترقیاتی فنڈز کے آڈٹ اور قرض خوروں کیخلاف اگر قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے تو ایک نظیر قائم ہوگی۔ مثلاً پہلے دس برسوں کے دوران میڈیا اور سیاستدانوں کا ایک بڑا حصہ یہ کہتا چلا آیا ہے کہ بیرونی قرضوں سے شروع ہوئے منصوبوں میں کمیشن لیا گیا۔ خصوصی ترقیاتی فنڈز خاص افراد کے علاوہ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو دیئے گئے اور قرضے معاف کرانے والوں میں سابق حکمران جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اہم افراد اور صنعتکار شامل ہیں۔

یہاں یہ بھی عرض کرنا ضروری ہے کہ بیرونی وملکی قرضوں کیساتھ پچھلے دس سال کے دوران اقوام کی برادری کے مختلف ممالک سے ملی امدادی رقوم بارے بھی حقائق کو سامنے لایا جائے۔ 2013ء میں جب نون لیگ اقتدار میں آئی تھی تو قوم کو بتایا گیا کہ سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر بیرونی وملکی قرضوں‘ ترقیاتی فنڈز اور بیرونی امدادوں کی تحقیقات کا دائرہ 10سال کی بجائے 18سال کی مدت تک بڑھا دیا جائے تو سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف اور ان کی جرنیلی جمہوریت کا دور بھی شامل ہو جائے گا، ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ بیرونی رقم ان کے دور میں آئی۔ اس میں امریکی امداد اور لاجسٹک سپورٹ فنڈز کی رقم کے علاوہ دیگر رقوم بھی شامل ہیں۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کرپشن وکمیشن میں صرف ایک طبقہ ملوث نہیں توفیق کے مطابق سب نے جھولیاں بھریں، یہ اور بات کہ سیاستدان چونکہ آسان ہدف ہیں اسلئے ان کی بھد تو سب نے اُڑائی مگر دوسرے طاقتوروں کے حوالے سے بڑوں بڑوں کی زبانیں تالو سے چپک جاتی ہیں۔ مکرر عرض ہے عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ قرضوں‘ ترقیاتی فنڈز اور دیگر امور کے حوالے سے حقیقت حال جان سکیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر تحقیقات کا دائرہ مشرف دور تک وسیع نہ کیا گیا تو لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ’’کوئی تو ہے جو پروپیگنڈہ کر رہا ہے‘‘ اصولی طور پر درست بات یہی ہوگی کہ وفاقی کابینہ جنوری 2000ء سے اپنے اقتدار میں آنے کے درمیانی تمام عرصہ میں اقتدار میں رہنے والی جماعتوں اور شخصیات کے حوالے سے یکساں رویہ اپنائے۔ بعض بڑے سیاستدانوں کی بیرون ملک جائیدادوں پر تو ہر کوئی رائے زنی کرتا ہے مگر سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی بیرون ملک جائیدادوں یا ان کے چند دیگر ساتھیوں کے اثاثوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرتا جس پر منفی تاثر اُبھرتا ہے۔

تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہی بلاامتیاز احتساب کے نعرے پر ہے تو پھر بسم اللہ کرے۔ سیاستدان ہوں‘ سابق جرنیل وججز یا بیوروکریسی یا پھر کوئی اور ماضی میں جس جس کی کرپشن کے قصے زبان زد عام ہوئے ان سارے قصوں کی چھان پھٹک کروائی جائے۔ جرم ثابت ہوتا ہے تو ذمہ داروں کو سزا دی جائے اور اگر الزامات محض دشمنی وعناد کا نتیجہ ثابت ہوتے ہیں تو الزامات لگانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔ تحریک انصاف اگر کرپشن کے الزامات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروا کے عوام کے سامنے اصل حقائق لے آتی ہے اور نتائج کی روشنی میں مجرموں کیخلاف کارروائی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ ہماری دانست میں اس حوالے سے تحریک انصاف کی حکمت عملی اور اقدامات کا انتظار کیا جانا ضروری ہے تاکہ یہ سمجھنے میں مزید آسانی ہو کہ کیا واقعی ملک اور نظام کو کرپشن سے پاک کرنا مقصود ہے یا پھر سیاستدانوں کو ہی کرپٹ ثابت کرکے کسی کو نجات دہندہ اور دیانت کا دیوتا بنا کر پیش کرنا؟ اُمید واثق ہے کہ ہم سب اس سوال کا جلد ہی جواب پاسکیں گے۔

متعلقہ خبریں