Daily Mashriq

ولاپ الاپنا

ولاپ الاپنا

یہ ہر ملک کی روایات میں شامل ہے کہ جب ملک کا انتظامی ڈھانچہ چاہے وہ انتخابات کی بنیاد پر یا کسی اور وجہ سے تبدیل ہوا کرتا ہے تو وہاں کی انتظامیہ میں اکھاڑ پچھاڑ ضرور ہوتا ہے۔ نئے حکمران اپنی پسندیدہ انتظامیہ کی تقرری کرتے ہیں تاکہ ان کو حکومتی امور چلانے میں کسی کٹھن مرحلے سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ اب جبکہ تحریک انصاف نے اقتدار اکثریت چاہے وہ معمولی سی اکثریت ہے سنبھالا تو روایت کے مطابق اس نے بھی افسروں کے پسندیدگی اور ناپسندیدگی کی بنیاد پر تقرر وتبادلے کا عمل ترجیحاً کیا اور پولیس آفیسر طاہر خان کو پنجا ب کا انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کر دیا مگر ان کی تقرری کا ایک ماہ کا عرصہ گزرا ہی تھا کہ انہیں تبدیل کر کے امجد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی پنجاب متعین کر دیا، حکومت کے اس فعل پر الیکشن کمیشن نے طاہر خان کے تبادلے کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر معطل کر دیا کیونکہ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ جب عام انتخابات ہو رہے ہوں تو حکومت کا یہ حق ساقط ہو جاتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر افسروں کے تبادلے یا تقرریاں انجام دے۔ اس وقت ملک بھر میں ضمنی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے اس لئے نئی تقرریاں نہیں ہو سکتیں، طاہر خان کے استعفیٰ کیساتھ ہی یہ خبر بھی آئی کہ چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمر کمیشن ناصر خان درانی بھی مستعفی ہو گئے ہیں، وہ کیوں مستعفی ہوئے اس بارے میں دو باتیں سامنے آئیں کہ انہوں نے اپنے استعفیٰ میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کی وجہ بیماری درج کی ہے جبکہ اس وقت یہ بھی سنا گیا کہ وہ سیاسی مداخلت ختم نہ ہونے پر چلے گئے۔ اب خبر آئی ہے کہ تحریک انصاف حکومت پولیس پر روایتی سیاسی اثر ورسوخ کے خاتمے کیلئے آمادہ نہیں اور پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے سربراہ ناصر درانی کا استعفیٰ اسی کی کڑی ہے۔ طاہر خان کے تبادلے کے محرکات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پاک پتن معاملہ اور پھر پنجاب کے سینئر وزیر محمودالرشید کے خلف الرشید کے کرتوت کا خمیازہ ہے۔وزیراعظم عمران خان جس طرح پورے ملک میں یکساں بلدیاتی نظام کی کاوشوں میں ہیں اسی طرح وہ پنجاب پولیس میں کے پی پولیس کی طرز کی اصلاحات لانا چاہتے تھے۔ انہوں نے گزشتہ ساڑھے چار سال اس امر کی خوب ڈونڈی پیٹی ہے کہ انہوں نے کے پی پولیس کو دنیا کی مثالی پولیس بنا دیا ہے اور سیاسی مداخلت ختم کردی ہے، حقیقت یہ ہے کہ کے پی پولیس ہر دور میں مثالی رہی ہے، ایوب خان مرحوم بھی اس خطے کی پولیس کی تعریف کیا کر تے تھے، جنرل ضیاء الحق تو کھل کر اس صوبے کی پولیس کی تعریف کرتے تھے، یہ تعریف محض لفاظی نہیں تھی بلکہ سچائی کی بنیادوں پر مبنی تھی۔ بہرحال پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت میں پولیس کی اسی شکایت پر پولیس ریفارمز کا فیصلہ ہوا جس کا عمران خان نے خوب ڈھنڈورا پیٹا کہ وہ ایک انقلاب لے آئے ہیں، اس انقلاب کے پس وپشت ناصر درانی کا ہاتھ تھا چنانچہ پنجا ب کیلئے انہیں اسی بنیاد پر ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔عمران خان جو آج تک یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ کے پی پولیس مثالی بنا دی ہے اگر جائزہ لیا جائے تو پولیس کے وسائل بڑھا دینا، جدید آلات سے آراستہ کر دینے سے کارکردگی میں فرق تو ضرور پڑتا ہے مگر ایسی بھی مثالی کارکردگی سامنے نہیں آئی کہ ملک بھر کی دیواروں پر اس کو بے بدل کامیابی قرار دینے کی پرچیاں آویزاں کر دی جاتی ہیں۔ کے پی پولیس کے ایک سابق اعلیٰ افسر سید اختر علی شاہ نے اپنے ایک مضمون پولیس میں ریفارمز، کتنی حقیقت، کتنا فسانہ میں کچھ حقائق بیان کئے ہیں۔ یہ حقائق اس لئے سچے ہیں کہ یہ ایک ایسے پولیس آفیسر کے رشحات قلم ہیں جو تین دہائیوں تک پولیس محکمے سے وابستہ رہے ہیں۔ ہوم سیکرٹری اور آئی جی پولیس رہے ہیں۔ انہوں نے پچھلے دو ادوار کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے، وہ رقم طراز ہیں کہ صوبے میں اے این پی کے دور حکومت میں عسکریت پسندی عروج پر تھی، ان عسکریت پسندوں نے تذبذب کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے متوازی حکومت کھڑی کر دی تھی جو ریاست کیلئے کھلا چینج تھا۔ اے این پی کی حکومت نے گزشتہ پندرہ سالوں کے مقابلے میں پولیس بجٹ کو بام عروج دیا۔ پو لیس کی نفری جو پہلے چھبیس ہزار تھی وہ بڑھا کر پچھتر ہزار کی گئی، پولیس کو اپنے ترقیاتی کام خود کرنے کا اختیار دیا گیا، اے این پی نے پولیس کی استعداد کارکردگی بڑھانے کیلئے فوج کی مدد سے تربیت کا اہتمام بھی کیا۔ اے این پی کے دور میں پولیس کے محکمے کو انتہائی جدیدبنیادوں پر استوار کر دیا گیا تھا، پی ٹی آئی کے دور میںکیا ہوا جس کے پھریرے لہرائے جاتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی پارٹی کے منشور میں بھی لکھا ہے کہ صوبوں میں امریکا کے شیرف طرز کا پولیس نظام رائج کیا جائے گا، ایسا کچھ دیکھنے میں نہیں آیا۔ تحریک انصاف کے دور میں پولیس نفری میں صرف نوفیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ اس سے پچھلے دور میں ایک سو پینتیس فیصد اضافہ کیا گیا تھا، 2015-16 میں بجٹ کم ترین سطح پر رہا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ جہاں تک سیاسی مداخلت کا تعلق ہے تو یہ بہت درست اقدام ہے کہ پولیس محکمے کو سیاسی اثر ورسوخ سے قطعی پاک ہونا چاہئے مگر عوام سیاسی اثر ورسوخ کی طرف کیوں مائل ہوتے ہیں ا س کی وجوہ کا جاننا ضروری ہے۔ عوام کو پولیس کے طرزعمل سے جو پہلے شکایت تھی وہ اب بھی ہے، نام کی تبدیلی سے کارکردگی تبدیل نہیں ہوا کرتی۔