Daily Mashriq


اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوںمیں۔۔

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوںمیں۔۔

زندگی بہت خوبصورت ہے اسے اچھے انداز سے گزارنا چاہیے جونعمتیں ہمارے پاس ہیں ان کو شمار کرتے رہنا چاہیے اس سے حوصلہ ملتا ہے ارادوں کو تقویت ملتی ہے۔ دل میں جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے! ان باتوں کی صداقت میں کسی کو کیا شک ہوسکتا ہے مثبت سوچ کے ساتھ زندگی کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے لیکن وہ جو شاعر نے کہا تھا کہ

اب بھی دلکش ہے تیرا حسن مگر کیجیے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے

بہت سی ایسی ناخوشگوار باتیں ہیں جو ہماری زندگی کا اٹوٹ انگ بنتی چلی جارہی ہیں مثلاً کمپیوٹر پر کام کرتے ہوئے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ نجانے کب بجلی داغ مفارقت دے جائے شیڈول لوڈ شیڈنگ کا مقابلہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن وقتاً فوقتاً واپڈا کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے اور جیسے جیسے ہم بہار کی دلفریب فضائوں سے نکل کر موسم گرما کی طرف بڑھتے ہیں دل میں بجلی کی آنکھ مچولی کے حوالے سے خدشات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔بجلی کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں گیس بی بی کا تذکرہ بھی ہوجائے تو کیا مضائقہ ہے مہمان موجود ہیں اور چولہوں میں گیس ندارد!تھوڑی تھوڑی دیر بعدمہمان سے کہا جاتا ہے کہ جناب بس گیس بی بی آیا ہی چاہتی ہے۔ ہرروز تو اس طرح نہیں ہوتا آج تو اس نے نہ آنے کی قسم کھا رکھی ہے کبھی کبھی تو ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ بجلی او ر گیس کو مہمانوں کی آمد ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن پھر خیال آتا ہے کہ یہ بھی ہماری خام خیالی ہے۔ مہمانوں کی عدم موجودی میں بھی تو گیس نہیں ہوتی لیکن اس وقت ہمیں اس کی کمی شدت سے محسوس نہیں ہوتی یہ وہی کیفیت ہے جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا

رنج سے خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں

مشکلوں پر یاد آیا گھر میں مریض موجود ہے ڈاکٹر صاحب نے بھاری بھرکم نسخہ لکھ کر دے دیا ہے اب گھر سے دوائیوں کی خریداری کے لیے نکلیے تو یہ دھڑکا بھی لگارہتا ہے کہ کیمسٹ کہیں غیر معیاری دوائی نہ تھمادے جو اچھی کمپنیاں ہیں ان کی پراڈکٹس میں منافع کم ہوتا ہے اس لیے ہمارے یہاں اس بات کا قوی امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے کہ غیر معیاری کمپنی کی ادویات دکاندار ہمارے سر تھوپ دے گا اور پھر دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کی فیس اپنی ذات میںخود ایک بہت بڑی بیماری ہے بیمار کو بیماری سے زیادہ ڈاکٹر کی فیس کی فکر ہوتی ہے۔ میڈیکل سائنس کی بے تحاشہ ترقی نے ڈاکٹروں کو بھی تن آسان بنادیا ہے۔ مریض سے بات کرتے ہی اس بیچارے کو تین چار مختلف قسم کے ٹیسٹ کروانے کا نادر شاہی حکم دے دیا جاتا ہے۔ پہلے ڈاکٹر اپنے مطب میں تیار کی گئی ادویات سے مریضوں کا علاج کیا کرتے تھے ہمیں اپنے بچپن کی لال دوائی ابھی تک یاد ہے۔ ہلکا پھلکا بخار ہوجاتا تو ڈاکٹر کا کمپائونڈر بخار کے لیے اپنے مطب میں تیار کی گئی لال دوائی ضرور دیتا ۔ساتھ ہی سفید گولیاں ہوتیں، دو تین دنوں میں بیماری سے نجات مل جاتی۔ نیت میں فتور نہ ہوتو نتائج بھی اچھے آتے ہیں لیکن جب مقصد پیسہ بنانا ہو تو پھر کہاں کی دوائی اور کہاں کا علاج؟اشد ضرورت کے تحت انجکشن لگایا جاتا یا میڈیکل سٹور سے دوائی خریدنے کی ہدایت کی جاتی۔ اب تو میڈیسن کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے گٹھ جوڑ نے مریض کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ میڈیسن کمپنی کے نمائندوں کی فوج ظفر موج ہر ڈاکٹر کے گرد منڈلاتی دکھائی دیتی ہے۔ مقابلے کی فضا میں ڈاکٹروں کو قسم قسم کی مراعات، تحفے تحائف ،مہنگے ہوٹلوں میں دعوتیں اور نجانے کیا کیا کچھ نہیں دیا جاتا۔ غیر معیاری میڈیسن کمپنیاں جانتی ہیں کہ ڈاکٹروں کے تعاون کے بغیر ان کی دال نہیں گلتی اس لیے ان کی نظر کرم ان پر ہمیشہ رہتی ہے ڈاکٹر بیچارا بھی انسان ہے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرانا کفران نعمت سمجھتا ہے اس لیے بہتی گنگا میں جی بھر کر ڈبکیاں لگاتا ہے۔ ایک بات ذہن میں رہے کہ جو خاندانی ڈاکٹر ہیں (خاندانی سے ہماری مراد ان لوگوں سے ہوتی ہے جو رزق حلال کے پروردہ ہوں ) اور اس حرام کے بیوپار اور آزار میں مبتلا نہیں ہیں یقینا وہ ہم سب کے لیے قابل احترام اور عظمت کے مینار ہیں یہی وہ لوگ ہیں دکھی انسانیت کی حقیقی معنوں میں خدمت کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹروں اور لیبار ٹریوں کی ملی بھگت نے یقینا مریضوں کی مشکلا ت میں بے پنا ہ اضافہ کر رکھا ہے ڈاکٹر کو لیبارٹری سے کمیشن ملتی ہے اس لیے اس نے مریض کو ٹیسٹ کے لیے ایک مخصوص لیبارٹری ضرور بھجوانا ہے۔ آج اپنے حالات کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ ہمارے حالات دگرگوں ہیں دھماکے پر دھماکہ ہورہا ہے انسانی جان جتنی ارزاں آج ہے پہلے کبھی بھی نہیں تھی لیکن ہم سب کے کان پر یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی جوں تک نہیں رینگتی آج لوگ گھر سے نکلنے سے پہلے ایک ہزار مرتبہ سوچتے ہیں

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ

چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

متعلقہ خبریں