Daily Mashriq


بیگم کلثوم نواز کا سانحہ ارتحال

بیگم کلثوم نواز کا سانحہ ارتحال

ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور جب حیات کا آخری لمحہ آتا ہے تو اس میں نہ تقدیم کی گنجائش ہوتی ہے نہ تاخیر کی۔ جس کی قضا جس وقت اور جہاں کاتب تقدیر نے لکھی ہوتی ہے وہیں پر اجل آکر دنیا سے زندگی کی ڈور ہمیشہ ہمیشہ سے کاٹ دیتا ہے۔ تین مرتبہ خاتون اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز شریف کی بھی روح اس طرح قبض کرلی گئی جس طرح کسی عام انسان کی روح قبض کرلی جاتی ہے۔ شاہانہ زندگی گزارنے والی سادہ اور نرم دل خاتون بیگم کلثوم نواز اب اس دنیا میں نہیں رہیں وہ طویل عرصہ تک کینسر کے موذی اور تکلیف دہ مرض سے لڑتی رہیں آج وہ ہم میں نہیں رہیں لیکن انہوں نے اپنے خاندان کو مشکل حالات میں جو سہارا دیا اور مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرتے ہوئے جدوجہد کی جو باب رقم کی مشرقی اور پاکستانی سیاست میں ان کا شمار ان تین خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل حالات میں سیاسی جدوجہد کی تاریخ رقم کی۔ کلثوم نواز کی یہ ایک خوبی ان کی پوری زندگی پر حاوی سمجھی جاتی ہے جس کے سیاسی مخالفین بھی معترف ہیں اور روایتی سیاست میں بھی کسی نے ان کی ذات کو نشانہ نہیں بنایا۔ وزیر اعظم ہائوس کے مکین ہو کر بھی ان کی وضعداری میں فرق نہ آیا اور نہ ہی ان کا نام حکومتی معاملات میں مداخلت میں لیا گیا حالانکہ ان کے شوہر ہر اہم معاملے میں نہ صرف ان کی رائے لیتے تھے بلکہ ان کی رائے کو وقعت اور اہمیت بھی دیتے تھے۔ بیگم کلثوم نواز کی علالت کے ساتھ ہی شریف خاندان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا گیا ان کے خاوند‘ بیٹی اور داماد پیرول پر عارضی رہائی حاصل کرکے ان کے سفر آخرت کے لمحات میں شریک ہیں۔ ممبر پنجاب اسمبلی سے صوبائی وزیر خزانہ ‘ وزیر اعلیٰ پنجاب اور تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے والے شخص کے لئے اس سے بڑھ کر دکھ کے لمحات کیا ہوں گے کہ وہ اپنی شریک حیات کی بیماری کے دنوں میں ان کے سرہانے موجود نہ ہوسکے۔ ان کی صاحبزادی سلاخوں کے پیچھے رہ کر والدہ کے لئے کتنی بار اشکبار ہوئی ہوں گی ان کے غم و اندوہ کا اندازہ نہیں۔ ان کے صاحبزادے شاید ان کو لحد میں اتارنے وطن واپس نہ آسکیں بالکل اسی طرح جس طرح ان کے والد نواز شریف اپنے والد بزرگوار کی تدفین کے وقت وطن واپس نہ آسکے تھے۔ سیاست میں کامیابی کے دن ہوں یا بادشاہی کے ایام عیش و عشرت ہوں یا عسرت چند روزہ زندگی کے ایام گزر ہی جاتے ہیں سوچنا اور غور کرنا چاہئے کہ ہم نے کہیں کسی کی حق تلفی تو نہ کی کسی کا حق تو نہیں مارا جس کا حساب اس جہاں میں دینا مشکل ہو۔ کلثوم نواز کی وفات جن حالات میں ہوئی ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ اور سبق ہے اس دنیائے فانی سے ایک نہ ایک دن سب نے جانا ہے۔ یہ سیاست یہ شہرت یہ حکومت اور یہ بادشاہت دولت و ثروت جاہ و حشم سب عارضی چیزیں ہیں انسان کا نیک عمل ہی اس کی فلاح کا ضامن ہے۔ غم و اندوہ کی اس گھڑی میں ہم سب شریف خاندان کے ساتھ ہیں۔ آج وہ لوگ بھی تاسف کا اظہار کر رہے ہیں جو ان کی بیماری پر بھی سیاسی و دل آزار بیانات دے چکے تھے۔ جن لوگوں نے کلثوم نواز مرحومہ کی بیماری کو تنقید اور سیاسی بیانات کا موضوع بنایا تھا اگرچہ اب وہ ندامت کا اظہار کر رہے ہیںوہ اپنی جگہ لیکن زبان کا گھائو مشکل ہی سے بھرتا ہے ۔ بیماری اور سخت حالات قدرت کی طرف سے بندوں کا امتحان ہوتے ہیں اور راتوں رات حالات کے تبدیل ہوتے صحت کی بیماری میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔ لہٰذا اس قسم کے لمحات میں استہزاء کا رویہ اختیار کرنے سے گریز کرنا ہی عقل مندی اور اخلاق کا تقاضا ہے۔ایسے مواقع ہی ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ انسان فانی ہے بقاء صرف اور صرف ایک ذات لا شریک کو ہے۔ اس فانی کو جس نے فانی گردانا وہی کامیاب ہوا اور جس نے دنیا سے امیدیں وابستہ کرلیں وہ خسارے میں رہا۔ رب کائنات بیگم کلثوم نواز کی بشری غلطیاں معاف فرمائے اور ان کو اپنے فضل و کرم سے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر کی توفیق دے۔ (آمین)

متعلقہ خبریں