Daily Mashriq

اِدھرہم اور۔۔۔۔ اُدھر بھی ہم

اِدھرہم اور۔۔۔۔ اُدھر بھی ہم

کبھی مشرقی پاکستان کہلانے والے بنگلہ دیش میں چندبر س قبل کی ایک رات پانچ فوجی افسروں کو ڈھاکہ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ان پھانسی کی سزاپانے والوں میں میجر بزلل ہدیٰ‘ لیفٹیننٹ کرنل محی الدین احمد‘ لیفٹیننٹ کرنل سید فرخ رحمن‘ لیفٹیننٹ کرنل سلطان شہریر راشد احمد اور لائنس نائک اے کے ایم محی الدین شامل تھے ۔ انہیں بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ملک کے قانون کے مطابق ان کے پاس صدر سے معافی کی اپیل کا حق حاصل تھا مگر صدر مملکت نے بھی ان کی رحم کی اپیل مسترد کردی ۔ اس سے پہلے چیف جسٹس ہود تفضل کی سربراہی میں قائم چار رکنی بنچ ان کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کرچکا تھا۔ پھانسی کے موقع پر عوامی لیگ کے سینکڑوں کارکنوں نے کہا کہ بالاخر انصاف مل ہی گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان غدار فوجیوں کو بنگلہ دیش کی سرزمین میں دفن ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔عوامی لیگ کے کارکنوں کا احتجاج و مطالبہ کیوں نہ ہوکہ ان فوجیوں نے ان کی سیاسی جماعت کے لیڈر ‘ عوامی لیگ کے بانی اور پھر بنگلہ دیش کے بانی وزیر اعظم جناب شیخ مجیب الرحمن کو نئے ملک کے بننے کے صرف دوسال بعد ہی موت کے گھاٹ اتاردیا ۔یہی نہیں بلکہ ان فوجیوںنے بنگلہ دیش کے قائد کے ساتھ ساتھ ان کی بیوی، ان کے تین بیٹوں دو بہوئوں ‘ تین بیٹیوں اور خاندان کے دیگر بیس افراد کو بھی قتل کردیا تھا۔ اب عدالت نے ان فوجیوں کو تختہ دار پر لٹکادیا ہے اور بقول عوامی لیگ کے کارکنان کہ ان کو انصاف بھی مل گیا ہے لیکن زرا پیچھے چل کر دیکھتے ہیں کہ شیخ صاحب نے ایسا کیا کیا تھا کہ اچانک ان کے اپنے ہی فوجیوں نے ان کی جان لے لی۔ ہوا یوں کے 1975کے عوائل میں مرحوم نے بنگلہ دیش کے آئین میں ترامیم کر کے اپنے لئے وہ اختیارات حاصل کرلئے کہ بقول شخصے اب انہیں کرسی اقتدار سے کوئی نہیں ہٹاسکتا انہوں بطور صدر وہ اختیارات لے لئے تھے جس کے بعد عوامی سطح پر انہیں ہٹانا تقریبا ًناممکن ہوچکاتھا۔ پھر وہی ہوا جو عام طور پر ہوا کرتا ہے۔ کچھ اسی طرح کہ اس طرف کے پاکستان میں بھی ہوتا رہاہے اور اب بھی ہو رہا کہ ابھی گزشتہ فوجی کم عوامی صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنے ہاتھ میں تمام کے تمام اختیارات لے رکھے تھے جن میںمنتخب عوامی وزیراعظم کے اختیارات بھی شامل تھے۔ وہ تو آمر تھا اکثر اوقات جمہوری لوگ بھی حد سے تجاوز کرجاتے ہیں پھر تبدیلی آتی ہے وہ بنگلہ دیش والی بھی ہوسکتی ہے ایران کی طرح بھی اور ابھی جیسے ایتھوپیا میں حال ہی میںہوا ہے ایسے بھی ۔ہمارے پیارے پاکستان میں خداناخواستہ وہ آثارتو نہیں لگ رہے ہیں کہ ملک میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے وہ تبدیلی چھوٹی بھی ہوسکتی ہے اور خداناخواستہ بڑی بھی کہ کچھ لوگ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اپنی سی سعی کررہے ہیں۔میں تبصرہ کرسکتاہوں لیکن حتمی طور بتانہیں سکتاکہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ، کون حق پہ ہے اور کون ناحق ، کس کو کون سے اختیارات ملنے چاہئیں کس کو کون سے اختیارات نہ دیئے جائیں لیکن اتنا ضرورہے کہ خدارا اتنا ضرور خیال رہے کہ اس چھینا جھپٹی میں اداروں کو اور بالخصوص ملک کو کوئی آنچ نہ آنے پائے ۔ کسی کو ناحق پھانسی پر نہ لٹکا دیا جائے چاہے وہ کوئی انسان ہو یا قانون یا کوئی ادارہ۔ ہمیں پورے وطن کی اور سارے کے سارے صوبوں کی ضرورت ہے صوبوں کی کمی تو ہرگزہرگز برداشت نہیں ہاں البتہ اضافی صوبہ بن جانے میں کوئی قباحت نہیں۔ کوئی صوبہ کسی صوبہ پر اپنی بڑائی کا رعب نہ ڈالے چاروں صوبے وفاق کی علامت ہیں۔ کوئی ادارہ کسی ادارے کی حد سے تجاوز نہ کرے کہ اسے کوئی اقدام اٹھانا پڑے ۔ ہر عہدے دار چاہے وہ سرکاری ہے یا سیاسی کو اپنے اختیارات کا بخوبی احساس ہونا چاہئے ۔ادارہ کوئی بھی ہوسکتاہے چاہے عدالت ہے فوج ہے، ریلوے یا واپڈا ہر ایک ادارہ کو اپنے تفویض کردہ اختیارات اور اپنے آئینی حیثیت کے مطابق کام کرناہے۔صرف حکومتی ادارہ ہی نہیں بلکہ سب کی سب سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈران کو بھی اپنی اپنی آئینی حدود کا اعادہ کرنا ہوگا۔ جس کو جس قدر عوام نے مینڈیٹ دے کر اسمبلی میں بھیجا ہے انہیں حصہ بقدر جثہ کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ اپوزیشن کو شور شرابا کرنے اور صحیح و غلط کی نشاندہی کا پورا پورا حق ہونا چاہئے توحکومتی سیاسی پارٹی کو بھی اس کے مینڈیٹ کے مطابق اختیارات ملنے چاہئے اقتدار میں آکر انہیں پوراپورا حق ملے کہ وہ عوام کی امنگوں کے مطابق ان کی خدمت کرنے کی سعی کریں اور اگر ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہے تو بطور ایک عام پاکستانی ہم ڈرتے ہیں کہ پھر کہیں 71ء کی تاریخ نہ دہرائی جائے کہ کوئی ’’اُدھر تم اور اِدھر ہم کا‘‘ نعرہ لگائے یا کہیں سے اس بات کی بو نہ آئے کہ سب کے سب اختیارات ہتھیانے لگا ہو اور اس سے بھی بڑھ کر نعرہ لگائے کہ ہر طرف ہم ‘ اِدھر بھی ہم اور اُدھر بھی ہم ۔یوں تاریخ اپنے آپ کو دہرائے جیسے شیخ مجیب الرحٰمن کی طرح پورے کے پورے خاندان کو جہنم واصل کردیا جائے۔

متعلقہ خبریں