Daily Mashriq


قدرتی آفات سے بچاؤ کا عالمی دن

قدرتی آفات سے بچاؤ کا عالمی دن

آندھیوں کی زد میں ہیں، باد وباراں کے نرغے میں ہیں، گرجتے بادل کوندتی بجلیاں، سیلابوں کے ریلے، زلزلوں کے جھٹکے، جنگل کی آگ، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے جانے کتنے سامان ہیں ہماری تباہی کے جن کو ہم قدرتی آفات کا نام دیتے ہیں۔ ہم سات ارب سے بھی زیادہ لوگ جو اس کرۂ ارض پر زندگی کی مستعار سانسیں جی رہے ہیں جب ان قدرتی آفات میں سے ایک آدھ آفت میں گھر جاتے ہیں تو ہمیں اللہ یاد آجاتا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناتے ہم نے جتنے کلمے یاد کر رکھے ہوتے ہیں ایک ایک کرکے سارے کے سارے پڑھ ڈالتے ہیں۔ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ استغفار کرتے ہیں، سجدے میں جاکر ماتھا ٹیکتے ہیں، ناک رگڑتے ہیں یا سرپٹ دوڑ کر جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، اس اندھا دھند طوفان میں خس وخاشاک بن کر بہہ جاتے ہیں۔ اگر بچ جاتے ہیں تو جیسے ہی طوفان تھمتا ہے یا زلزلوں کے جھٹکے ختم ہوتے ہیں ہم دل کی دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے پھولی ہوئی سانسوں سے کہتے پھرتے ہیں ’’توبہ توبہ بڑا شدید طوفان تھا، بڑا خوفناک زلزلہ تھا، اگر چند سیکنڈ اور رہتا تو پلٹ کر رکھ دیتا اس دنیا کو‘ اتنا کہنے کے بعد ہم ریڈیو، ٹی وی یا اخبار کے ذریعے اس طوفان بلاخیز کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی خبروں سے آگاہی حاصل کرنے کی کوششوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے تباہ کن طوفان کی خبریں پرانی ہونے لگتی ہیں ہم خود طوفان بلاخیز بن کر لوٹ کھسوٹ، دھوکہ، جھوٹ، کساد بازاری، مہنگ فروشی، ذخیرہ اندوزی، رشوت، سفارش، ناانصافی، بغض، عناد، دشمنی، نفرت کا بازار گرم کرنے ایک بار پھر اس زندگی کی جانب لوٹ آتے ہیں جسے زندگی نہیں کہنا چاہئے۔

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

مولانا روم نے بندگی کو زندگی کا مقصد گردانا ہے اور انہوں نے بندگی کے معنی عبادت تعبیر کئے ہیں لیکن ہم بندگی کے معنی بندگان خدا کی خدمت لیتے ہیں اور جو لوگ بندگان خدا کو مختلف بدعنوانیوں سے لوٹتے یا ان کا حق مارتے ہیں وہ ہرگز ہرگز بندگی کا حق ادا نہیں کر رہے ہوتے اور ان ہی جیسے لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے طوفان نوح اُترتے ہیں، ستارے ٹوٹتے ہیں، پہاڑ رائی کے گولے بن کر اُڑنے لگتے ہیں، زمین تانبے کی بن جاتی ہے اور سورج سوا نیزے پر آجاتا ہے۔ یہ انجام ہے اس ہنستی بستی دنیا کا جس سے ہم سب دنیاداروں کو آگاہ کر دیا گیا اور گاہے بگاہے اس انجام کا ٹریلر یا اس کی جھلکیاں بھی ہمیں دکھا دی گئیں۔ ہمیں 8اکتوبر 2005 کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے، دھرتی مائی کو جانے کیوں جلال آیا جس نے پاکستان کی تاریخ کے تباہ کن زلزلے کا روپ دھارا۔ زمیں کانپی، فلک رویا، تاریکیاں پھیلیں، دلدوز چیخیں اُٹھیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کے کتنی ہی پرفضا وادیاں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔ ایک حوالے کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں اور آزاد کشمیر میں آنے والا یہ زلزلہ دنیا کا 14واں بڑا زلزلہ تھا جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، اس نے بالاکوٹ کا95فیصد انفراسٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا۔ اس زلزلہ کے بعد بالاکوٹ کو نئے سرے سے کسی محفوظ جگہ آباد کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا لیکن اتنا آسان نہیں تھا اس منصوبے کو مکمل کرنا چنانچہ رواں سال کے دوران جب اکتوبر کے مہینے کی 8 تاریخ آئی تو جہاں 5000شہیدوں کی تیرہویں برسی منائی گئی، ان کی اجتماعی قبر پر فاتحہ خوانی کی گئی، وہاں تیرہ سال گزرنے کے باوجود اس تباہ کن زلزلہ کے متاثرین سے کئے گئے وعدے کو پورا نہ کرنے پر بھی بھرپور احتجاج کیا گیا۔ کبھی نہ کیا جاتا اس احتجاج رنج والم وسوگ کا مظاہرہ اور اجتماعی قبر پر دعائیہ اور دھواں دھار تقریروں کے سیشن کا اہتمام اگر 8اکتوبر2005 کو یہاں قیامت نہ آئی ہوتی قیامت سے پہلے۔ جیساکہ آج کے کالم کے آغاز میں عرض کر چکا کہ ہم ہر لمحہ، ہر آن ان قدرتی آفات کی زد میں ہیں جن میں سے ایک بہت بڑی آفت کی یاد ہم نے 8اکتوبر کو منائی۔ اس دن عوام الناس کو قدرتی آفات سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر مبنی اشتہارات شائع کئے گئے۔ جلسے ہوئے تقریریں ہوئیں اور پھر ٹاں ٹاں فش ہونے لگی لیکن ہم سے نچلا نہ بیٹھا گیا کہ ہمارے کانوں میں آج یعنی 13اکتوبر کو اقوام متحدہ کے زیراہتمام قدرتی آفات کا عالمی دن منانے کی دھنک پڑ چکی تھی، سو ہم نے 8 اکتوبر 2018 ء کو کم ازکم پاکستان اور کشمیر کی سطح پر بیدار کئے جانے والے شعور کو مزید بیدار کرنے کیلئے اقوام عالم کی آواز میں آواز ملا کر دنیا والوں کو بتانا ضروری سمجھا کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے ایسا ہورہا ہے، آبادی اور بڑھتی آبادی کی ضرورتیں حد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں جس کا بوجھ قدرت کے بس سے باہر ہونے لگا ہے لیکن دوسری طرف ہم اس عارضی اور فانی دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلانے کی اپنی سی کوشش کرتے ہوئے ڈالی ہم جو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے دعویداروں سے کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات بھول کر بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ قدرتی آفات کے سامنے ہماری مثال پانی بہتے تنکے سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں، ساری بڑائی، ساری تمکنت، ساری تعریف اس ذات برحق کیلئے ہے جس کے متعلق اسماعیل میرٹھی کہتے ہیں

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

کوشش کریں کہ وہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے

متعلقہ خبریں