Daily Mashriq

جنسی زیادتی کے الزام کے بعد اڈیالہ جیل کے 11 عہدیدار معطل

جنسی زیادتی کے الزام کے بعد اڈیالہ جیل کے 11 عہدیدار معطل

راولپنڈی: مرکزی اڈیالیہ جیل میں ایک قیدی کی جانب سے دوسرے قیدی پر جنسی زیادتی کے الزامات لگانے کے بعد جیل کے 11 عہدیداروں کو معطل کردیا گیا۔

جیل سپرنٹنڈنٹ چوہدری نذیر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے یہ بھی وضاحت کرنے کو کہا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ ان الزامات کو کیوں نہیں دیکھا گیا۔

اس واقعے پر 11 عہدیداروں کو معطل کرنے جبکہ مذکورہ بالا 2 حکام سے اپنی غفلت کی وضاحت طلب کرنے کے بعد انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب شاہد سلیم بیگ نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔

آئی جی پی کا کہنا تھا کہ راولپنڈی ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، انکوائری افسر نے 11 حکام کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی تھی۔

یہ واقعہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رانا مسعود اختر کی جانب سے جیل کے سرکاری دورے کے دوران ایک قیدی نے انہیں بتایا کہ دوسرے قیدی کی جانب سے ان کا جنسی استحصال کیا گیا۔

ایک سینئر عہدیدار کے مطابق جج کی ہدایت پر متاثرہ فریق کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک ایف آئی آر کا اندراج نہیں کیا گیا کیونکہ میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جارہا۔

اس معاملے پر راولپنڈی ریجن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات رانا عبدالرؤف کو انکوائری افسر تعینات کیا گیا اور انہوں نے اس کیس سے نمٹنے میں سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور 11 جیل وارڈنز کی کوتائی پائی۔

بعد ازاں انکوائری کے بعد 11 وارڈنز کو معطل کردیا گیا جبکہ 2 سینئر حکام سے اس معاملے پر وضاحت مانگی گئی۔

متعلقہ خبریں