Daily Mashriq


میں خوش نہیں ہوں ابھی اپنا گھر لٹا کر بھی

میں خوش نہیں ہوں ابھی اپنا گھر لٹا کر بھی

پاکستان کونسل برائے تحقیقات آبی وسائل وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ذیلی ادارہ ہے۔ اس ادارے نے جو رپورٹ منرل واٹر کے حوالے سے جاری کی ہے اس رپورٹ میں 9برانڈز کے نمونے کیمیائی اور جراثیمی طور پر آلودہ پائے گئے۔ ان برانڈز میں پیورواٹر‘ ایلین پلس‘ کرسٹل مایا‘ پلس پیاس‘ 3سٹار‘ ڈورو‘ رئیل پلس‘ پیوراٹ اور ایکواصاد کے نام شامل ہیں۔ کونسل وزارت کی ہدایت پر بوتلوں میں بند پانی کی کوالٹی کو مانیٹر کر رہی ہے۔ جولائی تا ستمبر سہ ماہی میں اسلام آباد‘ راولپنڈی‘ پشاور‘ ملتان اور لاہور سمیت مختلف شہروں سے منرل واٹر کے 118برانڈز کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ اس تجزئیے کے مطابق درج بالا 9برانڈز کے نمونے آلودہ پائے گئے۔ ان میں ایک نمونہ پیاس پلس میں سنکھیا کی مقدار عالمی معیار سے زیادہ PPB 15 تک تھی۔ پینے کے پانی میں سنکھیا کی زیادہ مقدار کی موجودگی بے حد مضر صحت ہے۔ اس کی وجہ سے پھیپھڑوں‘ مثانے‘ جلد‘ پراسٹیٹ‘ گردے‘ ناک اور جگر کا کینسر ہوسکتا ہے جبکہ بلڈپریشر‘ شوگر‘ گردے اور دل کی بیماریاں پیدائشی نقائص اور بلیک فٹ جیسی بیماریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح تین نمونے ایلین پلس‘ کرسٹل مایا اور ایکواصاد جراثیم سے آلودہ پائے گئے جو ہیضہ‘ ڈائریا‘ پیچس‘ ٹائیفائیڈ اور یرقان کا باعث بنتے ہیں۔ 4برانڈز پیورواٹر‘ 3سٹار‘ ڈورو اور رئیل پلس کے نمونوں میں سوڈیم کی مقدار معیار سے زیادہ یعنی 60 سے لیکر PPM 115 پائی گئی۔ پیوراٹ کے نمونے میں فلورائیڈ کی مقدار عالمی معیار سے زیادہ یعنی ایک اعشاریہPPM 8 پائی گئی۔ اس صورتحال پر یار طرحدار سجاد بابر نے حواس گم ہونے کے حوالے سے جو تصویر کشی کی ہے ذرا وہ ملاحظہ کیجئے۔

رات عجیب غول کا شہر سے یوں گزر ہوا

اس کی بیاض جل گئی، اس کے لباس گم ہوئے

ہم تو خراب شہر ہیں‘ شہر بھی کونسے ٹھیک ہیں

جس کو ذرا خیال تھا اس کے حواس گم ہوئے

وہ جو عالمی سطح پر ایک بیانیہ اقوام عالم کو پریشان کئے دے رہا ہے یعنی کہا جا رہا ہے کہ آنے والی صدی پانی پر جنگ کی صدی ہوگی بلکہ دیکھا جائے تو یہ جنگ شروع ہو چکی ہے اور ہمارے ہاں بھارت کے حوالے سے یہ نظریہ کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے کہ اس نے اپنے حصے کے دریاؤں کے علاوہ اب ہمارے دریاؤں پر بھی قبضہ جمانے اور ہمیں پانی سے محروم کرنے کیلئے ڈیمز اور آبی ذخائر تعمیر کرنا شروع کردیئے ہیں اور ہمارے دریاؤں کا رخ موڑ کر بالآخر ہمیں پانی سے محروم کرکے خدانخواستہ صومالیہ بنا دے گا جبکہ دنیا بھر میں پینے کے صاف پانی کیلئے جو اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں ہم ان سے کوسوں دور ہیں۔ اس لئے لگتا یوں ہے کہ ہمارے ساتھ پانی پر جنگ کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہوگا کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ ہم نے وہ نصف ایمان کھو دینے کیلئے بھی عملی اقدامات کب سے شروع کر رکھے ہیں جن کے بارے میں موجود ارشادات پر ہم نے توجہ ہی چھوڑ دی ہے یعنی اس نصف ایمان کا تعلق چونکہ صفائی ستھرائی سے بتایا گیا ہے اس لئے ہم نے ضد میں آکر ان احکامات کو بھی تج دیا ہے۔یہاں تک کہ گھروں کے غسل خانوں سے برآمد ہونے والے فضلے کو بھی نہروں میں بہا کر ان صاف پانی کے ذرائع کو آلودگی سے بھر دیا ہے۔ جن علاقوں میں چھوٹے بڑے کارخانے قائم ہیں وہاں ان کارخانوں کا فضلہ بھی جو خطرناک کیمیکلز کا مجموعہ ہوتا ہے قریبی آبادیوں کے قریب بڑے میدانوں میں جمع ہوتا رہتا ہے اور یہ آلودہ بلکہ زہرآلود پانی زیرزمین جا کر پورے علاقے کو زہریلا کر دیتا ہے اور اگر گھروں میں کنویں یا دوسرے ذرائع سے زمین کے نیچے سے پانی کھینچا جاتا ہے تو یہ پانی اس قدر زہرناک ہوتا ہے کہ جن بیماریوں کا اوپر کی سطور میں ذکر آیا ہے ان کو انسانوں کو لاحق ہونا کوئی مسئلہ ہی نہیں گویا ہم خود بیماریوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ایک بیمار معاشرے کے پنپنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسلئے اس آلودہ پانی کے اوپر ہم سے آکر کوئی جنگ کرے گا تو اس سے بڑا بے وقوف کون ہوسکتا ہے۔ بقول ریاض مجید

ابھی تو میرے بکھرنے کا کھیل باقی ہے

میں خوش نہیں ہوں ابھی اپنا گھر لٹا کر بھی

یہ غالباً پہلی بار ہے کہ متعلقہ ادارے نے مکمل تفصیل کیساتھ ان برانڈز کے نام بھی الم نشرح کر دئیے ہیں جن کے منرل واٹر آلودہ بھی ہیں اور خطرناک بھی ورنہ اس سے پہلے کئی بار سپریم کورٹ کی جانب سے بعض ایسے ہی برانڈز پر پابندی عائد کئے جانے کے باوجود کبھی ان کے بارے میں یوں تفصیل سامنے نہیں آسکی بلکہ خبر تو آجاتی تھی مگر برانڈز کا تذکرہ موجود ہی نہیں ہوتا تھا اور کچھ عرصہ خاموش رہ کر وہی فیکٹریاں دوبارہ اپنا کاروبار شروع کرکے عوام کو زہر بیچنا شروع کر دیتیں اور عوام کو پتہ ہی نہ چلتا کہ کون سی بوتلوں میں زہر آلود پانی ہے۔ بہرحال صرف ان کارخانوں کے بارے میں خبر جاری کرنے سے ہی پاکستان کونسل برائے آبی تحقیقات کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس قسم کے کارخانوں پر پابندی بھی لگوا دینی چاہئے جو بوتلوں میں موت بھر کر عوام کو خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کالم کے اختتام پر ایک اور گزارش جناب چیف جسٹس سے یہ کہ سیاہ شاپر بھی جو ماہرین کے مطابق کینسر کا باعث ہیں پر پابندی لگانے کے باوجود دھڑلے سے فروخت کرکے جو لوگ تجوریاں بھر رہے ہیں ان کیخلاف بھی اقدام ضروری ہے کیونکہ ان تاجروں اور صنعتکاروں کو خوف خدا تو چھوکر بھی نہیں گزرا تو کیا جناب چیف جسٹس اس جانب توجہ دیں گے؟

متعلقہ خبریں