پاکستان ، ایران اور افغانستان اتحاد!

پاکستان ، ایران اور افغانستان اتحاد!

میری شعوری زندگی میں ان تینوں ممالک کے درمیان کبھی بھی مثالی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات استوار نہ دیکھے گئے ۔ البتہ چند ایک مختصر وقفے ایسے ضرور آئے کہ ایران و افغانستان پر ایسے الزامات آئے کہ اُن کو پاکستان کی مددو حمایت کی سخت ضرورت تھی ۔ شاہ ایران کے عہد میں ایران اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات تھے ، لیکن اس کے پیچھے امریکہ کے سیٹو اور سینٹو کا کردار زیادہ تھا ۔ پھر انقلاب ایران کے ایام میں انقلابیوں کو پاکستان کی طرف سے مدد و تعاون اور نئی حکومت کو تسلیم کرانے میں پاکستان کی ضرورت پڑی تو رابطے کئے گئے اور مذہبی ، تاریخی و ثقافتی حوالے دیئے گئے ، تو پاکستان نے سب سے پہلے انقلابی حکومت کو تسلیم کیا ۔ ۔۔ لیکن بہت جلد یہ ہنی مون ختم ہوا کیونکہ تہران کے ذرائع ابلاغ میں صبح و شام پڑوسی ممالک میں انقلاب بر آمد کر نے کی باتیں شروع ہوئیں ۔ وہ دن اور آج کا دن خلیجی ممالک ، پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات میں کشید گی شروع ہوئی جس میں بہت اتار چڑھائو آئے لیکن خوشگوار و پائیدار تعلقات کی استواری ہنوز دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ ایران اور سعودی کے درمیان تو اس وقت اتنی شدید سرد مہری ہے کہ پچھلے سال حج جیسے فریضہ کی ادائیگی کے لئے بھی ایرانی نہ جا سکے ۔ جن دنوں ایران پر اُسکے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پابندیاں عاید تھیں اُس وقت پاکستان نے پڑوسی ملک کی حیثیت سے اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کر کے ایران کو سہارا دیا ۔ لیکن اچنبھے کی بات یہ ہے کہ ایران کی پاکستان کے ساتھ تجارت دن بہ دن کم اور بھارت کے ساتھ بڑھی ہے ۔ آج ایران بھارت کی تجارت اربوں میں ہے اور پاکستان کے ساتھ 90کروڑ سے کم ہو کر بیس پچیس کروڑ رہ گئی ہے ۔ بد یہی طور پر تو چاہیئے یہ تھا کہ پاکستان ایران کے درمیان مشترک سرحد و مذہب کی بناء پر کسی بھی دوسرے ملک میں مقابلے میں تجارت زیادہ ہوتی ۔ پاکستان توانائی کے بحران سے چیخ و کراہ رہا ہے اور ایران میں اس کی بہتات ہے اور دونوں ملک ہاتھ بڑھا کر ایک دوسرے کو اس شعبے میں خاطر خواہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں ، لیکن پاکستان سعودی عرب سے پٹرول اور قطر سے ایل این جی درآمد کر رہا ہے جس پر ایران سے درآمد کرنے کی نسبت بہت زیادہ اخراجات اُٹھتے ہیں ۔ لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ زبانی جمع خرچ دونوں ملک ایک دوسرے پر جان چھڑکنے سے دریغ نہیں کرتے لیکن معمولی واقعات ، بد گما نیاں اور بعض دیگر معاملات ، بڑے اختلافات کو جنم دے کر ایک دوسرے کو اتنا حریف بنا لیتے ہیں کہ ایران جیسا اسلامی انقلاب کا دعویدار ملک پاکستان سے پھل کی درآمد ات پر پابندی لگا نے کا اعلان کرتا ہے اور ایک پل میں رکھ رکھائو اور رواداری کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ اب کیا یہ تحقیق کا موضوع نہیں ہے کہ کبھی ایسا چڑھائو کہ دونوں ملکوں کے درمیان سینکڑوں میل کی پائپ لائن بچھانے کی باتیں ہوتی ہیں تاکہ گیس سپلائی کر کے ایک دوست کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں اور دوسرے خزانے میں زرمبالہ کا اضافہ ہو اور پھر کبھی ایسا اُتار کہ پاکستان کی ریاست کے فیصلے پر ایران ایسی تنقید کرتا ہے گویا پاکستان اُس کازرخرید غلام ہے ۔ راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی پرایران کو احتجا ج کا حق تب حاصل ہوتا اگر ایران ، پاکستان کو بھی یہ حق دیتا ۔ ایران ، عراق ، شام اور یمن میںکیا کرتا رہا ہے ، کیا پاکستان نے کہیں اس پر ایک لفظ کہا ہے ؟ دو گہرے دوستوں کو ایک دوسرے کے مفادات و احترام کا خیال رکھنا لازمی امر ہوتا ہے ، لیکن جب حال یہ ہو کہ ایرانی سر زمین چاہ بہار سے کلبھوشن یادیو ، پاکستانی سرزمین بلوچستان میں دہشت گردوں کی سہولت کاری کے لئے داخل ہوتا ہے اور پکڑا جاتا ہے ، تو دوستی اور تعلق داری باتوں پر کوئی کیسے یقین کرے ۔ ایران کی طرح یہی حال افغانستان کا ہے ۔ افغانستان کے 1970ء سے اب تک حالات کے پاکستان پر جو ناخوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جس صبر و عزم کے ساتھ پاکستان نے برداشت کئے ہیں وہ بہت کم کسی ملک نے اپنے پڑوسی کے لئے برداشت کئے ہونگے ۔ پینتیس برسوں تک لاکھوں افغانیوں کو ہر قسم کی سہولتیں فراہم کر کے بھی ہم ان کے دل تو کیا جیتتے ، الٹے پاکستان کے دشمن بن گئے ۔ اور دھمکیوں پر اُتر آئے ۔ کہ ہم آٹا ، مرغیاں اور دیگر سامان خوردونوش بھارت سے بذریعہ کار گو وسطیٰ ایشیائی ممالک سے منگوائیں گے ۔ ایران سے تجارتی تعلقات بڑھائیں گے ۔ اچھی بات ہے ہر ملک کو حق حاصل ہے کہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے اور اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے جائز ذرائع استعمال کرے ، لیکن یہی حق جب پاکستان استعمال کرتا ہے تو پھر پاکستان کو برا بھلا کہا جاتا ہے ۔ طورخم اور چمن بارڈر پر دوستی گیٹ لگوانے پر افغانستان چیں بہ جبیںہوتا ہے اور ساتھ ہی اعتراض و احتجاج کرتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین افغانستان میں دہشت گرد داخل ہوتے ہیں ۔ یہی شکایت پاکستان کو بھی ہے اور اسی شکایت کے ازالے اور دہشت گردی کو محدود کرنے کے لئے جب گیٹ اور پاسپورٹ اور ویزہ کے انتظامات ہوتے ہیں تو ڈیورنڈ لائن کی باتیںچھیڑی جاتی ہیں ۔ حالانکہ یہ سرحد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے ۔ پاکستان جب اس سرحد کو بند کر لیتا ہے تو دونوں ملکوں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان اور عوام کو بے شمار مصائب کاسامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن پھر بھی ان دو پڑوسیوںکے درمیان ستر برسوں میں ایسے تعلقات استوار نہ ہو سکے جس میں اعتماد و تعاون اور اخوت وایثار کی فضا پروان چڑھے ۔

اداریہ