Daily Mashriq


آئی ایم ایف سے رجوع کے امکانات

آئی ایم ایف سے رجوع کے امکانات

وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ اگر پاکستان آئی ایم ایف سے امداد حاصل کرنے کی طرف رجوع کرے گا تو امریکہ اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ یہ تو وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مائیک پومپیو کے نئے مؤقف کے بارے میں کہا۔ نیا اس لیے کہ اسی امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ جولائی میں انتباہ کیا تھا کہ امریکہ کو آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو رقم دیے جانے پر گہرے تحفظات ہیں کیوں کہ اسے تشویش ہے کہ اس طرح امریکی ڈالر پاکستان کی طرف سے چین کے قرضے ادا کرنے کے لیے استعمال ہوں گے۔ مائیک پومپیو کے اس بیان نے پاکستان میں تشویش کی لہر پیدا کر دی تھی جس کا ادائیگیوں کے توازن میں خسارے کے باعث آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان 14بار آئی ایم ایف سے امداد لے چکا ہے اور آخری بار آئی ایم ایف سے 2013ء میں رجوع کیا گیا تھا۔ اگرچہ فواد چودھری کی اس اطلاع کے بارے میں مائیک پومپیو کا کوئی بیان نہیں آیا اور امریکی سفارت خانے نے بھی اس حوالے سے تادم تحریر خاموشی اختیار کیے رکھی ہے تاہم فواد چودھری نے کہا ہے کہ مائیک پومپیو نے یہ بات گزشتہ بدھ کو پانچ گھنٹے کے اسلام آباد کے دورے کے دوران کہی جس میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان ‘ ان کے کابینہ کے ارکان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ مائیک پومپیو کے دورے سے پہلے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ’’ٹوٹ‘‘ چکے تھے لیکن امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے باعث بہت سے چیزیں ہموار ہو گئی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ کن توقعات کی بناپر۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ امریکی وزیر خارجہ کا دورہ نہایت مختصر تھا تاہم اس میں بہت سی ’’چیزیں‘‘ زیرِ غور آئیں اور ہموار ہوئیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا جس سے یہ معلوم ہو سکتا کہ دونوں ملکوں کے قائدین کے درمیان کون سے موضوع زیرِ بحث آئے اور اس بحث کے نتیجے میں ’’ٹوٹے‘‘ ہوئے تعلقات میں کیا بہتری آئی۔وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورے کے بعد یہ خبر تو نہیں آئی کہ بقول وزیر اطلاعات فواد چودھری آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں متوقع رکاوٹ ہٹ جانے کے بعد آئی ایم ایف سے رجوع کیا جا رہا ہے تاہم کابینہ کے ایک رکن عبدالرزاق داؤد کی طرف سے سی پیک منصوبے کے بارے میں وہ بیان آیا جس نے تہلکہ مچا دیا۔ امریکہ کے مؤقر اخبار نیو یارک ٹائمز کو انہوں نے انٹرویو دیا ۔ مشہور فلسطینی دانشور خالد بن سعید کے مطابق نیو یارک ٹائمز امریکہ کی پالیسی سازی میں اثر انداز ہوتا ہے۔ نیویار ٹائمز کے بعد اس انٹرویو کی خبر واشنگٹن پوسٹ میں بھی دی گئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے کیوں اس خبر کو دہرانا ضروری سمجھا یہ بھی قابلِ غور ہے۔ بہرحال عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چین سے آنے والی سرمایہ کاری پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ سابقہ حکومت نے (چین کے ساتھ) غلط معاملت کی۔ انہوں (سابق حکومت) نے اپنا ہوم ورک صحیح طریقے سے نہیں کیا ۔ صحیح طریقے سے معاملت نہیں کی اس طرح انہوں نے بہت کچھ چین کو دے دیا ہے۔ عبدلرزاق داؤد نے چند ہی گھنٹے کے اندر اس بیان کی وضاحت کر دی اور کہا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے الگ کر کے اور توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ (اس کے باوجود واشنگٹن پوسٹ نے نیو یارک ٹائمز کی خبر دہرا دی۔) لیکن کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا۔ چلیے وفاقی حکومت کے مشیر اگر اس خبر کی وضاحت کرتے ہیں تو اس کو تسلیم کیا جانا چاہیے ۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتے ہیں کہ انہوں نے جو ریمارکس دیے وہ ان کی ذاتی رائے تھی یا بطور وفاقی مشیر ان کا بیان تھا۔ اور یہ کہ انہوں نے یہ رائے سی پیک کے معاہدات کے مطالعہ کے بعد قائم کی تھی۔ ان کو حلف مشاورت اٹھائے ابھی چند ہی دن ہوئے اور ایسی کوئی خبر میڈیا میں نہیں آئی کہ سی پیک کے معاہدات پر نظر ثانی کی جارہی ہے اور عبدالرزاق داؤد نظرِ ثانی کرنے والوں میں شامل ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ نئی حکومت کا حق ہے کہ سابقہ حکومت کی کارکردگی اور معاہدات پر نظر ثانی کرے۔ یقینا یہ نہ صرف حق ہے بلکہ فرض ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا نظر ثانی کی جا چکی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس نظرِ ثانی کی بنیاد پر جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کو آشکار کیا جانا چاہیے تاکہ یہ سمجھ میں آ سکے کہ سابقہ حکومت نے کہاں کہاں غلطی کی ہے۔ لیکن عبدالرزاق داؤد نے اگر نظر ثانی ہوئی ہے تو اس پر محض تبصرہ کیا ، اگر نظر ثانی نہیں ہوئی تو بے پرکی اُڑائی ہے۔ جس پر واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں یوٹرن کے امکان کی طرف توجہ مبذول کرا دی ہے۔ اس خبر اور اس بیان کے لیے وقت کا انتخاب اپنے اندر معنی رکھتا ہے ۔ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے منصوبے دونوں ملکوں کے تعلقا ت میں تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ حال ہی میں چین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا تین دن کا دورہ کیا جس میں ان معاملات کے بارے میں طویل بات چیت ہوئی۔ اس دورے اور اس کے ماحصل کے بارے میں خبریں قارئین کی نظروں سے گزر چکی ہوں گی۔ چین نے نہایت فراخدلی سے تمام اشکالات اور ابہامات دور کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اس معاہدے کے ساتھ پاکستان کے عوام کی خوشحالی ‘ استحکام اور قومی وقار کی امیدیں وابستہ ہیں۔ آرمی چیف نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کا معاشی مستقبل ہے ۔ معیشت کے ساتھ بہت کچھ وابستہ ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں