Daily Mashriq

ڈینگی کا پھیلائو درست صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا جائے

ڈینگی کا پھیلائو درست صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا جائے

ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میںڈینگی کے شبہ میں رپورٹ ہونے والے مریضوں کی تعداد انیس سو سے تجاوز کر گئی ہے دوسری جانب ماہرین صحت نے آئندہ دوہ ماہ کے دوران ڈینگی کے خطرناک حد تک پھیلائو کی پیش گوئی کر کے نہ صرف خطرے کی گھنٹی بجادی ہے بلکہ ان کے عوامی سطح پر انتباہ سے شہری ایک ایسے نفسیاتی خوف کا شکار ہوگئے ہیں جو ڈینگی سے کم خطرناک نہیں۔سوات سے ڈینگی مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کی اطلاعات آرہی ہیںجس کے بعد خفتگی کا شکار محکمہ صحت کے حکام نے گھروں میں ڈینگی لاروے کی چیکنگ سپرے اور احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی مہم شروع کردی ہے ۔اس ساری صورتحال کا محتاط طور پر جائزہ لیا جائے تو تمام ترافواہوں کے باوجود فی الوقت ڈینگی کے پھلائو کی وہ صورتحال نہیں جس کا تاثر دیا جارہا ہے لیکن دوسری جانب چھ سو چوہتر افراد میں وائرس کی تصدیق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔امر واقع یہ ہے کہ یہ ہمارے سرکاری اداروں کا وتیرہ رہا ہے کہ اس کے حکام کبھی بھی بارش سے پہلے چھت یا کم از کم چھتری کا بندوبست کرنے کے عادی نہیں ان کو جھنجوڑ کر خواب غفلت سے بیدار کر نے کیلئے میڈیا کو چیخنا اور عوام کو احتجاج کرنا پڑتا ہے گزشتہ کئی دنوں سے لگاتار ڈینگی کے حوالے سے رپورٹوں کی اشاعت کے بعد محکمہ صحت کے حکام کو خود ہوش آیا ، یاپھر وزیراعلیٰ اور وزیر صحت نے سخت سست کہا جس کے بعد وہ حرکت میں آئے۔گزشتہ سالوں میں تہکال اور ارد گرد کے علاقے سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے بعض علاقوں میں ڈینگی پھیلانے کے ذمہ دا مچھروں کی کثرت اور بہت سے لوگوں کے ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے بیمار ہونے کے باعث انسداد ڈینگی مہم کی ضرورت پیش آئی تھی اور متعلقہ حکام نے تند ہی سے مہم چلائی اسی دوران ہی پنجاب کے ماہر ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر خیبر پختونخوا آئے اور درست تشخیص وعلاج بارے اپنے تجربات کے ساتھ خدمات انجام دیں تب جا کر صورتحال قابو میں اس وقت آئی جب موسم تبدیل ہونے پر ماحول ڈینگی مچھر کی افزائش اور زندہ رہنے کے قابل نہ رہا فی الوقت کا موسم ڈینگی کے لاروے کے تحفظ اور مچھروں کی بہتات کیلئے موزوں ہے اگر بروقت اقدامات کئے جاتے تو افواہوں کے پھیلنے اور وائرس کی تصدیق کی صورت میں سامنے آنے والے پریشان کن حالات نہ ہوتے۔ڈینگی کیلئے ایئر کولر سب سے محفوظ پرورش گاہیں ہیں جس کے پانی میںروزانہ کی بنیاد پر ڈٹر جنٹ ملانے کو لازم قرار دیا جائے اور عملہ اچانک معائینہ کر کے احتیاطتی تدابیر اختیار نہ کرنے والوں کو جرمانہ کرے۔جہاں شہریوں کو صحیح صورتحال سے دیا نتدارانہ طور پر آگاہ کر کے افواہوں کا مقابلہ کیا جائے وہاں ڈینگی کے ٹیسٹ مفت اور باسہولت کرنے کے انتظامات بھی کئے جائیں،صحت وصفائی کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور ہسپتالوں میں ڈینگی کے علاج کیلئے ادویات اور بستروں کا انتظام بھی کیا جائے۔

ہرکہ آمد عمارت نو ساخت

وزیراعظم عمران خان کو بجا طور پر توقع ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا مقامی حکومتوں کا نیا نظام حقیقی معنوں میں انقلاب برپا کر دے گا۔ہر کہ آمد عمارت نوساخت کے مصداق ملک میں بلدیاتی اداروں میں تجربات ہر آمر وقت اور سیاسی ادوار میں کئے گئے اگر دیکھا جائے تو بلدیاتی نظام آمرانہ ادوار میں زیادہ مضبوط اور منظم ہواسیاسی ادوار میں بلدیاتی نمائندوں کو ممبران پارلیمنٹ کا حریف سمجھا گیا اور ان کو یا تو عضو معطل بنا کر رکھا گیا یا پھر بلدیاتی انتخابات کی نوبت ہی نہ آنے دی گئی ایک ایسے وقت میں جبکہ وزیراعظم اعلیٰ سطحی اجلاس میں تحریک انصاف کے متعارف کردہ نظام کو حقیقی جمہوریت اور جمہوری قیادت کیلئے مفید ومثبت قرار دے رہے ہیں بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہونے کے باوجود بلدیاتی انتخابات کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا خیبر پختونخوا میں حلقہ بندیوں اور ضم اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کیلئے ضروری بنیادی اساس تک کا وجود نہیں اور نہ ہی اس کے قیام میں پیشرفت ہورہی ہے معاملے کو کبھی حلقہ بندیوں اورکبھی بالواسطہ عدالت لیجا کر طول دی جارہی ہے ایسے میں جبکہ نئے نظام کی تشکیل اس کے پالیسی ساز اپنے دور میں کر کے عملی طور پر اس کی افادیت عوام پر واضح نہ کرسکیں یہ کیسے تسلیم کیا جائے کہ مجوزہ نظام پہلے سے بہتر اور خامیوں سے پاک کارآمد اور عوامی مسائل کے حل کا باعث ہوگا۔

بلدیو کمار کی ہرزہ سرائی اور اہل خاندان کی تردید

سوات سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے سابق رہنما اور سابقہ ایم پی اے بلدیو کمار کی بھارت میں بلاوجہ سیاسی پناہ کی درخواست اپنی جگہ لیکن ان کا پاکستان میں اقلیتوں سے سلوک کے حوالے سے لغو بیان قابل مذمت ہے ان کے بیان کی حقیقت یہ ہے کہ خود ان کے اہل خاندان نے ان کے بیان کو درست قرار نہیں دیا۔ان کے خاندان کو جان ومال کا روبار اور مذہب کا تحفظ کا احساس ہی بلدیو کمار کے دعوئوں کی عملی تردید ہے اس شخص کے الزامات پر کان دھرنے اور پراپیگنڈا کیلئے استعمال کرنے والوں کی کمی نہیں عملی طور پر اقلیتوں کو تحفظ کا احساس اور اس کاان کی جانب سے بر ملا اظہار ہی اس امر کیلئے کافی ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے بلدیو کمار کے بیانات کے باعث ان کے خاندان والوں سے کنارہ کشی اور سردمہری کا رویہ ٹھیک نہیں ہوگا بلکہ ان کی جانب سے جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ قابل قدر ہیں اور ملک سے ان کی محبت و وابستگی کا ثبوت ہیں بلدیو کمار کو اپنے خلاف قتل کے مقدمے کے باعث وطن واپس آنا خطرات سے خالی نہ لگا ہوگا جس کی وجہ سے وہ بھارتی شہریت حاصل کرنے کیلئے بلاوجہ کی ہرزہ سرائی کر رہا ہے جس کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ اقلیتی برادری کے نمائندے اور دیگر افراد ہی بلدیو کمار کے بیان کی مذمت اور تردید کر کے حب الوطنی کا مظاہر ہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں