دو بڑوں کے درمیان مسلم دنیا

دو بڑوں کے درمیان مسلم دنیا

امر یکا کے بارے میں مسلم ممالک کو ہی نہیں شکا یت کہ وہ مداخلت کا رہے بلکہ شما لی کو ریا بھی تواتر سے شکا یت کر رہا ہے کہ اس کے معاملا ت میں مد اخلت کا ر ہے ۔ کو ریا نے امریکا کی طرف سے طیا رہ بردار بحری بیڑہ جزیر ہ نما کو ریا بھیجے جا نے پر شدید برہمی کا اظہا ر کیا ہے اس طر ح امر یکا علا قہ میں اشتعال انگیزی کو فر وغ دے رہا ہے ،جس کی ذمہ داری امریکا پر ہی عاید ہو گی ،ادھربرطانوی اخبار گارجین نے انکشا ف کیا ہے کہ ایک امر یکی عہد ے دار نے لیبیا کو تین حصو ں میں تقسیم کر نے کی تجو یز پیش کی ہے ۔ اخباری رپورٹ کے مطابق امریکی عہد یدار کاکہنا ہے کہ موجو دہ لیبیا ما ضی میں تین الگ الگ ریا ستو ں پر مشتمل تھا۔ اخبار کے مطا بق وہا ئٹ ہا ؤس کے سینئر عہد یدار نے جنہیں وزارت خارجہ کا اہم عہدہ سونپا گیا ہے ایک یو رپی سفارت کا ر کی موجو دگی میں لیبیا کا تین خود مختار ریاستوں میں تقسیم کا فارمولہ پیش کیا ہے۔ اس مریکی عہد ید ار کا نا م سیپا سنیا ن گورکا بتایا گیا ہے ، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر خاص ہیں ، جنہوں نے لیبیا کی تقسیم کی تجو یز ٹرمپ کے اقتدار سنبھا لنے سے پہلے پیش کی تھی۔ یہ وہی گورکا ہیں جو لیبیا کے انتہا پسندو ں کے ساتھ گہر ے تعلقات رکھتے ہیں اور کئی مرتبہ ان تعلقات کی بنیا دپر شدید تنقید کا نشانہ بھی بن چکے ہیں ۔ وہ اسلامی انتہا پسندی کے خلا ف طا قت کا استعمال کرنے کا مطالبہ کر تے ہیں ۔ اس سے قبل امریکا مشرقی تیمور کو بھی مذہبی قومیت کی بنیا د پر تقسیم کر انے میں کر دار ادا کر چکا ہے اور سو ڈان کی بھی تقسیم بھی اسی بنیا د پر کرائی گئی کہ پہلے وہاں عیسائی اکثریت کو ان علاقوں میں پنپنے کا موقع فراہم کیا گیا ، جو تیل کے کنوؤں سے بھر ے پڑے ہیں پھر ان کو اسلا می سو ڈان سے الگ کر دیا۔ بھارت کی جا نب سے بھی پاکستان کے بارے میں ایسے ہی معاندانہ خیالا ت کا اظہا رکیا جاتاہے بھا رتی لیڈر الیکٹرانک میڈیا پر بے دھڑک اپنے ان عزائم کا اظہا رکر تے ہیں جس میں پا کستان کے حصے بخرے کر نے کی آرزو مچلتی رہتی ہے ، مگر کسی امریکی عہدیدار نے بھارت کے لیڈ روں کے ان خیالات کی مذمت نہیںکی ۔آج دنیا کے نقشے پر جو ہو ہا مچی ہو ئی ہے اس کا سبب ہی امریکا ہے ، حالیہ امر یکا اور روس کے درمیان جو کشید گی پید ا ہوئی ہے اس میں کھلا کر دار امریکا ہے ۔ شام پر میزائل حملے کے بعد امریکی وزیر خارجہ رو س کے دورے پر جارہے ہیں ، اس سے قبل جی سیو ن ممالک کا ایک اجلا س ہو ا تھا جس میں اس امرپر زور دیا گیا کہ رو س پر دباؤ ڈالا جا ئے کہ وہ شام کے معاملا ت سے دو ر رہے۔ چنا نچہ بر طانو ی وزیر خارجہ نے اپنا دور ہ ماسکو اسی بنا ء پر ملتو ی کر دیا کہ امریکی وزیرخارجہ کو بھیجا جا رہا ہے امریکا کی جانب سے روس پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ روس خان شیخو ن کے علا قے میں شام کو کیمیائی ہتھیا ر و ں سے حملہ روکنے میں ناکا م رہا ہے ، بہر حال نئی صورت حال میں شام کا موقف ہے کہ اس نے کبھی بھی کیمیائی ہتھیا ر استعمال نہیں کیے ، عراق پر حملے میں امریکا نے ایسے ہی خطرناک ہتھیار رکھنے کا الزام لگایا تھا مگر بعد میں اعتراف کیا کہ خفیہ اداروںکی رپور ٹیں غلطی پر مبنی تھیں افغانستان میں روس کی پسپائی سے یہ گما ن کر لیا گیا تھا کہ اب صرف امریکا ہی واحد قوت ہے ،جو قطعی غلط فہمی پر مبنی ہے کیو ں کہ دنیا کی تا ریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو ا یہ عارضی تر عمل ہو تا ہے ، امریکا کی یک طر فہ سوچ نے ایک مر تبہ پھر روس کو سو چنے پر مجبو رکر دیا ہے چنانچہ اس نے بھی نئے اتحادی تلا ش کر نا شروع کر دیے ہیںجس میں ا س کو کافی حد تک کا میا بی بھی مل چکی ہے۔ ایک عشرہ پہلے تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ رو س اور چین کو ایک دوسرے سے خطرہ ہے جو امریکا کے مفا د میں ہے لیکن حالا ت پلٹا کھا تے دیر نہیں ہو اکر تی۔ شنگھائی تنظیم نے تما م خواب ادھو رے کر دیے ، اور وہ کھچاؤ یا تنا ؤ جو چین اور روس کے درمیا ن پا یا جا تا تھا ختم ہو کر رہ گیا ہے اور علاقے کی ترقی ، امن کی جانب تعاون کا ہا تھ ایک دوسرے نے تھا م لیا ہے ، روس کی سرکا ری ویب سائٹ پر حال میں بتا یا گیا ہے کہ جو لا ئی 2017ء سے روسی فو ج کی تعداد انیس لا کھ تین ہزار اکا ون ہو جا ئے گی جس میں دس لا کھ تیر ہ ہزار چھ سو اٹھا ئیس حاضر سروس فوجی شامل ہو ں گے مجموعی طو ر پر مسلح افواج کی تعداد میںنیس ہزار کا اضافہ ہو گا ، ان اعدا د کی روشنی میں روسی فوج دنیاکی پانچویں بڑی فوج بن جائے گی ، فوجیو ں کی تعداد کے لحاظ سے اس وقت چین پہلے نمبر پر ہے جس کی فوج کی تعدا بیس لا کھ سے بھی زیادہ ہے ،تیسرے نمبر پر امریکا ، پھر انڈیا اوربعد ازاں شمالی کو ریا ہے جس نے امریکی بحری بیڑہ کے خلا ف احتجا ج کیا ہے ، ان اقدام کا مطلب ہے کہ روس اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر رہا ہے ۔ امریکا اپنے بحری بیڑے بھیج کر اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر تا ہے ، جس کی وجہ سے علا قے کا امن مشکو ک ہو جا تا ہے۔ جیسا کہ شمالی کوریا نے احتجا ج کے ساتھ امریکا کو یہ تنبیہہ کی ہے کہ حالا ت کا وہی ذمہ دار ہو گا ۔ ظاہر ہے کہ امریکی بیڑے کی آمد کے بعد شمالی کوریا بھی کوئی اقدام روبہ عمل لا ئے گا جس سے حالا ت کو بہتر بنا نے میں تو نہیں البتہ کشید گی کے پھیلنے میں ضرور مدد حاصل ہو جا ئے گی۔اگر چہ اس وقت وسطی ایشیا میں حالا ت دیگر علاقوں کے مقابلے میں بہتر ہیں کیو ں کہ اس خطے کے ممالک کا آپس میں کوئی تنا زعہ نہیں ہے بلکہ جو مسائل ہیں ان کو حل کر نے کی سعی کی غر ض سے ایک دوسرے سے تعاون بھی کیا جا رہا ہے جس کی سب سے عمدہ مثال ماسکو کا نفرنس کا انعقاد ہے مگر جو خطرات ہیں وہ بیر ونی عالمی قوت کی جانب سے پید اکر دہ ہیں ۔

اداریہ