پرائی جنگوں کا ایندھن ہمارے بچے کیوں ؟

پرائی جنگوں کا ایندھن ہمارے بچے کیوں ؟

سوال کسی نفرت یا تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ علم وآگہی کی ترویج کے لئے اُٹھا ئے جاتے ہیں ۔ بد قسمتی سے ہمارے یہاں مطالعہ بہت کم ہے اور تقابلی مطالعہ نہ ہونے کے برابر ۔ اس پر ستم یہ کہ جو لوگ عصری مسائل سے کاملاً آگاہ نہیں وہ تاریخ پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ سمجھنے کی کوشش کیجئے تاریخ موضوع ہے اور علم بھی ۔ یہ کشتی کا اکھاڑہ نہیں کہ مخالف پہلوان کو چت کر کے بھنگڑا ڈالاجائے ۔ مصر کے فاطمی عہد کے ایک بلند پایہ دانشور حمیتلباب کہتے ہیں ۔ ' ' تاریخ پر مکالمہ بہت ضروری ہے اس سے اولاً تو نئی نسل پچھلے ادوار کے سچ سے آگاہ ہوتی ہے اور ثانیاً یہ کہ تاریخ کو کمان پکڑ کر مرضی کے راستے پر چلانے کی خواہش پالنے والوں کو ناکامی ۔ سو ہم سے طالب علم جب یہ سوال کرتے ہیں کہ افغانستان میں لڑی گئی سوویت امریکہ جنگ سے پاکستان کے عام آدمی کو کیا ملا؟ تو یہ کسی تعصب یا تنگ نظری کا اظہار نہیں بلکہ اُن بھیانک نتائج کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے جن کے اثرات بد آج بھی محسوس کیئے جاسکتے ہیں ۔ ہمارے یہاں پچھلے 30برسوں سے مختلف اقسام کی جس دہشت گردی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اس نے اسی افغان جنگ کی کھو کھ سے جنم لیا ہے ۔ افغان جنگ جو ابھی جاری ہے ۔ میدان جنگ وہی ہے بس کردار تبدیل ہوئے ۔ پروپیگنڈہ یہ ہے کہ افغان جہاد کے دنوں میں بیس لاکھ افغان مارے گئے ۔ ویسے امریکہ سپانسر ڈ مجاہدین نے سوویت یونین کی نصف آبادی کے قریب فوجی ماردیئے تھے اور سوویت یونین سے دوگنا زیادہ افغانستان آزاد کرالیا تھا ۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ جنیوا معاہدے کے بعد افغانستان میں پھوٹی خانہ جنگی 5لاکھ سے زیادہ افغانوں کو کھا گئی' بھائیوں کے لہو سے غسل کرنے والے بھی مجاہد تھے اور مقتولین بھی مجاہد کہلائے۔ اس حوالے کی ضرورت یوں آن پڑی ہے کہ ہم (یہاں ہم سے مراد ہمارے پالیسی ساز ہیں) نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔ زندگی کے طور بدلے نہ انداز حکمرانی' پرائی جنگ کو گھر میں لے آنے کا ذمہ دار کون ہے؟ سادہ سا جواب ہے کہ وہ سب جنہوں نے افغان جنگ سے فیض پایا ککھ پتی کروڑ پتی ہوئے اور یہاں ہزاروں خواتین پتی سے محروم۔

کاش ہم سمجھ سکتے کہ دنیا میں وقار اور سر بلندی کے ساتھ جینے کے ڈھنگ اس سے سوا ہیں۔ افغان جہاد کے ثواب چند جرنیلوں اور مجاہد فروشوں نے سمیٹے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوئی۔ چار دہائیوں کے دوران کھر بوں روپے کا نقصان پاکستانی معیشت کو ہوا اس پر ستم یہ کہ آج افغانستان میں ہمارا دوست کوئی نہیں وہ بھی نہیں جو کبھی مہمان کے طور پر یہاں رہے یا اب بھی رہتے ہیں۔ خود پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو کبھی قوم پرستوں نے امریکی ٹو ڈی قرار دیا تو وہ مولویوں اور جرنیل شاہی کے لاڈلے تھے۔ کبھی مولوی ان سے بے زار ہوئے تو قوم پرست اور پالیسی ساز ایک پیج پر تھے۔ سب نے سیاسی فائدے اٹھائے۔ کبھی پشتون ولی اور کبھی مسلم پشتون ولی۔ سلسلہ ابھی جاری ہے' جب کبھی اس پر پاکستان کے اجتماعی مفاد کے تناظر میں بات کی جائے تو ایک وقت میں جہادی کھانے کو دوڑتے تھے اور اب قوم پرست۔ طعنہ یہ ہے کہ اٹک کے پل تک ان کا وطن ہے' آپ کون ہوتے ہیں۔ بہت ادب کے ساتھ کبھی یہ سوال پوچھو کہ حضور یہ بتائیے کہ جو سہولتیں پاکستان میں قانونی و غیر قانونی طور پر افغان مہاجرین لے رہے ہیں ان کا نصف کسی پاکستانی کو افغانستان میں مل سکتا ہے؟ جواب میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ یہاں لکھنے سے قاصر ہوں۔ یہ ساری داستان مختصر طور پر لکھنے کی ضرورت یوں پڑی کہ ریاست ایک بار پھر نیا تجربہ کرنے جا رہی ہے۔ 39ملکی اسلامی عسکری اتحاد میں ہمیں ایسے شامل کیاگیا جیسے سوشل میڈیا پر پیشگی اطلاع کے بغیر آپ کسی پوسٹ میں ٹیگ یا گروپ میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔ اب ہم اتحاد کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ جناب راحیل شریف کی نئی ملازمت کے ثمرات ان کے لئے ہوں گے۔ میراسوال یہ ہے کہ پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کاشوق 70سال کی عمر میں بھی نہیں جا رہا تو کب جائے گا؟ کیا یہاں کسی نے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ اسلامی عسکری اتحاد میں ہماری شمولیت داخلی سطح پر کس طرح کے مسائل پیدا کرے گی؟ حضور! سمجھنے کی کوشش کیجئے پاکستان ایک کثیر القومی اور کثیر المسلکی ملک ہے۔ بد اعتمادی کی خلیج پہلے ہی بہت گہری ہے۔ ایسے میں منتخب پارلیمان کی منظوری کے بغیر کیا گیا فیصلہ مثبت نتائج نہیں دے گا بلکہ گمبھیر مسائل کے جنم لینے کا باعث بنے گا۔ یہ سارے جہاں کا درد جو ہمارے دل میں ہے اس کا علاج کیوں نہیں کرواتے ہم۔ خلیج تعاون کونسل کے ممالک مجموعی طور پر تین سو ارب ڈالر سے زیادہ کے سودے اور سرمایہ کاری بھارت سے کر رہے ہیں تو اسے عسکری اتحاد میں شامل کیوں نہیں کرتے۔ مال کی برسات بھارت پر اور مسائل کی برسات ہمارے لئے یہ تو اسلامی بھائی چارہ نہ ہوا' یہی عرض کرنا مقصود تھا پاکستان کسی نئی پرائی جنگ میں کردار ادا کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہمارے اپنے مسائل بہت ہیں اور اتنے کہ دماغ چکرانے لگتا ہے۔ یہ جو ہمیں مسلم امہ کی قیادت اور امیدوں کا مرکز قرار دیتے نہیں تھکتے یہ تو بتائیں کہ امہ کے مالدار ممالک نے اس پاکستان میں کتنے ارب ڈالر کی انوسٹمنٹ کی ہے؟ کسی مد میں انوسٹمنٹ کی بھی ہے تو ہم اس کا خمیازہ ہی بھگت رہے ہیں ثمرات سے فیض نہیں پا رہے۔ اس لئے بہت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ کسی قسم کا چوہدری یا نکاوڈا تھانیدار بننے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان کے مفادات کو اولیت دیجئے۔ ہمارے بچے پرائی جنگوں کا ایندھن بننے کے لئے پیدا نہیں ہوئے۔

اداریہ