مشرقیات

مشرقیات

حضرت سالم فرماتے ہیں : ''ایک مرتبہ میں سید نا ذوالنون مصری کے ساتھ لبنان کے پہاڑوں میں سفر پر تھا ۔ آپ نے ایک مقام پر پہنچ کر مجھ سے فرمایا : '' اے سالم ! جب تک میں نہ آجائو ں ، تم اسی جگہ ٹھہر نا ۔ '' اتنا کہنے کے بعد آپ ایک پہاڑ کی سمت گئے۔ تین دن بعد جب آپ واپس آئے تو فرمانے لگے : '' یہاں سے جانے کے بعد میں ایک غار کی طرف نکل گیا ۔ جب میں اس میں داخل ہوا تو ایک ایسے بزرگ کو دیکھا ، جن کی داڑھی اور سر کے بال بالکل سفید ہو چکے تھے۔ وہ نہایت غمگین حالت میں اپنے پاک پروردگار کی عبادت میں مشغول تھے۔انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہ کی ، بالآخر میں نے ہی ان سے عرض کی : '' خدا آپ پر رحم فرمائے ، مجھے کچھ نصیحت فرما یئے اور میرے لئے رب کی بارگاہ میں دعا کیجئے ۔ ''
اس بزرگ نے فرمایا : '' اے بیٹا ! میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تجھے اپنی سچی محبت اور اپنے قرب خاص کی دولت سے مالامال فرمائے ۔ اتنا کہنے کے بعد وہ بزرگ چپ ہوگئے ۔ '' میں نے عرض کی : '' حضور ! کچھ اور نصیحت فرمایئے ۔ '' جس شخص کو خدا اپنے قرب کی دولت سے نوازتا ہے ، اسے چار عظیم نعمتیں عطا فرماتا ہے: (1)بغیر خاندانی شان وشوکت کے عزت (1)بغیر طلب کے علم (3)بغیر مال کے غناء (4)لوگوں کے نہ ہوتے ہوئے بھی تنہائی میں ما نو سیت والفت۔ اتنا کہنے کے بعد اس بزرگ نے ایک دردناک چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے ۔تین دن کے بعد انہیں ہوش آیا فوراً قریبی چشمے پر گئے ۔ وضو کیا اور مجھ سے پوچھا : ''اے بیٹا ! اس حالت میں میری کتنی نمازیں فوت ہوگئیں ، دو یا تین نمازیں ؟ '' میں نے عرض کی : ''حضور ! آپ کی تین دن اور تین راتوں کی نمازیں فوت ہو چکی ہیں ، آپ تین دن تک بے ہوشی کی حالت میں رہے ہیں '' پاس انہوں نے اپنی نمازیں مکمل کیں ۔ میں نے عرض کی : '' حضور ! میں مسلسل تین دن آپ کی بارگاہ میں حاضر رہا ہوں ،مجھے مزید کچھ نصیحت فرمایئے ۔ ''
تو وہ بزرگ فرمانے لگے : '' اے میرے بیٹے ! اپنے رب سے سچی محبت کر ، اس کی محبت کے عوض کوئی چیز طلب نہ کر۔اتنا کہنے کے بعد اس نیک بزرگ نے ایک چیخ ماری اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔'' کچھ ہی دیر بعد میں نے دیکھا کہ مختلف سمتوں سے بہت سے اولیا ء کرام پہاڑوں سے اتر کر آرہے ہیں ۔ انہوں نے اس بزرگ کی تکفین کی ، نماز جنازہ ادا کی اور اسے دفن کر دیا ۔
جب وہ جانے لگے تو میں نے ان سے پوچھا: '' یہ بزرگ کون تھے اور ان کا نام کیا تھا؟'' انہوں نے بتایا: '' ان کا نام شیبان المصاب ہے۔'' اتنا کہنے کے بعد وہ تمام صالحین وہاں سے چلے گئے۔ حضرت سالم فرماتے ہیں کہ میں نے اہل شام سے حضرت شیبان المصاب کے متعلق پوچھا: '' انہوں نے بتایا کہ لوگ انہیں دیوانہ سمجھتے تھے اور بچے انہیں پاگل سمجھ کر تنگ کرتے اور پتھر مارتے' اسی لئے وہ یہاں سے چلے گئے اور پہاڑوں میں مشغول عبادت ہوگئے۔''

اداریہ