Daily Mashriq

احتساب پر سیاسی انجینئرنگ کا تاثر!

احتساب پر سیاسی انجینئرنگ کا تاثر!

عدل و انصاف کسی بھی قوم یا معاشرے کو استحکام عطا کرتا اور بقا کی ضمانت فراہم کرتا ہے ، انصاف بھی ایسا ہو جو سب کے لیے یکساں ہو۔ یہ عدل نہیں کہ اگر کوئی امیر آدمی جرم کرے تو اسے چھوڑ دیا جائے جب کہ غریبوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں جیسا کہ ہمارے معاشرے میں دکھائی دیتا ہے اور یوں کہا جاتا ہے کہ قانون بنایا ہی اس لیے جاتا ہے تاکہ توڑا جائے، بدقسمتی سے سب سے زیادہ قانون شکنی وہی لوگ کرتے ہیں جو اسمبلیوں میں قوانین پاس کرتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میںاحتسابی عمل ہمیشہ سے متنازع رہا ہے، اس کی بنیادی وجہ احتساب سے جڑے اداروں کو حکومتی و سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ہمارے یہاں احتساب کا شور تو بہت مچایا جاتا ہے مگر اول تو احتساب ہوتا نہیں ہے اور اگر کچھ دکھایا بھی جاتا ہے تو حکمران طبقے کی جانب سے اس کا مقصد اپنے مخالفین کو شکنجے میں جکڑ کر اپنے مفادات کی سیاست کومحفوظ کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر یہاں کرپشن کے تناظر میں احتساب کا عمل سیاست کی نذر ہوجاتا ہے۔ نیب جیسے ادارے اگر واقعی انصاف کی بنیاد پر بھی احتساب کریں تو سیاسی لوگ اس احتساب کو سیاسی انتقام کے طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ اس عمل کو زیادہ سے زیادہ سیاسی اور سماجی حلقوں میں متنازع بناکر اسے خراب کیا جائے۔جب بھی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف احتساب کی بات کی جاتی ہے تو مخالفین کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ احتساب صرف مخالفین کا کیوں کیا جاتا ہے؟ خود حکمران طبقات کو اس احتسابی عمل سے کیوں باہر رکھا جاتا ہے؟اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بنیادی بیانیہ یہ پیش کیا جارہا ہے کہ احتساب کا مجموعی عمل متنازع ہے اور اس کے پیچھے احتساب نہیں بلکہ سیاسی مخالفت ہے۔نیب کی سیاسی اور قانونی ساکھ کے حوالے سے کچھ مسائل بھی غالب نظر آتے ہیں۔ ایک وجہ لمبی تفتیش کے مسائل ہیں اورکئی کئی سال کے بعد بھی احتساب ممکن نظر نہیں آتا۔ نیب کے بقول وائٹ کالر کرائم کو پکڑنے میں برسہا برس لگتے ہیں اور یہ جلدی ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود اگر لوگوں کے سامنے محض تفتیش ہی چلتی رہے تو اس سے احتساب کے عمل میں جو تاخیر ہوتی ہے وہ اسے مشکوک بناتی ہے۔ یہ تاثر بھی ختم ہونا چاہیے کہ احتساب صرف حکومتی مخالفین کا ہورہا ہے۔ حکومت میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف بھی نیب میں انکوائریاں ہورہی ہیں، مگر اس میں وہ فعالیت نظر آنی چاہیے جو حکومتی مخالفین کے مقدمات میں نظر آتی ہے۔ نیب کے پلی بارگین کے قانون پر بھی بہت تنقید ہوتی ہے، مگر نیب کے بقول ہم نے گزشتہ 18سالوں میں تقریباً 326ارب روپے سے زائد کی ریکوری کی ہے، جبکہ ہمارے مقابلے میں دیگر ادارے25کروڑ سے زیادہ اکٹھے نہیں کرسکے۔پاکستان میں جاری احتسابی عمل پر مخالفین کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے بعد ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بطور ادارہ اس تاثر کو کہ ملک میں جاری احتساب سیاسی انجنیئرنگ ہے بہت خطرناک سمجھ رہے ہیں۔

نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ بخوبی آگاہ ہوں سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیوزم میں دلچسپی نہ لینے پرخوش نہیں، سوسائٹی کا وہی طبقہ چند ماہ پہلے جوڈیشل ایکٹیوزم پر تنقید کرتا تھا، معاشرے کا وہ طبقہ چند لوگوں کے مطالبے پر سوموٹو لینے کوسراہتا ہے، جوڈیشل ایکٹیوزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعال جوڈیشلزم کو بڑھا رہی ہے، اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ازخودنوٹس پر عدالتی گریز زیادہ محفوظ ہے اور کم نقصان دہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے، سپریم جوڈیشل کونسل اس طرز کی آئینی ہدایات سے صرف نظر نہیں کرسکتی، صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پر اثر انداز نہیں ہوتی، کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیارہے، صدرمملکت کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل اپنی کارروائی کررہی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیئرمین اپنے حلف پر قائم ہیں، کونسل کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھے گی، قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے اور بداعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ احتسابی عمل پر سیاسی انجینئرنگ کے تاثر کے ضمن میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جن عزائم کا اظہار کیا ہے ، اس پر عمل درآمد اہم مرحلہ ہے کیا چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اپنی مدت کے دوران اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے؟۔

متعلقہ خبریں