Daily Mashriq


تکمیل انضمام کے تقاضے اور ذمہ داریاں

تکمیل انضمام کے تقاضے اور ذمہ داریاں

وزیراعظم عمران خان نے یقین دلایاہے کہ وفاقی حکومت قبائلی اضلاع کے لئے ترقیاتی منصوبوں کے لئے درکار فنڈزسے زائد وسائل مہیا کرے گی۔منگل کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدرات قبائلی علاقوں کے انضمام کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں قبائلی علاقہ جات کے انضمام کے حوالے سے پیش رفت اور اب تک اٹھائے جانے والے انتظامی و قانونی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور فاٹا انضمام اور قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے اہم فیصلے کئے گئے ۔اجلاس سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائل کے رسم و رواج کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نئے نظام کے نفاذ کو قابل عمل بنایاجائے، نئے نظام کے اطلاق میں قبائلی عوام کی مشاورت یقینی بنائی جائے، قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کے لئے روزگار کی فراہمی کے مزید مواقع یقینی بنائے جائیں،اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ انتظامی اقدامات کے نتیجے میں کوئی فرد بے روزگار نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے ترقیاتی پیکج کے حصول کے لئے وفاقی حکومت اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے گی۔قبائلی علاقہ جات کے انضمام کو عملی شکل دینے اور اسے یقینی بنانے کے لئے اعلیٰ سطحی مشاورت میں گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت اہم عہدیداروں کی شرکت ایک سنجیدہ عمل ہے جس سے فاٹا کے انضمام کو عملی شکل دینے کی راہ ہموار ہونے کی سنجیدگی سے توقع ضرور ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اب تک اس سلسلے میں سوائے اعلان کے اور چند ایک انتظامی تبدیلی کی صورت میں نئی بوتل میں پرانی شراب ڈالنے کے مصداق ہی معاملات نظر آئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات میں جتنا جلد ممکن ہوسکے بلدیاتی نظام کا قیام عمل میں لایا جائے‘ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور اس کے بعد دوسرے مرحلے پر صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد کیاجائے تاکہ قبائلی اضلاع کو مقامی اور صوبائی سطح پر حکومت اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملے جس کے بعد ہی عوام سے ان نمائندوں کی وساطت سے جہاں روابط استوار کرکے ان کی رائے معلوم کی جاسکے گی اور مشاورت کے لئے موزوں افراد اور عوامی نمائندے میسر آئیں گے وہاں قبائلی عوام اپنی آواز ایوانوں میں بلند ہوتے دیکھ کر فطری طور پر ایک فرسودہ نظام سے نئے نظام کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی عوام کی انضمام کے ساتھ وابستہ توقعات کو سمجھنا اور ان توقعات پر پورا ترنے کی سعی اس لئے زیادہ اہم معاملہ ہوگا۔ فطری طور پر کوئی بھی نیا قدم ابتداء میں مشکلات کا باعث بھی محسوس ہوتا ہے اور خوش آئند تاثرات کا بھی باعث بنتا ہے اس لئے اس نظام کو ابتداء ہی میں اس طرح سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے کہ عام قبائلی بھائیوں کے لئے یہ خوشگوار تاثرات کا باعث بنے ان کو اس طرح کا تاثرکسی صورت نہیں ملنا چاہئے کہ ان کی محرومیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ قبائلی علاقوں کے حوالے سے ایف سی آر اور اس کی بعض بد ترین شقوں کے خاتمے کو ہی کافی نہیں سمجھا جانا چاہئے بلکہ ان کو فعال عدالتی نظام‘ فعال انتظامیہ‘ فعال بلدیاتی نظام سمیت صحت‘ تعلیم اور شہری سہولتوں کے ضمن میں حقیقی معنوں میں تبدیلی اور سہولیات کی فراہمی کی صورت میں انتظامات سے روشناس کرایا جائے۔ اس مقصد کے لئے سب سے پہلے وفاقی حکومت کووہ وسائل مہیا کرنے ہوں گے جن کااعلان کیاگیا تھا اور خاص طور پر انضمام کے بعد این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کا حصہ اتنا بڑھایا جائے جس سے قبائلی علاقہ جات کے عوام کے مسائل حل ہوں لیکن یہاں جو قانونی پیچیدگی آڑے آئے گی اس کی موجودگی میں صوبے میں وسیع و عریض اور پسماندہ علاقہ تو شامل ہوگا جس کی آبادی کے لئے کہیں زیادہ وسائل درکار ہوں گے مگر چونکہ قبائلی اضلاع کی آبادی کے تناسب سے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حصے میں اضافہ ہوگا اس لئے یہ حصہ جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق ہی ہوگا بقدر اشک بلبل جو وسائل دئیے جائیں گے اس سے صوبے کی حکومت کے لئے قبائلی اضلاع کے عوام کے مسائل کا حل کسی طور ممکن نہ ہوگا۔ فاٹا سیکرٹریٹ کے خاتمے اور محکموں کے انضمام سے فاٹا کے درجنوں پراجیکٹس کے ملازمین کا روزگار ختم ہونے سے بیروزگاری میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس ضمن میں سوچ بچار کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کے نئے گورنر شاہ فرمان کو ایک ایسے نازک وقت میں عہدہ ملا ہے جس میں بیک وقت سیاسی معاملات اور قبائلی عوام کے معاملات دونوں کا ادراک کرتے ہوئے انضمام کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ اس ضمن میں مثبت امر یہ ہے کہ گورنر شاہ فرمان کو سیاسی مصلحتوں سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران تو پوری طرح سے آشنائی حاصل رہی البتہ قبائلی امور میں ان کو احتیاط اور مشاورت کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ وفاق میں صوبے کے گورنر کے طور پر نمائندگی کرسکیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو بھی دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں ایک زائد شعبے اور اہم معاملے کو نمٹانے کی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور وفاق کے ہر فورم خاص طور پر این ایف سی ایوارڈ کے اجلاسوں میں قبائلی اضلاع کے لئے وسائل کے حصول کی تگ و دو کرتے ہوئے مدلل انداز سے معروضات پیش کرنے کی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ وفاق میں اہم عہدوں پر ا یسے عہدیدار موجود ہیں جو نہ صرف اسی صوبے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ صوبے میں اور سابقہ فاٹا میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خدمات کی انجام دہی کا ان کو تجربہ بھی ہے اور وہ معاملات کی نزاکت اور ضرورتوں سے بھی واقف ہیں۔ اس سارے عمل میں قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے اراکین کابینہ ‘ سینیٹرز اور اراکین قومی اسمبلی پر بھی دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انضمام کے عمل کی تکمیل کے دوران اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بھرپور طریقے سے صوبے کے عوام کی نمائندگی کرکے انضمام کے عمل کی تکمیل کو احسن طریقے سے ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں