Daily Mashriq

سوشل میڈیا…اخلاقی زوال کی آخری حد پر

سوشل میڈیا…اخلاقی زوال کی آخری حد پر

جدید ذرائع ابلاغ نے خبروں اور معلومات کی تیزرفتار ترسیل واشاعت میں جہاں بے پناہ سہولتیں پیدا کی ہیں وہاں سماجی و اخلاقی بگاڑ اور زوال میں بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ایک زمانے تک ابلاغ کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ ''اخبار'' تھا۔ اخباری صحافت میں خبر کی ترتیب اور کالم و مضامین کے انتخاب میں ایڈیٹرز کو پتہ پانی کرنا پڑتا تھا۔ ایک ایک لفظ پر غور ہوتا تھا، ایک ایک جملے کی نوک پلک درست کی جاتی تھی اور کوئی اخبار اپنے معیار سے گرا ہوا ایک لفظ بھی شائع کرنے کا روادار نہ تھا۔ زبان دانی اور مہذب اظہارِخیال سیکھنے کیلئے اداریے اور کالم پڑھنے کے مشورے دیئے جاتے تھے۔ اخبارات کے اداریے سنجیدگی، متانت اور ممکنہ حد تک غیرجانبداری کے آئینہ دار ہوا کرتے تھے۔ غرض اخبار ایک ایسا مہذب و شائستہ ذریعہ ابلاغ تھا جو شرفاء کے گھروں کی ایک لازمی ضرورت سمجھا جاتا تھا۔

ذرائع ابلاغ کی اس شستگی اور شائستگی کو پہلی زک الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ پہنچی کہ جہاں زبان و بیان کی نزاکتوں سے ناآشنا، لہجوں کی لطافت سے بے خبر، غیر تربیت یافتہ بلکہ غیر مہذب و ناشائستہ افراد کا ایک ہجوم چیختا چلاتا اور چنگھاڑتا ہوا برآمد ہوا اور ابلاغ کی اونچی مسندوں پر براجمان ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں تعلیم، تہذیب اور زبان دانی کے بجائے شکل و صورت اور بلاسوچے سمجھے بے تکان بولنے کی صلاحیت کو معیارِ انتخاب بنایا گیا تھا۔ سٹوڈیوز میں مہمانوں کو باہم لڑوانے اور ان کے اختلافِ رائے کو بڑی ہوشیاری سے مارکٹائی تک پہنچا کر ریٹنگ حاصل کرنے والے اینکرز کو جب اس مشغلہ میں یکسانیت کا احساس ہوا تو ''کام'' کے نئے میدانوں کی تلاش میں وہ ہاتھ میں مائیک تھامے باہر نکل آئے۔ اب وہ کہیں بھی جا دھمکتے اور اگلے بندے سے تحقیق و تفتیش کرتے ہوئے اس طرح پیش آتے کہ الامان و الحفیظ۔الیکٹرانک میڈیا ابھی فکری طور پر نابالغ ہی تھا کہ سوشل میڈیا کی صورت میں ایک ایسا پرکشش (Attractive)ذریعہ ابلاغ متعارف ہوا کہ جس میں ہر فرد اینکر بھی بن سکتا ہے اور کالم نگار بھی، خبر نویس بھی اور رپورٹر بھی، کارٹونسٹ بھی اور تجزیہ کار بھی۔ غرض ابلاغ و صحافت کی جملہ اصناف پر ہر ہر شخص کو یکا یک قدرت حاصل ہو گئی اور نتیجتاً ہماری تربیت اور اخلاقی حالت کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں آ گئی۔اب اس بازار کی وہ حالت ہو گئی ہے کہ اس میں داخل ہونے والے کو یوں لگتا ہے کہ وہ غلاظت کے ایک ڈھیر پر سے گذر رہا ہے۔ناک پر ہاتھ رکھ کر، دیکھ بھال کر، بچتے بچاتے ایک انسان بے سند معلومات کے اس جنگل میں داخل ہوتا ہے تو گالی گلوچ الزام و دشنام اور غیراخلاقی وغیر مہذب ہنگام کے ایک طوفانِ بدتمیز ی کا بازار ہمہ وقت گرم دیکھتا ہے۔

اگر آپ نے گزشتہ چند ماہ میںٹوئیٹر کے ٹاپ ٹرینڈز کو دیکھا ہو تو آخری درجے کی اخلاقی گراوٹ اور گالی گلوچ پر انسان کی پیشانی شرم سے عرق آلود ہو جائے۔ کون سی گندی سے گندی گالی ہے جو نہیں دی جا رہی اور لعنت و ملامت کی لغت ہائے قارون کا کون سا لفظ ہے جو بے تکان استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ اس میں نہ خواتین کی حرمت کا خیال ہے اور نہ بڑے بوڑھوں کے تقدس کا، نہ علماء کا وقار پیشِ نظر ہے اور نہ استاد کا مقام و مرتبہ۔ ہر شخص گالیوں کی بوچھاڑ قلم کی نوک پر رکھے تیار بیٹھا ہے اور جہاں معمولی اختلاف رائے آیا وہاں وہ طوفانِ بدتمیزی برپا ہوا کہ توبہ توبہ۔

عدم برداشت، بدتہذیبی اور انتہا پسندی کی یہ صورتحال اس سماج کے لیے غیر معمولی طور پر پریشان کن ہونی چاہیئے اور اہل نظر وفکر کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ اس کا سدباب کیا جاسکے۔ والدین، اساتذہ اور تعلیمی و تربیتی اداروں کو اس مسئلہ کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہوئے مہذب اور شائستہ رویوں کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اسی طرح ریگولیٹری اتھارٹیز کو بطور خانہ پری فقط ایک ضابطہ اخلاق کے اجراء پر ہی مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہئے بلکہ مکمل نگرانی کا نظام اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری کو عملاً نافذ کرنا چاہئے۔سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کی تربیت پر خاص توجہ دینی چاہئے اگر سیاسی جماعتوں نے کارکنوں کی تربیت پر توجہ نہ دی تو خدشہ ہے کہ یہ نوجوان خود اپنی جماعتوں کیلئے خطرناک ثابت ہوں اور اپنی جماعتوں کیلئے بھی ایک چیلنج بن جائیں ،سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ارباب دانش کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی بجائے اپنے حصے کی شمع روشن کرکے قوم کے نونہالوں کی درست سمت رہنمائی کریں، یاد رکھیں اگر آج ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اخلاقیات کا درس نہ دیااور سوشل میڈیا کی تباہ کاریوں سے انہیں آگاہ نہ کیا تو پھر ہمارے پاس اپنی نسل نو کے مستقبل پر پچھتاوے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔سوشل میڈیا کو کیسے مفید بنا کر اس کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے اس پر اگلے کالم میں چند گزارشات پیش کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں