Daily Mashriq

جے پی پی کا سعودی عرب میں پاکستانی قیدی کا سرقلم کرنے پر سخت تنقید

جے پی پی کا سعودی عرب میں پاکستانی قیدی کا سرقلم کرنے پر سخت تنقید

لاہور: جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے جدہ کے شمیسی جیل میں ایک اور پاکستانی محمد عمران کا سرقلم کیے جانے پر کڑی تنقید کی ہے۔

چیچہ وطنی کے مزدور محمد عمران اگست 2011 کو روزگار کی تلاش میں سعودی عرب پہنچے تھے جہاں انہیں جدہ ایئرپورٹ پر ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ان پر منشیات سے متعلق مقدمات چلائے گئے تھے اور بامعنی قانونی نمائندگی کے بغیر سزائے موت سنا دی گئی تھی۔

ان کا ٹرائل عربی زبان میں کیا گیا تھا جسے وہ سمجھ نہیں سکتے تھے اور نہ ہی انہیں مترجم فراہم کیا گیا تھا۔

جے پی پی کے مطابق غیر ملکی جیلوں میں تقریباً 11 ہزار پاکستانی قید ہیں، مشرق وسطیٰ میں 7 ہزار سے زائد، سعودی عرب کی جیلوں میں میں 3400 پاکستانی ہیں جن میں ایک خاتون سمیت 26 کو سزائے موت دی جاچکی ہے۔

سزائے موت پانے والوں کے اہلخانہ کو ان کی سزا پر عمل در آمد کے حوالے سے بتایا تک نہیں جاتا کہ انہیں اپنے پیارے کو آخری الوداع کرنے کا موقع مل سکے۔

سزائے موت پانے والوں کی لاشوں کو بھی واپس نہیں کیا جاتا جو تمام قانونی و اخلاقی سمیت اسلامی ہدایات کے بھی خلاف ہے۔

جے پی پی کا کہنا تھا کہ محمد عمران کے اہلخانہ نے سعودی حکومت سے اس کی لاش واپس کرنے کا کہا تاکہ وہ اس کی آخری رسومات ادا کرسکیں۔

ے پی پی نے نشاندہی کی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے 2 ہزار 107 پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کے وعدے کے باوجود بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

6 اگست کو وزیر تارکین وطن پاکستانی ذوالفی بخاری نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ 1 ہزار 350 پاکستانی قیدیوں کو سعودی عرب سے واپس لایا گیا ہے تاہم ان قیدیوں کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور نہ ہی دیگر پاکستانی قیدیوں کے واپس آنے کا وقت بتایا گیا تھا۔

جے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال کا کہنا تھا کہ 'سعودی عرب قریبی اتحادی ہونے کے باوجود پاکستانی شہریوں کے سرقلم کرکے انسانی حقوق کی سگین خلاف ورزی کر رہا ہے، سعودی عرب دیگر اقوام سے زیادہ پاکستانیوں کو سزائے موت دیتا ہے، اس نے 2 ہزار 107 قیدیوں کی واپسی کا وعدہ ہی پورا نہیں کیا بلکہ انہیں سزائے موت دینی بھی شروع کردیں ہیں، پاکستانی حکومت کو ان افراد کی رہائی اور باحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کرنے چاہیے'۔

متعلقہ خبریں