Daily Mashriq

کشمیر پر سعودی و اماراتی وزرا کے بیان سے متعلق رپورٹس 'قیاس آرائیاں' ہیں، دفترخارجہ

کشمیر پر سعودی و اماراتی وزرا کے بیان سے متعلق رپورٹس 'قیاس آرائیاں' ہیں، دفترخارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس کو مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے حالیہ دوروں کے بعد اس طرح کی خبریں زیرگردش تھیں کہ 'انہوں نے حکومت کو کہا تھا کہ کشمیر کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے'۔

تاہم اس حوالے سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کے جواب میں ان رپورٹس کو 'قیاس آرائیاں' قرار دیا اور کہا کہ دونوں حکام نے 'پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کے لیے حمایت کی یقین دہانی کروائی'۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور امارات کے وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی تھی، ان ملاقاتوں میں بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال، ان اہم معاملات میں سے ایک تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن 40 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر پر 58 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ آنا، پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، کشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر مکمل پابندی عائد ہے، انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے، کشمیری قیادت کی رہائی، میڈیا اور عالمی برادری کو کشمیر تک رسائی کے مطالبات کیے گئے۔

دوران بریفنگ جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ ثالثی کی پیشکش سے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس کے لیے'تیار نہیں' ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ 'ہم ہمیشہ دو طرفہ مذاکرات سمیت ثالثی کے لیے تیار ہیں اور ہم نے (مذاکرات) کے لیے کئی کوششیں کی تھیں'۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'ہمارا ہمیشہ یہی موقف ہے کہ ہر مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے'۔

ترجمان نے کہا کہ 'جموں و کشمیر کی جدوجہد ایک عمل ہے، یہ کوئی ایونٹ نہیں، یہ عمل جاری ہے اور یہ آگے بڑھے گا'۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'کل وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر جائیں گے اور وہاں کے لوگوں کے لیے پالیسی بیان دیں گے، اس کے علاوہ (دیگر) مختلف اقدامات زیر غور ہیں اور جیسے ہی کچھ حتمی ہوتا ہے تو ہم اس بارے میں بتائیں گے، فی الحال ابھی کچھ حتمی نہیں'۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 'پاکستان اور بھارت کے درمیان پس پردہ کوئی مذاکرات' جاری نہیں ہیں۔

افغان امن عمل

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران افغان امن عمل کی معطلی سے متعلق سوال پر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ اس عمل کی حمایت کی جس کی قیادت 'افغانوں کی جانب سے کی گئی'۔

انہوں نے کہا کہ 'پاکستان کو کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدر اور طالبان رہنماؤں کی خفیہ ملاقات کی منسوخی کے بارے میں معلوم ہوا'، اس معاملے پر 'پاکستان چاہتا ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد سے گریز کریں'۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازع کا واحد حل ان سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کی قیادت افغانوں کی جانب سے کی گئی ہو'۔

اس موقع پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ 'امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات جلد بحال ہوں گے'۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے اور افغان طالبان کے رہنماؤں کے درمیان کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی ممکنہ ملاقات کو منسوخ کیا جاتا ہے اور انہوں نے اس کی وجہ عسکریت پسندوں کی جانب سے حالیہ حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کو قرار دیا تھا۔

'کلبھوشن یادیو کو دوبارہ قونصلر رسائی نہیں دی جارہی'

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کو دوبارہ قونصلر تک رسائی نہیں دی جارہی اور نہ ہی دوبارہ ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔

واضح رہے کہ 2 ستمبر کو پاکستان کی جانب سے زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت قونصلر رسائی دی گئی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ 'کلبھوشن یادیو سے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور گورو اہلووالیا نے قونصلر رسائی حاصل کی جو قونصلر ریلیشنز پر ویانا کنونشن، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے اور پاکستانی قوانین کے تحت دی گئی’۔

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ ‘قونصلر رسائی دن 12 بجے دی گئی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی’۔

'بھارتی صدر کیلئے فضائی حدود بند کرنا سیاسی فیصلہ تھا'

دوران بریفنگ بھارتی صدر کے لیے فضائی حدود کی بندش سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان نے بھارت کے صدر کو آئس لینڈ جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا تھا کہ بھارت کی جانب سے اپنے صدر کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جسے مسترد کردیا گیا۔

'اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیے جارہے'

علاوہ ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے واضح کردیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کی خبریں بے بنیاد پروپیگنڈا کا حصہ ہیں، ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے'۔

ان کے یہ ریمارکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اسرائیلی اخبار کے تفصیلی آرٹیکل کے بعد سامنے آئے جس میں پاکستان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے بارے میں بات کی گئی تھی۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ان کے وزیراعظم کے حالیہ بیان پر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کی 1967 والی سرحد کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے انتہائی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ 17 ستمبر کو دوبارہ منتخب ہوتے ہیں تو مقبوضہ مغربی کنارے کی وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کرلیں گے۔

اپنے خطاب کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نے دوبارہ منتخب ہونے پر وسیع مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے الحاق کے اپنے مقصد کے عزم کا اظہار بھی کیا تھا۔

متعلقہ خبریں