Daily Mashriq


پاکستان میں سیاست اور سیاستدان

پاکستان میں سیاست اور سیاستدان

ہمارے ہاں جب سیاستدانوں پر تنقید ہوتی ہے تو اکثر سیاستدان اسے برا مانتے ہیں ۔ اقتدار میں ہوں توتنقیدکرنے والوںکا خواہ اُن کاتعلق کسی شعبے سے ہو،حقہ پانی بند کر دیتے ہیں اور بعض حالات میں تومخالفین کو عبرت نگاہ بنادیتے ہیں ۔ پاکستان میں سیاستدانوں کے درمیان ایک دوسرے پر تنقید مخالفت اور ناکام بنانے کی تیز رفتار دوڑ کا مقابلہ ہر وقت جاری رہتا ہے ۔ ان سیاستدانوں کے درمیان عدم اتفاق خود غرضی،مفادات اور اقتدار کی ہوس نے گزشتہ ستربرسوں میں پاکستان اور پاکستانیوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ 1980ء کے عشرے سے مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کے درمیان سخت ترین دشمنیاں ، اختلافات اور پھر کمپرومائزز، میثاق جمہوریت اور فرینڈلی اپوزیشن اور پھر مخالفت نے جہاں ایک طرف عوام کو بری طرح مایوس کیا وہاں دونوں جماعتوں کی حکومتوں میں کرپشن انتہاکو پہنچ گئی افواج پاکستان ان دونوں سیاسی جماعتوں کی آپس میں کھینچا تانیوں اورکرپشن میں مقابلے سے سخت تنگ تھیں ، لیکن جمہوریت کی خاطر دل پر بھاری پتھر رکھ کر ناخوشگوار بیرونی حالات اور مشرقی ومغربی دونوں سرحدوں پر کشیدہ حالات کے پیش نظر وقتاًفوقتاً بعض معاملات کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے جمہوریت کی پشت پناہی کرتی رہی ۔ کیونکہ ان ہی سیاستدانوں نے یہ بات کہ پاکستان کی افواج کو سیاست کا چسکہ لگ گیا ہے اتنا مشہور کردیا ہے اور اپنی ساری ناکامیوں کو یہ کہہ کر پاک افواج پر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ پاکستان کی ستر سالہ زندگی میں آدھی مدت تو مارشل لامیں گزری ہے ۔ لیکن یہ سوال آج بھی مرغی پہلے کہ انڈہ ، کی طرح موجود ہے کہ سیاست دان اگر خلوص نیت اور دیانتدارانہ سیاسی عمل کا مظاہرہ کرتے تو افواج پاکستان کو کیسے موقع مل سکتا تھا کہ ٹرپل بریگیڈ کا استعمال کرتے ۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کے مختصر دور حکومت میں تو اس کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے ۔ سیاستدانوں کے درمیان جب حصول اقتدار اور مفادات کی جنگ کے سبب دال جوتیوں میں بٹنے تک نوبت پہنچنے لگتی ہے ، تب کہیں جا کر مجبوراً ، دفاع اور حفاظت وطن کی خاطر کچھ کرنا پڑتا ہے ، افواج پاکستان کا مئوقف یہی ہے اوراس لحاظ سے حق بجانب بھی ہے کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو فوجی حکومتوں میں بہر حال کام کرنے کے مواقع حاصل رہے ہیں ۔ اس لئے یہ سب ایک دوسرے کو یہ طعنہ بھی دیتے ہیں کہ آپ کی نشوونما اور اُٹھان تو جرنیلوں کی گود میں ہی ہوئی ہے ۔ حالانکہ یہ اتنی معیوب بات بھی نہیں کیونکہ فوج آخر اپنی ہی ہے ۔ یہ بھی سیاستدانوں ہی کی طرح ابنائے وطن ہی ہیں ۔ انہوں نے بھی دفاع وطن کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔ ویسے یہ موضوع اور سوال کہ مسلمان ملکوںمیں جمہوریت جڑیں کیوں نہیں پکڑتی ، بہت گہری اور سنجیدہ تحقیق و مطالعے کا مستحق ہے ۔ کیا واقعی جمہوریت اتنی ہی جامع ، مکمل اور مقدس چیز ہے کہ اس کے متبادل کا سوچنا بھی حرام ہے ، شاید جمہوریت کی مضبوطی کے لئے مضبوط نظام تعلیم اور اس کے نتیجے میں مضبوط معیشت کا ہونا لازمی امور ہیں ۔ اسلامی دنیا میں ان دونوں چیزوں کی شدید کمی ہے ۔ بہرحال یہ سطور لکھنے کا سبب یہ ہے کہ آج جبکہ پاکستان میں الحمدللہ ! تیسری دفعہ جمہوری حکومت کا پرامن انتقال اقتدار ممکن ہوا ہے ، اگرچہ روایتی اور موروثی سیاسی جماعتیں جن کے اندر جمہوریت کا کہیں شائبہ تک نظر نہیں آتا(سوائے جماعت اسلامی اور کسی حد تک تحریک انصاف کے) ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہورہی تھی۔ تحریک انصاف پر دھاندلی نہیں دھاندلا کا الزام لگا رہی تھیں اور بعض سیاستدان جو عمران خان سے شدید بغض رکھتے ہیں ، خطرناک اقدامات کی دھمکیاں دے رہے تھے یہ تو پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا ایک دفعہ پھر کرم ہوا کہ الیکشن کمیشن(جس کی تشکیل میںعمران خان شامل نہ تھے) نے انتخابات کو شفاف قرار دیا۔ ورنہ سیاسی جماعتیں تو طوفان برپا کرنے پر تُلی نظر آرہی تھیں ۔ بہرحال وہ مرحلہ بھی طے ہوا اور انتخابات ، پارلیمنٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے بھی سیاستدان پارلیمنٹ اور سیاست میں ایک دفعہ پھر فعال ہوہی گئے ۔ اور اب تقریباً سارے بڑے سیاستدان لنگر لنگوٹ کس کر عمران خان کے پیچھے لگ گئے ہیں ۔بعض سیاستدان چیف جسٹس اور فوج کی طرف بھی اشاروں کنایوں میں عمران خان کے ساتھ ایک ہونے کی بات کرتے ہیں ۔ اور ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کو سیاست میں آنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ ڈیمز بنانے پر پھبتیاںکستے ہیں ۔ عمران خان کو پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کے بیان پر رگیدتے ہیں ۔ ارے محترم سیاستدانوں ایک ذرا صبر ۔ پانچ برسوں میں دیکھتے جائو، اگر یہ شخص کچھ کر سکا تو ملک وقوم کی بھلائی اورآپ کے لئے بھی آسانی ۔ اگرچہ ایک لحاظ سے آپ کے لئے مشکل بھی ، کہ مستقبل میں آپ کو بھی اس کے برابر کام کر ناپڑے گا۔لہٰذاسیاستدان پانچ برسوں تک ذراصبر اور آرام کے ساتھ جئیں ۔ گزشتہ عشروں میں مسلسل سیاسی دائو پیچ، جہد مسلسل اور ان تھک خدمت قوم سے ذرا سستالیں اور عمران خان کا تماشا دیکھیں۔ کہ وہ اُن مسائل سے جو ان ہی حکمران سیاسی جماعتوں کے پیدا کردہ ہیں کس طرح نمٹتے ہیں ۔ کچھ کر کے دکھایا تو سیاستدان مزید پانچ برسوں کے بے غم ہو جائیں ورنہ عوام ردعمل میں خود ہی ان کا متبادل سوچ لیں گے ۔

متعلقہ خبریں