Daily Mashriq

افغانستان میں مزید فضائی حملوں سے کیا ہوگا؟

افغانستان میں مزید فضائی حملوں سے کیا ہوگا؟

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائن الیون حملوں سے متعلق تقریب میں افغان جنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ طالبان کو بدترین طریقے سے ایسا نشانہ بنائیں گے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔خیال رہے کہ امریکا میں 11ستمبر2001کو ہونے والے حملے میں تقریبا 3 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے دو روز قبل افغان صدر اشرف غنی اور طالبان سے کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ خفیہ ملاقات کو منسوخ کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔طالبان نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی سے امریکا کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تیسرے امریکی صدر ہیں جنہیں افغانستان میں امریکی فوجوں کی موجودگی کے ساتھ ساتھ ناقابل یقین حد تک ہونے والے اخراجات کا سامنا ہے ۔سات اکتوبر2001ء کو امریکی صدر جارج بش نے افغانستان پر فضائی حملے کرنے کا حکم دیتے وقت اس کا ہدف بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد افغانستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کا خاتمہ اور طالبان کی فوجی طاقت کو کچلنا ہے،اٹھارہ برس بعد بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکہ کو اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیابی ہوئی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں آج بھی سات اکتوبر2001ء کو پوزیشن پر ہی کھڑا ہے اس دوران تقریباً پنتالیس ہزار سے زائد افغان فوجی ہلاک ہوئے افغان شہریوں کی ہلاکت کا تو اندازہ کرنا ہی مشکل ہے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 ہزار شہری ہلاک ہوئے اور تقریباً بیالیس ہزار طالبان جنگجو مقابلے میں زندگی کی بازی ہار گئے۔امریکہ اب بھی طالبان کے خلاف فضائی حملے کرتا ہے لیکن اس کے باوجود بجائے اس کے کہ طالبان کے رویئے میں لچک اور نرمی آخود امریکہ نومبر2020کے انتخابات سے قبل افغانستان میں امریکی افواج میں کمی کا متمنی ہے حالیہ ناکام امن مذاکرات کے دوران چھ ہزار کے لگ بھگ امریکی فوجیوں کے انخلاء کی اطلاعات ہیں امریکہ کو جہاں افغانستان میں نہ صرف اب بھی اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کو برقرار رکھنے اور بھاری اخراجات جیسی مشکلات کا سامنا ہے وہاں امریکی عوام کی جانب سے امریکہ کی افغانستان میں ناکامی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں پر غم وغصہ بڑھتا جارہا ہے امریکی رائے عامہ کا دبائو کسی بھی حکومت اور صدر کیلئے غیر معمولی بات ہوتی ہے جسے اگر نا قابل برداشت حد تک قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا امریکی صدر ٹرمپ کے طالبان سے امن مذاکرات بھی اس دبائو سے نکلنے کی سعی تھی اور آئندہ صدارتی انتخابات کیلئے ضروری تھے جن کو طالبان کی سخت شرائط اور حملے جاری رکھنے پر معطل کرنا پڑا۔اس ساری صورتحال میں امریکی صدر کے تازہ اعلان سے افغانستان میں سوائے تشدد میں اضافے مزید بے چینی اور عوام استحکام کے کچھ نہ ہوگاطالبان کو تقریباً دو عشروں سے امریکی حملوں کا سامنا ہے اوروہ اس کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ بقاء کی جدوجہد میں بھی کامیاب رہے ہیں ایسے میں مزید فضائی حملوں سے سوائے امریکہ کے مزید دبائو میں آنے کے کوئی اور نتیجہ سامنے آنا مشکل ہوگا۔امریکہ طالبان سے مذاکرات اور معاملت کی کوشش کر کے اور اسلامی امارات کے نام سے اتفاق کر کے گویا طالبان کو افغانستان کی اصل اور نمائندہ قوت تسلیم کر چکا ہے جو طالبان کیلئے صدر ٹرمپ کے امن معاہدے پر دستخط سے انکار اور مزید فضائی حملوں کے اعلان کے باوجود ان مذاکرات کا حاصل ہے جبکہ امریکہ کے حصے میں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔امریکہ کو سوچنا ہوگا کہ مزید فضائی حملوں کا نتیجہ بھی گزشتہ اٹھارہ سالوں کے حملوں کی طرح کا سامنے آیا تو مزید امکانات کیا ہوں گے زمینی لڑائی تو اتحادی اور امریکی تقریباًہار ہی چکے ہیں اور واپسی کی راہ بھی لی ہے۔

متعلقہ خبریں