Daily Mashriq

گولی

گولی

اپنے فن میں ماہر ایک نائی کے پاس چودھری صاحب شیو بنوانے گئے اور بولے ’’میرے گالوں میں گڑھے ہیں۔ اس وجہ سے شیو ٹھیک نہیں بنتی۔ بال چھوٹ جاتے ہیں‘‘۔ نائی نے دراز سے لکڑی کی گولی نکالی اور چودھری صاحب سے کہا اسے گال کے اندر دبا لیں۔ چودھری صاحب نے ایسا ہی کیا۔ ایک طرف کی شیو کرنے کے بعد نائی کے کہنے پر چودھری صاحب نے گولی دوسری طرف رکھ لی۔ شیو کروانے کے بعد چودھری صاحب نے گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’’شیو تو تم نے اچھی بنائی ہے لیکن ایک بات بتا ئو اگر گولی پیٹ میں چلی جاتی تو؟‘‘ نائی نے بڑے سکون سے جواب دیا ’’چودھری صاب کوئی گل نئیں، کل آکر واپس کردیتے جیسے دوسرے لوگ واپس کردیتے ہیں‘‘۔ چودھری صاحب کو تب سے اُلٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے بحران کی بنیادی وجہ بھی دوسروں کی استعمال شدہ گولیاں ہیں جن کی وجہ سے پورے ملک کو الٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ 2018ء کے انتخابات میں بھرے گالوں والے عوام کو یہ گولی زبردستی نگلنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا نتیجہ بائیس کروڑ عوام کے غدودان معدہ ہی نہیں پورا ملک افراتفری کا شکار ہے۔ پورا نظام بیت الخلا میں بیٹھا ہے جہاں سے آنے والے شور سے اندازہ ہورہا ہے کہ کچھ اچھا نہیں ہورہا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی ڈکیتی پلان کی گئی۔ وزیراعظم کی منظوری سے آرڈی ننس جاری کیا گیا۔ پھر خبر جاری کروائی جاتی ہے کہ ’’اس آرڈی ننس کے بارے میں مجھے ٹی وی سے پتا چلا‘‘۔ کیا دنیا کاکوئی ذمے دارعہدیدار اس مشکوک کردار کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ صدر مملکت کو کنارے لگاتے ہوئے آرڈی ننس واپس لے لیا گیا۔ جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ ذاکر معاشیات حفیظ شیخ نے پچھلے دنوں فرمایا ’’پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مالیاتی خسارہ 52فی صد بڑھ گیا ہے اور بے حساب ٹیکس لگا دینے کے باوجود ٹیکس محصولات میں 6فی صد کی ناقابل فہم کمی ہوئی ہے۔ ترقیاتی اخراجات پر کٹ لگانے کے باوجود یہ چھ فی صدکمی ہے ورنہ اس سے زیادہ ہوتی‘‘۔ انہوں نے مزید فرمایا ’’میرے حساب میں یہ خسارہ چالیس بر س کا ریکارڈ خسارہ ہے‘‘۔ عوام اور کاروباری برادری کا اضطراب جنون کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ کاروبار کرنا مشکل سے مشکل تر بنا دیا گیا ہے۔ تاجر دیوالیہ ہورہے ہیں۔ کارخانے اور فیکٹریاں بند ہورہی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں 36فی صد کمی آچکی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ واپس لے جانے میں غیر معمولی سر گرمی دکھا رہے ہیں۔ پالیسیوں میں عدم تسلسل، جلد بازی اور بے یقینی کا سرمایہ کاری پر برا اثر پڑا ہے۔ جولائی اور اگست میں ٹیکس شارٹ فال 64ارب روپے ہے جسے منی بجٹ کے بغیر پورا کرنا مشکل ہے۔ مجموعی ملکی پیداوار میں 50بلین ڈالر (7837500000000 روپے) کی کمی ہوئی ہے۔ اتنی ہی کمی اسٹاک مارکیٹ میں ہوئی۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ روپے کی قدر میں کمی کرکے بین الاقوامی قرضوں میں 40فی صد اضافہ کردیا گیا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں جتنے اندرونی قرضے لیے گئے عمران احمد خان نیازی کی حکومت میں محض ایک برس میں اس کے نصف سے بھی زیادہ قرضے لیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف سے جو شرائط طے کی گئی تھیں ایک سال کے نتائج اس سے 1500 ارب روپے کم ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ قرض کی قسط دینے کے محض دو مہینے بعد ہی آئی ایم ایف ایک خصوصی مشن پاکستان روانہ کررہی ہے تاکہ حکومت کو حالات کی سنگینی کی وارننگ دی جاسکے۔یہ یک سالہ کارکردگی اس حکومت کی ہے جو بائیس سال سے بشرط اقتدار معیشت کی درستی کے دعوے کرتی رہی ہے۔ جس کا دعویٰ تھا کہ اس کے پاس معاشی ماہرین کی ایک ٹیم ہے۔ اسد عمر کو ایک معاشی نابغہ کے بطور پیش کیا جاتا تھا لیکن اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد انہیں برطرف کرکے معیشت ان معاشی دہشت گردوں کے سپرد کردی جن کی دی گئی گولیوں کے بعد کسی ملک کا نظام درست نہ رہا۔ سب کو الٹیاں لگی ہوئی ہیں۔جمہوریت بھی برطانیہ، فرانس اور امریکا کی خارج کردہ گولی ہے جس کے استعمال سے دنیا کو الٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ یہ نظام دنیا بھر میں اچھی حکومتیں دینے میں ناکام رہا ہے۔ اس نظام کے خلاف ایک طرف فرانس کے عوام برسر احتجاج ہیں تو دوسری طرف دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے عوام بد ترین غربت میں مبتلا ہیں۔ امریکا جیسی دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت کا بجٹ خسارے کا بجٹ ہے جس کا بیش تر حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے۔ جمہوریت ایک تباہ کن تعصب کی صورت اختیار کرگئی ہے جس کے خلاف بات کرنا بھی گویا اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ مسلمانوں کے پاس اپنی ایک شناخت ہے اپنا ایک نظام ہے جس کی سچائی پر صدیاں گواہ ہیں۔ صورتحال ایسی بنادی گئی ہے کہ لوگ کھلے بندوں اس نظام کی، خلافت کی، بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ اسلام کو جمہوریت کے ساتھ اس طرح گڈ مڈکردیا گیا ہے کہ جمہوریت نظام حیات اور اسلام صرف عبادات تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ یاد رکھیے ’’جہاں اسلامی نظام نہیں ہے وہاں پہلا فرض یہ ہے کہ تن من دھن اس نظام کو لانے پر لگا دینا ہوگا۔ اقامت دین کی جدوجہد کرنا ہوگی اگر یہ نہیں کرتے تو نماز نماز نہیں ہے اسے منہ پر دے مارا جائے گا۔ روزہ روزہ نہیں ہے اسے منہ پر دے مارا جائے گا۔

متعلقہ خبریں