سیاسی فیصلے

سیاسی فیصلے

انتخابات مقررہ وقت پر 2018ء میں ہوں گے یا قبل از وقت جس کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اس بارے وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن سیاسی جماعتوں نے جس زور و شور کے ساتھ سر گرمیاں شروع کی ہیں اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ ملک میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے اورسیاسی جماعتیں انتخابی مہم پر ہیں۔ اگر عوامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ حکمران جماعتوں سمیت ماضی کی حکمران جماعتوں میں سے کسی کے پاس بھی ایسی کارکردگی کا ریکارڈ نہیں جس کی بنیاد پر وہ اعتماد کے ساتھ عوام میں جا سکیں۔ من آنم کہ من دانم کے مصداق ہر سیاسی جماعت کو اس امر کا بخوبی علم ہے کہ عوام کا سامنا کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی ایسا اندوختہ نہیں جس پر اعتماد کا اظہار کیا جاسکے۔ چونکہ اس کشتی میں سبھی سوار ہیں اس لئے ہر سیاسی جماعت اپنے انداز سے عوام کو لالی پاپ دینے کی سعی میں ہے۔ قومی منظر نامے پر اس وقت پیپلز پارٹی کے لئے حالات سخت دکھائی دے رہے ہیں۔ پی پی پی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے با اعتماد اور راز دار ساتھیوں کی پر اسرار گمشدگی ہی کے معاملے پر دبائو کا شکار نہیں بلکہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے بیرونی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے مقامی سر پرستوں اور ان با اثر عناصر کی جانب سے ان کے ذریعے حاصل کردہ املاک اور اس قسم کے دیگر معاملات پی پی پی کے گلے میں ہڈی بن چکے ہیں۔ عزیر بلوچ کو فوج کی تحویل میں لئے جانے اور آرمی ایکٹ کے تحت ان پر مقدمہ چلانے کے عمل سے معاملات کی مزید سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال بن گئی ہے کہ گفتم مشکل و نہ گفتم مشکل۔ دوسری جانب حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کی حکومت گو کہ اپنی پیشرو حکومت کی طرح عوامی نفرت کا تو شکار نیہں لیکن عوام کا سامنا کرنے کے لئے اس کی پٹاری بھی خالی ہے۔ آئندہ بجٹ میں عوام کو کیا دیا جائے گا اس سے قطع نظر حکومت کچھ ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے عوام کی توجہ حاصل کی جاسکے۔ گو کہ یہ اقدامات اشک شوئی کے زمرے میں بھی نہیں اور نہ ہی اس سے عوام کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود مبصرین کاخیال ہے کہ 2018 ء کے انتخابات کا وقت جوں جوں قریب آتا جارہا ہے مسلم لیگ نواز کی جانب سے الیکشن کی تیاریوں کا سلسلہ بھی تیز ہوتا جارہا ہے، اس بات کا اندازہ وفاقی کابینہ کی جانب سے متعدد ووٹرزدوست اقدامات کی منظوری سے ہوتا ہے جس میں سرکاری نوکریوں کی بحالی، 50000 ملازمین کو مستقل کرنا، گیس کنکشن کی بحالی اور بے گھر افراد کیلئے ہائوسنگ اسکیمز کا آغاز شامل ہے۔وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے دوران معمول کے امور پر بھی فیصلے کیے جن میں حج پالیسی، منشیات ایکٹ میں ترمیم اور ملک کے 3 اہم ہوائی اڈوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا شامل ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق کابینہ نے بھرتی کی پالیسی میں ترمیم کی منظوری دی ہے تاکہ سرکاری نوکریوں کیلئے میرٹ کے مطابق بھرتیوںکو یقینی بنایا جاسکے۔کابینہ کے اجلاس میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے، جو عارضی یا کنٹریکٹ کے تحت کام کررہے ہیں، کو عمر کی حد بندی میں چھوٹ فراہم کی جائے گی۔گریڈ ایک سے گریڈ 15 تک کی نوکریوں کیلئے شمولیت / ریگولرائزیشن کا معاملہ متعلقہ وزارتیں اور ایجنسیاں براہ راست دیکھیں گی جبکہ گریڈ 16 سے 17 کے افسران کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی)کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت ان 50000 افراد کو ضم کیا جاسکے گا جو سرکاری نوکریوں پر پابندی کے باعث ریگولر نہیں ہوسکے اور ایڈ ہاک کی بنیاد پر کام کرنے والے ایسے افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے جن کی عمر حد پار کرچکی ہے۔وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج پالیسی 2017 کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے نئی گیس اسکیموں پر پابندی اٹھانے کی منظوری بھی دی۔اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو ان کی مدت ملازمت کے مطابق تقرری کے لئے نمبر دینا کوئی رعایت نہیں۔ ہاں اگر ان کو عملی ترجیح دی جاتی ہے اور بڑے پیمانے پر کنٹریکٹ ملازمین اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کردیا جاتا ہے تو یہ ہمدردی حاصل کرنے والا عمل ضرور ہوگا۔ اس اعلان کے پس پردہ کیا ہے اس کا اندازہ نہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ ان ملازمین کو آئندہ تقرریوں میں سروس اور تجربہ کے مطابق نمبر دینے کا وعدہ کرکے ان آسامیوں کو ہی خالی کرکے نئی بھرتیاں شروع نہ کی جائیں۔ جہاں تک حج پالیسی کی منظوری اور حج انتظامات کا سوال ہے اس مد میں موجودہ حکومت کا ریکارڈ بہتر ہے اور توقع ہے کہ اگر اس میں بہتری نہ بھی آئی تو ابتری بھی نہیں آئے گی۔ یقینا رہائشی مسائل کا حل اور سستے مکانات کی فراہمی ایک خوش کن وعدہ ضرور ہے لیکن ایک سال کی مد میں اس منصوبے پر عملدرآمد کا امکان نا ممکن ہی دکھائی دیتا ہے۔ جس طرح کی صورتحال ہے ایسے میں عوام کا اب کسی جھانسے میں آئے بغیر اپنے ووٹ کا ضمیر کے مطابق استعمال ہی واحد راستہ باقی دکھائی دیتا ہے اور یہی درست راستہ ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوتے ہوئے مزید کیا تبدیلیاں سامنے آتی ہیں اور انتخابات 2018ء ہی میں ہوتے ہیں یا پھر 2017ء کو انتخابی سال قرار دینے والوں کی بات درست نکلتی ہے۔

اداریہ