Daily Mashriq

کہنے کو اجالے ہیںدراصل اندھیرے ہیں

کہنے کو اجالے ہیںدراصل اندھیرے ہیں

ایک امریکی سینیٹر کا جب ایک تقریب میں تعارف کروایا گیا تو وہ اپنی تعریف سن کر بہت حیران ہوا وہ تعریف جسے سن کر بہت سے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے انہیں اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ جو تعریفی الفاظ ان کی شخصیت کے حوالے سے کہے گئے ہیں ان میں کس حد تک صداقت ہے وہ تو ان الفاظ سے لطف اندوز ہوتے ہیں اس سینیٹر کو جب اظہار خیال کی دعوت دی گئی تو اس نے اپنی تقریر یوں شروع کی ٌمیں چیئرمین صاحب کا انتہائی مشکور ہوںکہ انہوں نے میری تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے ہال میں موجود معزز مہمانوں سے مجھے متعارف کروایا انہوں نے میری تعریف میں جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اپنی جگہ لیکن سیدھی اور سچی بات یہ ہے کہ جو خوبیاں انہوں نے میرے حوالے سے بیان کی ہیں میں بہت غورو فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان میں سے ایک خوبی بھی مجھ میں نہیں پائی جاتی مگر مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے میری جو تعریف کی ہے اسے سن کر میں بہت زیادہ خوش ہوا ہوں او ر مجھے یوں محسوس ہورہا ہے کہ جیسے آج میں اپنے آپ سے پوری طرح متعارف ہوا ہوں یقین کیجیے میں نہیں جانتا تھا کہ میں اتنی بہت ساری خوبیوں کا مالک ہوں۔ہمیں آئے دن مختلف ادبی اور غیر ادبی تقریبات میں شریک ہونے کا موقع ملتا ہے ہمیں نہیں یاد کہ کسی نے اپنی تعریف سن کر یہ کہا ہو جو امریکی سینیٹر نے کہا بلکہ یہاں تو جب کسی کتاب کی تقریب رونمائی ہوتی ہے تو صاحب کتا ب اور کتاب کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں کی جاتی ہیں جن کا کتاب اور صاحب کتاب سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا بس وہ لوگوں کے اپنی شان میں کہے گئے قصیدے سن سن کر دانت نکالتے رہتے ہیں اور بار بار شکریہ ادا کرتے ہیں اور صاحب کتا ب بیچارے کا کیا قصور وہ کیا کرے جب لوگ اس کی تعریف کر رہے ہیں تو اسے پاگل کتے نے تو نہیں کاٹا کہ وہ لوگوں سے کہے جناب فلاں فلاں خوبی جو میرے حوالے سے بیان کی گئی ہے مجھ میں نہیں ہے۔

ہم میں سے ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جو سفارشی حضرات کو صاف صاف کہہ سکیں کہ جناب یہی تو میرے فرائض میں شامل ہے کہ میں اہل اور قابل لوگوں کا انتخاب کروں اور مجھے اسی بات کی تنخواہ ملتی ہے کہ میں امانتیں مستحق لوگوں کے سپرد کروںآپ مجھ سے ایک غلط کام کیوں کروانا چاہتے ہیں لیکن اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے اور ان کے پاس اس کی ایک بہت بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ جناب اس معاشرے میں ہم نے رہنا ہے ہم کس کس کو ناراض کرتے پھریںیہاں پر تو کسی کو سچی بات کرو تو وہ جان کا دشمن بن جاتا ہے ہمیشہ کے لیے تعلقات منقطع کر لیتا ہے ہم اس بحث میں پڑے بغیر صرف یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے اگر ہم صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط نہیں کہہ سکتے تو ہم غلامانہ زندگی گزار رہے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ زندگی میں ہم نے ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو سفارشی حضرات کی بات سن لیتے ہیںلیکن کرتے وہی ہیں جو مبنی بر حق ہوتا ہے وہ انصاف کا گلا نہیں گھونٹتے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ حقدار کو اس کا حق ملے اور یقین کیجیے ہم نے اسی معاشرے میں پھر لوگوں کو ان کی عزت بھی کرتے دیکھا ہے اور فرض کریں اگر اس بات پر آپ کی عزت نہیں کی جاتی کہ آپ لوگوں کے ناجائز کام نہیں کرتے تو ایسی جھوٹی اور خوشامدانہ عزت کا کیا فائدہ ! لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اچھی اقدار کی پاسداری کرنا جانتے ہوں ہمیں حق کی اہمیت کا احساس ہو ہم سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا جانتے ہوںہمارے یہاں یہ کلچر پروان چڑھ چکا ہے کہ ہم صاحب حیثیت یا صاحب رتبہ لوگوں کو خوش کرنے کے لیے خوشامد کی حد تک ان کی تعریف کرتے رہتے ہیں اس تعریف کی وجہ سے ممدوح کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے اور وہ خوشامدیوں کی کی گئی تعریف کی روشنی میں اپنے آپ کو دیکھنا شروع کردیتا ہے ہمیں یہ واقعہ ایک سینئر پولیس آفیسر نے سنایا کہ ایک مرتبہ پولیس میں بھرتی کے موقع پر ان کے پاس ان کے ایک استاد محترم تشریف لائے ایک ایسا استاد جو صاحب کردار اور محنتی تھا اور اس نے سکول میں ہمیں بڑی محنت اور دل سوزی کے ساتھ پڑھایا تھا اور اس استاد کا ان کے دل میں بڑا احترام تھا ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کو انٹرویو سے دو چار دن پہلے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے پرزوں پر ان کے لیے بہت سے سفارشی رقعے دے دیے جاتے جو وہ نہیں کھولتے تھے بس وہ بند پڑے رہتے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو کسی کا حق نہ مارا جائے۔استاد صاحب نے رقعہ تو نہیں بجھوایا لیکن خود بنفس نفیس تشریف لے آئے ۔انہوں نے اپنے استاد کو بڑی عزت دی بیتے دنوں کو یاد کیا اور دل میں سوچ رہے تھے کہ استاد صاحب کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ لیکن اگر انہوں نے کسی کی سفارش کی تو پھر دیکھا جائے گا۔اب ایک صاحب کردار استاد کی سوچ ملاحظہ کیجیے۔انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس اپنے بیٹے کی سفارش کرنے نہیں آیا اگر وہ امتحان پاس نہیںکرسکتا انٹرویو میں تمہارے معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے بے شک فیل کردینا کیونکہ میں ساری عمر تمہیں یہی کچھ سکھاتا رہا ہوں لیکن میری تمہا رے پاس آنے کی وجہ یہ ہے کہ میرے بیٹے کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے اگر اس کا حق بنتا ہے تو پھر اس کی جگہ کسی سفارشی کو نہیں آنا چاہیے ۔میری خوش قسمتی کہ وہ لڑکا قابل تھا اس نے اپنی قابلیت سے امتحان پاس کیا اور پولیس میں بھرتی ہوگیا اور میں ایک بہت بڑے امتحان سے بچ گیا ۔

متعلقہ خبریں