Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

قومی خزانہ اور بیت المال سے خرچ کرنے میں حضرت عمرؓ کس قدر احتیاط کرتے تھے اس کا اندازہ ان واقعات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ایک دفعہ سرکاری سفیر قیصر روم کے پاس جانے لگا تو حضرت ام کلثومؓ نے جو آپ کی چہیتی زوجہ اور حضرت علیؓ کی صاحبزادی تھیں ، سفیر کے ہاتھ قیصر کی ملکہ کے لیے اپنی طرف سے عطر کی چند شیشیاں بطور تحفہ بھیج دیں ۔ قیصر کی ملکہ نے جوابی تحفہ کے طور پر شیشیوں میں جواہرات بھر کر بھیجے ۔ حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو حضرت ام کلثومؓ سے فرمایا کہ اگرچہ عطر تمہارا تھا ، لیکن اسے سرکاری سفیر لے کر گیا اور اس کے مصارف بیت المال سے ادا کئے گئے ۔ لہٰذا یہ جواہرات بیت المال کا حق ہیں ۔ تم صرف عطر کی قیمت لے سکتی ہو ۔ چنانچہ عطر کی قیمت انہیں دیدی اور جواہرات بیت المال میں داخل کر دیئے ۔ سرکاری تحائف کا یہ اصول حضرت فاروق اعظمؓ نے رسول اکرمؐ سے سیکھ کر اپنی بیوی پر جاری کیا ۔

ایک دفعہ حضرت فاروق اعظمؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ نے ایک اونٹ خرید کر سرکاری چراگاہ میں چرنے کے لیے بھیج دیا ۔ جب وہاں چر کر خوب موٹا تازہ ہوگیا تو بازار میں بیچنے کے لیے بھیج دیا ۔ حضرت عمرؓ بازاروں ، منڈیوں میں گھومتے رہتے تھے ۔ جب انہوں نے خوب پلا ہو ا فربہ اونٹ دیکھا تو پوچھا کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہؓ کا ہے ۔ آپؓ نے حضرت عبداللہؓ سے فرمایا کہ چونکہ اونٹ سرکاری چراگاہ میں چرکر موٹا ہوا ہے ۔ اس لیے اتنی ہی قیمت کے حق دار ہو، جتنے میں خریدا تھا ۔ چنانچہ زائد رقم ان سے لے کر بیت المال میں جمع کر دی ۔

بیت المال کے مہتمم نے ایک دفعہ بیت المال کاجائزہ لیا تو صرف ایک درہم موجود تھا ۔ یہ خیال کر کے ایک معمولی درہم بیت المال میں کیوں پڑا رہے حضرت عمرفاروق اعظمؓ کا ایک بچہ جو اتفاق سے وہاں موجود تھا اسے وہ درہم دے دیا ۔معلوم ہونے پر آپؓ بہت خفا ہوئے ، بچے سے درہم لے کرخو دبیت المال میں جمع کرادیا اور مہتمم سے کہا: کیا تمہیں مدینہ میں میری اولاد کے سوائے کوئی غریب نظر نہ آیا؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ قیامت کے دن امت محمدیؐ کا مطالبہ میری گردن پر رہے ؟۔

احساس ذمہ داری کی شدت ملاحظ ہو کہ ایک دفعہ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ۔ آپؓ خود اس کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرنے لگے ۔ عین اس وقت ایک بڑے رئیس اور سردار احنف بن قیسؓ(فاتح خراسان) ملاقات کو آگئے ۔ ان سے کہا کہ بیت المال کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے ، آئو ہم دونوں مل کر تلاش کریں ۔ تم جانتے ہوایک اونٹ میں کتنے غریبوں کا حق ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ’’امیرالمومنین! آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں ، کسی غلام کو حکم دیجئے ، وہ ڈھونڈ لائے گا‘‘۔ فرمایا، مجھ سے بڑھ کر کون غلام ہو سکتا ہے ؟ ۔

(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں