Daily Mashriq


سعودی عرب سے تازہ ہوا کے جھونکے

سعودی عرب سے تازہ ہوا کے جھونکے

پاکستان کی نئی حکومت کی یہ پہلی کامیابی ہے کہ عالمی دنیا کے زعما نومنتخب وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کررہے ہیں جس سے مضبوط سفارت کاری کی راہیں استوار ہوں گی۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان میں اہم امور زیر بحث آنا ،چینی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان میں سی پیک کو توسیع دینے کا منصوبہ اور اس کے بعد سعودی وزیر اطلاعات کا دورہ پاکستان اس بات کی دلیل ہے کہ پوری دنیا نومنتخب حکو مت کے ساتھ تعاون کرنے اور ساتھ چلنے کیلئے تیار ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب لازوال دوستی کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور برادر اسلامی ملک نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور دوستی کا حق ادا کیا ہے۔ سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر کھل کر پاکستان کے مؤقف کی تائید و حمایت کی ہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی وسیع پیمانے پر مدد کی۔ اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کردیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب زدگان کی کھل کر مالی امداد کی، دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔شاہ فیصل کی وفات کے بعد بھی سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی کمزوری نہیں آئی۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو پاکستانی عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا جس سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔2005ء میں آزاد کشمیر و سرحد(خیبرپختونخوا) کے خوفناک زلزلہ اور 2010ء کے سیلاب کے دوران بھی مصائب و مشکلات میں مبتلا پاکستانی بھائیوں کی مدد میں سعودی عرب سب سے آگے رہا او ر روزانہ کی بنیاد پر امدادی طیارے پاکستان کی سرزمین پر اترتے رہے۔سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے تیل کے ذخائرکی دولت سے نواز رکھا ہے اسلامی ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اقتصادیات، تعلیم اور دوسرے موضوعات پر ماہرین کی عالمی کانفرنسیں طلب کرنے جیسے اقدامات کر کے سعودی عرب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان کو حل کرنے کے لیے مشترکہ طریق کار طے کرسکیں۔سعودی عرب کی خارجہ پالیسی جغرافیائی، تاریخی، مذہبی، اقتصادی، امن و سلامتی، سیاسی اصولوں اور حقائق پر مبنی ہے۔ اس کی تشکیل میں سب سے اچھی ہمسائیگی کی پالیسی، دوسرے ملکوں کے داخلی امور میں عدم مداخلت، خلیجی ممالک اور جزیرہ عرب کے ساتھ تعلقات کو مستحکم تر کرنا، عرب اور اسلامی ملکوں کے مفاد عامہ کی خاطر ان سے تعلقات کو مضبوط کرنا، ان کے مسائل کی وکالت کرنا، غیر وابستگی کی پالیسی اپنانا، دوست ممالک کے ساتھ تعاون کے تعلقات قائم کرنا اور عالمی و علاقائی تنظیموں میں مؤثر کردار ادا کرنا شامل ہے۔سعودی عرب کے پاکستان سے تعلقات ہمیشہ بہت مضبوط و مستحکم رہے ہیں۔کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ان رشتوں میں کوئی کمزوری نہیں آئی بلکہ دن بدن ان میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ وطن عزیز پاکستان کا ہر شہری چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو سعودی عرب کا نام سنتے ہی محبت، اخوت اور ایثارو قربانی کا جذبہ اس کے دل میں جاگزیں ہونے لگتا ہے۔اب پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی نئی حکومت آئی ہے تو سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے اور دیگر اہم امور پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ سعودی وزیر اطلاعات نے اپنے حالیہ دورہ کے دوران اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی نئی منتخب حکومت کے دور میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم اور مضبوط ہوں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے بھی کہا کہ سعودی وزیر اطلاعات کے دورہ پاکستان سے دونوں اسلامی برادر ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کو مزید استحکام ملے گا۔ اس موقع پر سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی بھی موجود رہے جو پاکستان میں سفیر تعینات ہونے کے بعد بہت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عرب ممالک میں لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کے مسائل حل کرنے سمیت آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے دوستانہ تعلقات میں اور زیادہ پختگی آئے گی اور یہ مل کر اندرونی و بیرونی سازشوں کا توڑ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں