Daily Mashriq


چینی زبان سیکھنے کے مزید مراکز کے قیام کی ضرورت

چینی زبان سیکھنے کے مزید مراکز کے قیام کی ضرورت

خیبر پختونخوا کے چار مختلف علاقوں میں چینی زبان سکھانے کے مراکز کے قیام کا منصوبہ احسن ضرور ہے لیکن اس میں سے دو مراکز ایبٹ آباد اور ہری پور میں لگانے کی بجائے اگر ایک مرکز ملاکنڈ ڈویژن کے علاقے میں لگایا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامات مناسب ضرور ہیں لیکن محض چار مراکز کے قیام سے اس امر کی توقع رکھنا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کے تعلیم یافتہ نوجوان سی پیک کے منصوبوں میں ملازمت کے حصول کے لئے چینی زبان سے واقفیت حاصل کرسکیں گے حقیقت پسندانہ امر نہیں۔ ابتدائی طور پر چار مراکز کا قیام عمل میں لانے کے بعد کم از کم ڈویژنل سطح پر پورے صوبے میں اور ہر قبائلی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں ایک مرکز قائم کیاجائے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف چینی زبان سے واقفیت کا کورس کافی نہیں بلکہ ان مراکز میں مختلف ہنر سکھانے کا بھی بندوبست ضروری ہے۔ جہاں تک چینی زبان اور ہنر سکھانے کا تعلق ہے اس ضمن میں پنجاب میں کافی تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ پنجاب سے پانچ ہزار نوجوانوں کو عنقریب چین بھیجا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ اس وقت جبکہ دنیا بھر میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا چرچا ہے اس ضمن میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ محض ایک تجارتی و اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ اس کے مثبت اثرات سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔ اقتصادی راہداری منصوبے سے قطع نظر بھی دیکھا جائے تو چین عالمی سطح پر اہم مقام اور حیثیت حاصل کرچکا ہے اور چینی زبان سیکھنے کی اہمیت و افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹیوں میں بی ایس پروگرام کے کسی نہ کسی سمسٹر میں چینی زبان کا ایک مضمون ضرور شامل کیا جائے خاص طور پر زبانیں سکھانے کی مشہور یونیورسٹی نمل کی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ اپنے تمام کیمپسز میں چینی زبان کی تعلیم و تدریس کا خصوصی بندوبست کرکے سبقت حاصل کریں۔ نجی یونیورسٹیوں میں اور خاص طور پر ان تمام یونیورسٹیوں میں جہاں انجینئرنگ کی تعلیم دی جاتی ہو چینی زبان کے کورسز شامل نصاب کئے جائیں۔ چینی زبان سیکھنے سکھانے پر اس لئے بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ چینی بھائی بہت عرصے سے اردو زبان سیکھنے میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ فروغ دینے اور تعاون کے شعبوں کو بھی فروغ دینے کے لئے بھی ایک دوسرے کی زبانوں سے واقفیت ضروری ہے۔

کے پی پولیس یاوی آئی پیز پولیس؟

پشاورکی پچاس لاکھ سے زائد آبادی کیلئے 6ہزار 200پولیس اہلکاروں میں سے 1500اہلکار سیاسی شخصیات کی سیکورٹی پر مامور ہونے کے بعد عام آدمی کے تحفظ اور قانون شکنوں سے نمٹنے کے لئے پولیس کی کتنی نفری دستیاب ہوتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ویسے بھی کسی فورس کی کلی تعداد بیک وقت نہ تو حاضر ہوتی ہے اور نہ ہی ڈیوٹی پر اس طرح سے تو صورتحال مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو مخصوص افراد کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور کرنا حیرت انگیز امر ہے۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ حکومت ایک جانب وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی دعویدار ہے اور دوسری طرف عالم یہ ہے کہ خود سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور کے ایم پی ایز ، ایم این ایز کی سیکورٹی کیلئے 182اہلکار تعینات ہیں جبکہ پندرہ سو اہلکار وی وی آئی پیز کے بنگلوں اور دفاتر کے باہر تعینات کئے گئے ہیں ۔ 3500اہلکاروں میں سے 2600اہلکار شہر کے مختلف تھانوں میں جو نفری تعینات ہے وہ بھی معمول کی ڈیوٹی کے علاو ہ روزانہ پندرہ سے زائد وی وی آئی پی مومنٹ پر ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں بم ڈسپوزل یونٹ ، سراغ رساں کتے بھی وی وی آئی پیز کے لئے مختص ہیں ۔ وی وی آئی پیز کی سیکورٹی پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔محولہ اعداد و شمار سے بخوبی واضح ہے کہ کے پی پولیس صرف وی آئی پیز ہی کے لئے مختص ہے جس کو تنخواہ تو سرکاری خزانے سے ملتی ہے مگر تحفظ وہ مخصوص طبقے ہی کا کرتی ہے۔ کیا خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس اس ضمن میں کوئی نظر آنے والا قدم اٹھائیں گے۔ اس سوال کاجواب تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں تو سراسر نفی میں ہے پھر بھی توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی پولیس سربراہ کے پولیس کو وی آئی پیز پولیس بنانے کی بجائے عوامی پولیس بنانے پر توجہ دیں گے۔

متعلقہ خبریں