Daily Mashriq

مایوسی کسی صورت جائز نہیں

مایوسی کسی صورت جائز نہیں

اسلام کی تعلیمات کا کمال یہ ہے کہ یہ کسی صورت انسان کو مایوس نہیں ہونے دیتیں۔ دنیا کے سارے سہارے معدوم ہونے لگیں‘ وسائل کم پڑنے لگ جائیں پھر بھی مسلمان کے دل میں اللہ پر ایمان اس کو مایوسی کی تاریکیوں میں ڈوبنے سے بچائے رکھتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے نااُمیدی کسی صورت مسلمان کی شان نہیں۔ پاکستان میں آج کل نئی حکومت اور پاک افواج کیخلاف پاکستان کے بدترین دشمنوں نے بدترین ففتھ جنریشن وار شروع کی ہے۔ کسی بھی ملک کو اندر سے کمزور کرنے کیلئے اس قسم کی جنگوں میں سب سے پہلے اس ملک کے دفاع کرنے والوں( افواج) کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا جاتا ہے اور اس قسم کے پروپیگنڈے کیلئے نوجوانوں کو منتخب کیا جاتا ہے۔

پاک افواج نے گزشتہ ایک عشرے سے جس طرح پاکستان پر مسلط کردہ دہشتگردی کی جنگ میں دشمنوں کے مذموم ومسموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اس نے دشمنان پاکستان کو اپنا پینترا بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ویسے تو بہت پہلے کچھ سیکولر اور لبرل طبقات جس میں بائیں بازو کے دانشور اور صحافی شامل تھے پاک افواج کیخلاف یہ پروپیگنڈا کرتے آئے ہیں کہ ملک کا اسی فیصد بجٹ دفاع پر اٹھ رہا ہے اور سویلین کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بہتری اور تعلیم وصحت کیلئے وسائل کی کمی اسی سبب سے ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی لغو قسم کے فلسفے بگھارے جاتے رہے ہیں لیکن آج کل بعض نوجوان طلبہ وطالبات اور بالخصوص گزشتہ مہینوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے نام پر جو کچھ تعلیمی اداروں کے نوجوان طلبہ کے اذہان میں انڈیلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ان کے لہجے‘ اسلوب

‘ الفاظ اور اصطلاحات سے صاف نظر آرہا تھا کہ اس کا خمیر کہاں سے اُٹھا ہے اور اس کے ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں اور اس کی تان کس پر ٹوٹتی ہے۔ پاک افواج کے پبلک ریلیشن ڈیپارٹمنٹ کو چاہئے کہ تعلیمی اداروں‘ کالجوں اور جامعات کے طلبہ کو سیمینارز اور کانفرنسوں کے ذریعے اس مکالمے (Debate) میں شامل کرلیں کہ پاک افواج کا ملک کے دفاع میں کیا کردار ہے اور کن مشکل اور جاں گسل حالات میں پاک افواج کو کن کن محاذوں پر کس کس طرح لڑنا پڑتا ہے اور ان کے رہن سہن‘ کھانا پینا اور دیگر معاملات کے بارے میں بتایا جائے تاکہ سہل پسند نوجوانوں کو معلوم ہو جائے کہ چالیس پچاس ہزار کی ماہوار تنخواہ پاتے ہوئے جو اس نوجوان کے والدین اور بیوی بچوں کی کفالت کا ضروری حق ہے کس مجاہدانہ کردار کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور اپنے سے ہر لحاظ سے تین گنا افواج کا مقابلہ کرنے کیلئے بغیر مایوسی اور تردد کے ہردم تیار سرحدوں پر تیار رہتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ جس ملک کی اپنی مضبوط فوج نہیں ہوتی وہاں دوسرے ملکوں کی افواج در آتی ہیں اور کسی کی یہ بات تو سونے سے لکھنے کے قابل ہے کہ ’’کسی بھی قوم پر کاری ضرب لگانے کا پہلا طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کی فوج کو اس قوم کی نظروں میں اتنا مشکوک بنا دو کہ وہ اپنے ہی محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے‘‘۔ وطن عزیز کے مشرقی حصے میں ہمارا دشمن ایک دفعہ اس میں کامیاب بھی ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان مرحوم ہو کر بنگلہ دیش میں ڈھل گیا اور آج اتنی مدت گزرنے کے بعد حال یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ ہیں اس لئے اپنی پاک افواج پر اعتماد کرنا اور ان کا بحیثیت جانباز وطن احترام کرنا ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہونا چاہئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا آج ہمارے کل پر قربان کرنے کیلئے ہر وقت چاک وچوبند ومستعد رہتے ہیں۔ یہ وہ بے لوث مجاہد ہیں جب رات کو ہم سب سوتے ہیں تو یہ ہماری حفاظت کیلئے جاگتے ہیں۔

اسی طرح کوئی بھی ملک مضبوط معیشت کے بغیر اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔ پاک افواج کو بہترین عسکری ضروریات کی فراہمی کیلئے مضبوط اکانومی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری گزشتہ دو حکومتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) نے بھاری قرضے لیکر ملک کو جس معاشی ہیجان میں مبتلا کرکے چھوڑا ہے موجودہ حکومت سرتوڑ کوشش میں ہے کہ ان مشکل ترین معاشی حالات سے نکلے۔ اس کیلئے جو ضروری اقدامات ہیں ان میں سرفہرست کرپشن اور منی لانڈرنگ کاخاتمہ ہے۔ ملک کی وہ مافیا جو ان میں ملوث ہے ان اقدامات سے بلبلا اٹھا ہے۔ منی لانڈرر اور مافیا سٹاک مارکیٹ سے دھڑا دھڑ اپنا پیسہ نکلوا کر حکومت کو کمزور کرانے اور ڈرانے کی نیت سے وہ سب کچھ کر رہا ہے جو ان کو موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے بھاری ہاتھ سے بچا سکیں۔ لہٰذا گھبرانے اور مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں‘ میدان جنگ میں گھوڑے تبدیل نہیں کیا کرتے۔ بعض اقتدار کے عادی سیاستدانوں نے مافیاز کیساتھ ملکر حکومت اور پاک افواج کو ایک صفحہ پر دیکھ کر دونوں کیخلاف شدید ترین پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دو سیاستدانوں نے سوشل میڈیا پر چلے ہوئے ایک ویڈیو کلپ کا حوالہ جس میں ایک باوردی ڈرائیور کی گود میں بندر سٹئرنگ پر ہاتھ رکھے ہوئے بڑے ذوق وشوق سے دیتے ہیں اس کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز کیخلاف کس پائے کی ففتھ جنریشن وار برپا ہے لیکن یاد رکھئے قیام پاکستان کے وقت بھی یہی صورتحال تھی لیکن قائداعظم کے دل میں رتی برابر شک ومایوسی نہیں تھی۔ مجھے کامل اور واثق یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو بہت جلد ان مشکلات سے نکال کر اچھے وقت سے ہمکنار کرنے والا ہے۔

متعلقہ خبریں