Daily Mashriq


یہ عبرت کی جا ہے‘ تماشا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے‘ تماشا نہیں ہے

ذاتی بغض و عناد نے ہمیں جس ذہنی بانجھ پن اور فکری افلاس میں جس طرح جکڑ رکھا ہے اس کا تماشا گزشتہ روز سے جب سے محترمہ کلثوم نواز کی رحلت کی خبر آئی ہے ہم ایک بار پھر دیکھ رہے ہیں جو سوشل میڈیا پر مادر پدر آزاد ایک مخصوص گروہ نے لگا رکھا ہے اور موت کے بعد بھی نہ تو محترمہ کلثوم نواز کو معاف کیا جا رہا ہے نہ ہی شریف خاندان پر طنز و تشنیع کے تیر برسانے کا یہ موقع ضائع کیا جا رہا ہے۔ ایک استاد فن عزیز مخذوب نے کیا خوب کہا تھا

جگہ دل لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

خدا جانے ان بے راہ رو برخورد غلط طبقے کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے‘ سجناں بی مرجاناں۔ آج جو لوگ ایک نیک نفس خاتون کی رحلت پر بھی صرف اس لئے اپنے تیر و تفنگ لئے شریف خاندن پر حملہ آور ہیں کہ ان سے یا ان کی جماعت کے ساتھ سیاسی اختلافات ہیں۔ تو اس کے لئے تو ابھی بہت سے مواقع آئیں گے جب یہ اپنے ذہنی بانجھ پن کے زہریلے تیر آزما کر سیاسی فضا کو مزید مکدر کرتے رہیں گے۔ کم از کم یہ موقع تو جانے دیں اور اس موت کو بھی ڈرامہ کہہ کر صرف شریف خاندان‘ لیگ (ن) کے حامیوں کے ساتھ ساتھ انسانیت پر ایمان رکھنے والے ہم ایسے غیر جانبدار لوگوں کے لئے دکھ کا سامان تو نہ کریں۔

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے

اس قوم نے ایسے کئی واقعات دیکھے جو عبرت آموز داستانیں بن کر تاریخ کے صفحات میں درج ہوچکے ہیں۔ ان داستانوں کے اندر بھی کچھ نشانیاں ہیں جو اگر غور سے دیکھا جائے تو سوچ کے کئی در وا کرتی ہیں۔ تازہ واقعہ تو یہ ہے جو کئی سال پہلے اسی قسم کے ایک اور واقعے سے جڑا ہوا ہے اور جنرل (ر) مشرف کے دور میں وقوع پذیر ہوا تھا تب شریف خاندان کے بانی میاں محمد شریف مرحوم کا جنازہ اٹھایاگیا تھا مگر اس جنازے کو کندھا دینے کے لئے دونوں میاں برادران میں سے کوئی بھی وطن نہیں آسکا تھا کہ مشرف نے ان کی جنازے میں شرکت کو مبینہ طور پر مشروط کر دیا تھا جو میاں برادران کے لئے قابل قبول شرائط نہیں تھیں۔ دنیا مشرف پر لعن طعن کررہی تھی مگر اقتدار کے نشے میں سر مست آمر مطلق ٹس سے مس نہ ہوا۔ آج پھر ایک اور امتحان سے شریف خاندان دو چار ہے۔ جب کلثوم نواز کے دونوں بیٹے بعض قانونی مسائل کی وجہ سے اپنی ماں کے جنازے کو کاندھا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور اپنے والد نواز شریف اور چچا شہباز شریف کی طرح جنہوں نے اپنے والد کے جسد خاکی کے تابوت کو جدہ سے ہی رخصت کردیا تھا یہ دونوں بھی شاید اپنی والدہ کے تابوت کو لندن ہی سے رخصت کرنے پر مجبور ہو کر بے بسی کی تصویر بن جائیں گے۔ تاہم یہ صورتحال اس ملک پر حکمرانی کرنے والے تمام ان لوگوں کے لئے چشم کشا ہونی چاہئے جو کسی نہ کسی صورت اقتدار میں اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور ملکی وسائل کی مبینہ لوٹ مار میں شریک رہتے ہیں۔ انہیں تب نہ موت یاد آتی ہے نہ اللہ کی پکڑ سے خوفزدہ ہوتے ہیں مگر جب سر پر آپڑتی ہے تو ’’نشان عبرت‘‘ کی صورت دوسروں کے لئے قابل توجہ ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ اقتدار کو آنی جانی چیز سمجھ کر عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور رعونت سے حذر کریں تو مکافات عمل کے قانون سے بچ سکتے ہیں مگر اقتدار پر قابض ہونے والے یہ گروہ اپنی اہلیت‘ صلاحیت اور قابلیت کے ڈھول پیٹتے رہتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ڈھول ہمیشہ اندر سے خالی ہوتا ہے تبھی تو اس کے اندر سے اتنی آوازیں ابھرتی ہیں اور جب اس ڈھول کا پول کھلتا ہے تو صورتحال وہی ہوتی ہے کہ

جب آنکھ کل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

اس بد قسمت قوم نے اور بھی ایسے واقعات دیکھ رکھے ہیں۔ ایک جنازہ ذوالفقار علی بھٹو کا تھا جنہیں پھانسی چڑھانے کے باوجود ضیاء الحق کا دل ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اور نہ صرف اس کی اہلیہ اور بچوں کو اس کا چہرہ دیکھنے تک کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ موت کے بعد کسی بھی انسان کے ساتھ دوسرے تمام رشتے ختم صرف خاندان والوں کا تعلق رہ جاتا ہے۔ مگر ضیا الحق نے اس انسانی حق کو بھی تسلیم نہ کرتے ہوئے جس رعونت اور ذہنی سفاکی کا مظاہرہ کیا اس نے انسانیت کے چہرے کو داغ داغ کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ان کی تدفین کے موقع پر ان کے خاندان کو دور رکھا گیا اور دفن سے پہلے ان کے ایک چچا کو ان کا چہرہ دیکھنے کی اجازت دینے کے بعد بعض ’’ سیاسی اہلکاروں‘‘ کی نگرانی میں ان کے جسد خاکی کو قبر میں اتارا گیامحترمہ کلثوم نواز کی بیماری اور اب انتقال پر گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک جس طرح پرنٹ‘ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر انتہائی نامناسب تبصرہ آرائی کا بازار گرم کیاگیا اس میں پست ذہن اور کم ظرف طبقوں سے ہٹ کر بعض پڑھے لکھے بلکہ نام نہاد دانشوروں اور سیاسی مخالفین نے جو دھماچوکڑی مچائے رکھی ہے اس سے ان کے ذہنی افلاس کی بھرپور نشاندہی ہوتی ہے۔ اگرچہ اب بعض ایسے افراد نے اپنے روئیے پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے معذرت بھی کرلی ہے تاہم سوشل میڈیا پر اب بھی کچھ حلقے طوفان بد تمیزی جاری رکھے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی موت تو پہلے واقع ہو چکی تھی مگر اس کا اعلان اب کیاگیا ہے۔ تاہم ان سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے اہل خاندان کو کیا سیاسی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟ کیا ہم میں خدا خوفی بالکل ختم ہوگئی ہے اور ایسے حالات ہمارے ساتھ پیش نہیں آسکتے؟

احساس مر نہ جائے تو انسان کیلئے

کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی

متعلقہ خبریں