Daily Mashriq


کلبھوشن کا معاملہ اور عالمی رائے عامہ

کلبھوشن کا معاملہ اور عالمی رائے عامہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جو بیان جاری کیا گیا ہے اس میں اور باتوں کے علاوہ یہ وضاحت بھی شامل ہے کہ تخریب کاری ' جاسوسی'دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کو اکسانے اور انہیں منظم کرنے کے الزامات کے تحت بھارت کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو جو سزائے موت سنائی گئی ہے اس پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس وضاحت کی شاید ضرورت نہ ہوتی اگر بھارت کے حکمران اظہار ندامت یا کم از کم خاموشی اختیار کرنے کی بجائے کلبھوشن یادیو کو چھڑانے کے لیے ''ہر حد تک جانے''اور پاک بھارت تعلقات میں بگاڑ ایسی دھمکیوں پر نہ اُتر آتے۔ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اگرچہ اشارہ دیا ہے کہ بھارت سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے کسی اچھے وکیل کا بندوبست بھی کرے گا اور اگر ضروری ہوا تو صدر پاکستان سے رحم کی اپیل بھی کی جائے گی۔ لیکن یہ قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے بھارت نے دھونس اور دھاندلی کا وتیرہ اپنایا ہے ۔ ایک طرف پاکستان کو ہر حد تک جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں دوسری طرف عالمی رائے عامہ کو اپنے جاسوس کے حق میں متاثرکرنے کے لیے اس کے مقدمہ ہی کو ''مضحکہ خیز'' قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طرز عمل سے صاف نظر آتا ہے کہ بھارت حسب دستور سابق عالمی رائے عامہ کے سامنے' بقول بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کے: سیبوں کو سنتروںکے طور پر پیش کرنے کوشش کرے گا۔ اس سے پہلے بھارت گوئبلزکے اس قول پر عمل کرتے ہوئے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ سمجھا جائے، پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام بار بار دہرا کر عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے میں کافی حد تک کامیاب نظر آتا ہے۔ لہٰذا ایک بیانیہ تشکیل دیا جا چکا ہے جس میں پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حیرت بلکہ رنج کی بات ہے کہ پاکستان ایک عشرے سے زیادہ عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے ۔ دہشت گردی کے باعث پاکستان کے ساٹھ ہزار شہری اور فوجی افسر و جوان شہید ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو اربوں کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ حالانکہ ان برسرزمین حقائق کی بنا پر بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم کیا جانا چاہیے تھا کہ پاکستان دنیا کو دہشت گردی کے عالمی ابھار سے محفوظ رکھنے کے لیے فرنٹ لائن سٹیٹ کا کام کر رہا ہے۔ بعض لوگ جوابی بیانیہ تشکیل دینے کی باتیں کرتے ہیں لیکن بیانیہ کا توڑ حقائق بیان کرنے سے ہوتا ہے۔ پاکستان کے دانشوروں اور قائدین کو یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ دنیا پر حقائق آشکار کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان مخالف بیانیہ عالمی سطح پر قابلِ توجہ ہے۔ بھارت سے یہ توقع کم ہے کہ وہ کلبھوشن کی رہائی کے لیے پاکستان کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے پر اکتفا کرے گا۔ اس کے لیڈر پہلے ہی اس مقدمے کی کارروائی کو مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر معاملہ اُٹھانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ترجمان کا بیان قیمتی' بروقت اور قابلِ غور ہونا چاہیے۔ جب ایک بھارتی صحافی نے سیکرٹری جنرل کی ترجمان سٹیفنی ڈمارک کو کلبھوشن کی سزائے موت کی طرف متوجہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اس مقدمے کی سماعت کے بارے میں کوئی موقف اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ سیکرٹری جنرل کی ترجمان کا موقف صائب ہے۔ بھارتی صحافی کے سوال سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت بین الاقوامی کمیونٹی میں اس معاملے کو اچھالنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ سیکرٹری جنرل کی ترجمان نے البتہ کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں کو مذاکرات کرنے چاہئیں۔ سیکرٹری جنرل کی ترجمان کی اس تجویز سے پاکستان میں وہ لوگ شاید خوش ہوں گے جو بھارت کو مذاکرات کی میز تک لانے ہی کو سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ پاکستانیوں کی اس خواہش کو بھارت ایک حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ عالمی دباؤ اور پاکستان کے اصرار پر بھارت کشاں کشاں مذاکرات کی طرف آتا ہے اور پھر کسی نہ کسی بہانے مذاکرات سے نکل جاتا ہے۔ اب ایک طرف اقوام متحدہ سے یہ آواز آئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کرنے چاہئیں دوسری طرف خود بھارت کے اندر اپوزیشن کانگریس کے لیڈر مانی شنکر آئرنے کہا ہے کہ بھارت کلبھوشن کے معاملے پر پاکستان سے مذاکرات کرے۔ امکان ہے کہ ایسی تجاویز اور ممالک کی طرف سے بھی آئیں۔ اس ضمن میں ایک معاصر کی خبر ہے کہ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز دفتر خارجہ کے سینئر افسروں کی معاونت سے کلبھوشن کے معاملے پر (بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے پیش کرنے کے لیے) ایک سفارتی مقدمہ تیار کر رہے ہیں۔ خبر میں کسی شخصیت کا ذکر کیے بغیر یہ کہا گیا ہے کہ اگر بھارت کشمیر اور دیگر ایشوز پر مذاکرات کے لیے تیار ہو جائے تو بھی اس کاردِعمل اور موثر جواب دیا جائے گا۔ خبر کے الفاظ ابہام پیدا کرتے ہیں تاہم یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ پاکستان کے سفارت کاروں کے لیے بیان یا کیس تیار کیا جارہا ہے اور توقع یہ کی جا رہی ہے کہ بھارت کشمیر اور دوسرے ایشوز پر مذاکرات کے لئے تیار ہو جائے۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ بیانیہ (جو تاثرات پر مبنی ہوتا ہے) کا موثر جواب حقائق ہوتے ہیں۔ کلبھوشن کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ یا کیس وہی ہے جو کچھ عدالت میں ہوا۔ کلبھوشن پر تخریب کاری' دہشت گردی ' جاسوسی اور علیحدگی پسندوں کو منظم کرنے اور انہیں فنڈز فراہم کرنے کے الزامات ' ان الزامات کے ساتھ ظاہر ہے شواہد بھی ہیں ۔ دوسرے کلبھوشن کے اعترافی بیانات جوان الزامات اور شواہد کو ثبوت کے درجے تک پہنچاتے ہیں اور عدالت کا فیصلہ۔ یہی کیس کافی ہے۔ یہی کیس دنیا کے سامنے فوری طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کے اس مقدمہ کو مضحکہ خیز قرار دینے کی قلعی کھل جائے۔

متعلقہ خبریں