Daily Mashriq

اسلام آباد لاک ڈاؤن اور پی پی پی

اسلام آباد لاک ڈاؤن اور پی پی پی

پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد لاک ڈاؤن دھرنے کی اخلاقی وسیاسی تائید تو کی لیکن لاک ڈاؤن دھرنے میں شرکت سے انکار کر دیا۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن دھرنا جے یو آئی(ف) کا اپنا پروگرام ہے۔ اس دھرنے کیلئے مولانا ملک کے متعدد شہروں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے ’’ملین مارچ‘‘ کرتے رہے اور کہیں ختم نبوتؐ کانفرنس بھی۔ مذہبی سیاسی جماعت جے یوآئی (ف) کی پچھلے دو سالوں کی سیاسی سرگرمیوں پر ایک نگاہ ڈال لیجئے اور پھر پچھلے ایک سال کے دوران اس جماعت کے احتجاجی پروگراموں میں ہوئی تقاریر کا بغور جائزہ لینے کے بعد چند ماہ قبل اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ میں مذہبی مطالبات شامل کرنے کی مخالفت کے حوالے سے بلاول بھٹو کے مؤقف کو بھی ایک نظر دیکھ لیجئے۔ پیپلز پارٹی حکومت کو سیاسی عمل سے آڑے ہاتھوں لینے کی تو حامی ہے لیکن سیاسی عمل میں مذہبی جذبات بھڑکانے کی حامی نہیں ہے۔ بہت احترام کیساتھ عرض کروں مولانا کے پاس اپنے مذہبی مطالبات اور چند الزامات کے سوا کچھ نہیں۔ ہمیں آگے بڑھنے سے قبل ایک دوبار ماضی سے رجوع کرنا ہوگا۔ اولاً1977ء سے جب پاکستان قومی اتحاد نامی بھٹو مخالف اتحاد نے انتخابی دھاندلیوں کیخلاف حکومت مخالف تحریک چلائی۔ پی این اے کی تین مذہبی سیاسی جماعتوں، جے یو آئی مفتی گروپ، جے یو پی اور جماعت اسلامی نے اس خاص سیاسی تحریک کو تحریک نفاذ نظام مصطفیؐ کا نام دیا۔ لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکائے گئے۔ بھٹو کو گھاسی رام کا نام دیکر ان کی والدہ، اہلیہ اور خاندان بارے جو زبان نظام مصطفیؐ کیلئے پُرعزم مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں نے استعمال کی وہ ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ مذہبی جذبات سے بھڑکتی اس تحریک کا انجام کیا ہوا؟ 5جولائی1977ء کا مارشل لاء، اس مارشل لاء کی مخلوط حکومت میں پی این اے نے وزارتیں قبول کر لیں۔

آپ دو ہزار چودہ میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد لانگ مارچ کے دنوں کو یاد کیجئے۔ تحریک انصاف2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کی کسی بھی جگہ شنوائی نہ ہونے کے بعد لانگ مارچ کیلئے نکلی۔ ادھر طالبان ودیگر دہشتگرد تنظیموں کے متاثرہ طبقات کا پاکستان عوامی تحریک کیساتھ ملکر اتحاد بنانے کے عمل کا ردعمل یہ ہوا کہ ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے مرکزی دفتر کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کیلئے ایک آپریشن ہوا، اس آپریشن میں دو معزز خواتین سمیت چودہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس آپریشن کے حوالے سے نون لیگ کے ذمہ داران کہتے تھے کہ یہ اداروں کی سازش ہے اور مقصد حکومت کو بدنام کرنا ہے۔ عوامی تحریک اور اس کے ہم خیالوں کا مؤقف تھا کہ پنجاب حکومت نے اپنی اتحادی دہشتگرد تنظیموں کی خوشنودی کیلئے یہ آپریشن کیا اور اس کا مقصد طالبان کیخلاف جاری آپریشن ضرب عضب کا جواب دینا تھا۔ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے اسلام آباد لانگ مارچ کی تقریباً سبھی نے سیاسی اور اخلاقی حمایت کی مگر جب اسلام آباد دھرنا اپنے بنیادی مطالبات سے ہٹ کر نظام کو تہہ وبالا کرنے کے درپے ہوا تو پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں پارلیمان کیساتھ کھڑی ہوگئیں۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ اگر اس وقت بعض ریاستی اداروں کا دھرنا پروگرام کیلئے تعاون اور چند دیگر معاملات ظاہر نہ ہوتے تو عین ممکن تھا کہ حالات مختلف ہوتے۔ 2014ء میں پارلیمان کیساتھ کھڑی ہونے والی جماعتوں نے پارلیمان کے اندربھی دوٹوک انداز میں کہا کہ 2013ء کے جھرلو برانڈ انتخابات پر عدم اعتماد کے باوجود سیاسی عمل آگے بڑھنا چاہئے۔

پیپلز پارٹی آج بھی یہی کہہ رہی ہے کہ2018ء کے انتخابی نتائج چرائے گئے۔کم وبیش قومی اسمبلی کی 35نشستیں ایسی ہیں جو (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سے چھین کر پی ٹی آئی اور سندھ میں جی ڈی اے کی جھولی میں ڈال دی گئیں۔ اپنے اس مؤقف کے باوجود پیپلز پارٹی دو باتیں تواتر کیساتھ کہتی آرہی ہے اولاً یہ کہ حکومت مخالف تحریک سیاسی عمل اور فہم کیساتھ آگے بڑھائی جائے۔ پارلیمان کے اندر اور باہر سے حکومت اور اس کے سرپرستوں پر دباؤ ڈالا جائے۔ ثانیاً یہ کہ سیاسی تحریک کی غذا کیلئے مذہبی جذبات کو نہ بھڑکایا جائے۔ بدھ کو جب پیپلز پارٹی نے اسلام آباد لاک ڈاؤن دھرنے میں عدم شرکت کا اعلان کیا تو اس کیساتھ ہی سوشل میڈیا پر کامریڈ نواز شریف کے حامی پیپلزپارٹی پر چڑھ دوڑے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی عمل کی غذا کے طور پر مذہبی جذبات کو بھڑکانہ درست ہے؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ خود خطے میں دو اہم مسائل ہیں، اولاً مقبوضہ کشمیر کو باقاعدہ طور پر بھارت میںضم کر لیا جانا اور ثانیاً امریکہ کا افغان طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان۔ کشمیر کے مسئلہ کے حوالے سے پاکستان میں سنجیدہ حلقے حکومت اور اداروں سے کچھ سوالات دریافت کر رہے ہیں جن کا جواب دینے کی بجائے بھارت نوازی کی گالی اُچھالی جاتی ہے۔ افغانستان میں معاملات 9/11 والی صورتحال سے مختلف ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ان حالات میں اگر کسی حکومت مخالف تحریک میں مذہبی جذبات بھڑکا لئے گئے تو نتیجہ کیا ہوگا۔یہ نہ سمجھ میں آنے والی بات ہرگز نہیں۔ امریکہ کی حکمران ریپبلکن پارٹی کو خطے میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کیا سود مند ہوتا ہے قریبی ادوار کے اوراق اُلٹ کر جواب حاصل کرلیجئے۔ سوال یہ ہے کہ حزب اختلاف پارلیمان کے اندر اپنی مستحکم پوزیشن سے فائدہ اُٹھانے کیساتھ سڑکوں پر سیاسی عمل کی بجائے ایک مذہبی جماعت کے لاک ڈائون میں حصہ کیوں ڈالے؟کیا ایک بار پھر کسی ایسی تحریک کی بنیاد رکھ دی جائے جو شخصی نفرت اور مذہبی جذبات پر استوار ہو۔ایسا ہے تو پھر معاملات کنٹرول کیسے رہیں گے۔جے یو آئی(ف) کو اپنے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کا حق ہے البتہ دست بدستہ درخواست ہے کہ سیاسی عمل کو مذہبی جذبات کی غذا فراہم کرنے سے گریز کیا جائے۔

متعلقہ خبریں