Daily Mashriq


سیا سی کھمبیو ں کا کھیل

سیا سی کھمبیو ں کا کھیل

صدرایو ب خان کو مشرقی پاکستان کا بریگیڈ کمانڈر مقرر کر تے ہو ئے ان کے تقرر نامہ پر قائد اعظم ؒنے لکھا تھا کہ یہ سیا ست میں بہت دلچسپی رکھتا ہے اس لیے اس پر نظر رکھی جا ئے ، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ قائد اعظم فوج سمیت کسی سرکا ری ادارے یا افسر کی سیا سی امو ر میں دخل اندازی کے مخالف تھے۔ بعدا زاں کے حالات نے ثابت کیا کہ گہر ی نظر رکھنے والے قائد کی سیا سی بصارت کتنی گہری تھی۔ اسی دلچسپی نے پاکستان کو برسو ں آئین نہیں دیا ، تاہم موجودہ نسل شاید اس امر سے بے خبر ہے کہ پا کستان کے سیا ست دان 1956میں ایک ایسا آئین دینے میں کا میا ب ہوگئے تھے جو پا کستان کے وفاق کی ضمانت بھی تھا اور ایک مستحکم اور مضبوط جمہو ریت کا ضامن بھی تھا جس کے تحت فروری 1959ء میں عام انتخابات طے ہوگئے تھے ، اسی آئین نے بیو ر وکر یسی کے مضبوط ستون سکند ر مر زا کوگورنر جنرل سے صدر کے عہد ے پر فائز کر دیا ، اسٹیبلشمنٹکے مختار کل جنر ل ایو ب خان اور ان کے حواریو ں کو یہ جمہو ری آئین پسند نہ تھا کیو ں کہ وہ حکمر انی کے زعم سے خا رج ہو کر اپنی بارکو ں میں اصل فرائض کی جانب لو ٹ جا تے چنا نچہ دونو ں نے مل کر اس پارلیمانی جمہوری آئین کو ٹھکانے لگا نے کی ساز ش تیا ر کی اور پو ری منصوبہ بندی سے کام کر تے ہوئے سب سے پہلے سیا سی وفا داریا ں خرید نے کا بازار لگا یا جس کے ذریعے پاکستان کی خالق جما عت مسلم لیگ کی جگہ راتو ں رات ری پبلکن پارٹی کھڑی کی گئی جس میں ایسے لو گو ں کو شامل کیا جن کی سیا سی وفاداری مسلم لیگ سے واجبی تھی ۔اس زمانے میں جبکہ اخبارات اور واحد الیکٹرانک میڈیا ریڈیو جو حکومت کے کنٹرول میں بری طر ح جکڑے ہو ئے تھے اس کے علا وہ کوئی دوسر آزاد ذریعہ عوام کے پا س معلو مات کا نہ تھا اس وقت عوام اتنے باشعور تھے کہ ایک رات میں وجو د میں لا ئی جانے والی ری پبلکن پارٹی کو عوام نے قبول نہیں کیا گویا آج جو سیا سی کھمبیاں اگائی جا رہی ہیں یہ اسی زما نے کا وتیرہ ہے کہ مقبول سیا سی قوت کو کمزور کر نے کے لیے نئے نقاب پو ش سیا سی چہر یمعتر ف کر ائے جا ئیں۔ گمنام عبد القدوس بزنجو اس کا پہلا تجر بہ تھا اب کا م دو پہلوؤں سے نظر آرہا ہے کہ ایسے سیا سی گر وپ قبولیت کی جا نب بھیجے جا رہے ہیں جو نا پسندید ہ سیا سی جما عتوں کو کا تو ڑ بن جائیں یعنی ان کے ووٹ بینک کو کنگال کر نے میں کر دار ادا کر یں۔ دوم ما ضی کے نا کام تجر با ت سے یہ بھی حاصل ہو ا کہ نئی سیا سی جماعتوں کو جنم دینے کے بدلے میں وہی سیا سی جماعتیں بلو غت کو پہنچ کر نا فرمان اولا د کا کردار اداکرنے لگتی ہیں۔مطلب یہ ہے کہ پا کستان میں اقتدار کے کھیل میں وفاداریا ں تشکیل دی جا تی ہیں اور پھر وفاداریا ں گلے بھی پڑ جاتی ہیں۔نو از شریف کا سیا سی جنم بھی ایسی ہی وفاداری سے مر قع تھا ،ما ضی کی تا ریخ پر وہ نظر نہیں دوڑا تے اور پو چھتے ہیں کہ ان کو کیوں نکالا حالانکہ یہ سید ھی سی با ت ہے کہ وہ اس زعم میں آگئے کہ وہ اصل طا قت یعنی عوام کے ووٹوں کے تمغے سجا ئے ہو ئے ہیں مگر وہی نا دیدہ قوت جو غلا م محمد سے لے کر جنرل ضیا ء الحق کے دور تک بلکہ خود ان کے دور تک خو د کو پا کستان کے وارثین قرا ر دیتی ہیں وہ کسی نا فرما نی کو قبول نہیں کیا کرتے اب میاں نو ازشریف پوچھ رہے ہیں کہ عمر ان خان کو کیسے معلو م کے اڈیا لہ جیل کی صفائی نواز شریف کے لیے کی جا رہی ہے۔ سیاست دان وہ ہو تا جس کی بصارت مستقبل کے حالات پر دور تک ہوتی ہے سیا ست دان تو ما ضی کی بات نہیںکر تے اورنہ حال کے بارے میں شاہد ہوتے ہیں ، اگر عمر ان خا ن کو پتہ نہیں ہو گا تو پھر کس کو پتہ ہو گا۔ عمران خا ن کو تو یہ بھی پتہ تھا کہ ان کو صادق امین کو تمغہ بھی لگ جائے گا اسی لیے تو انہو ں نے اپنے اے ٹی ایم پر صادق وامین نہ ہو نے کی پرچی قبول کرلی اب کیا ہو نے جا رہا ہے اس بارے میں عوام کو آگا ہ کرنے کی ڈیو ٹی عمر ان خان اور لا ل حویلی کے لالو شیخ جی کی لگی ہو ئی ہے ، شیخ جی کے لیے یہ ہی کا فی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے غیر سرکا ری ٹکٹ پر انتخا بات میں حصہ لیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل شیخ جی راولپنڈی کی دونشستو ں سے پر ویز مشرف کے دور میں کھڑے ہو ئے تھے قوم سے وعد ہ کیا تھا کہ وہ جیت کر یہ دونو ں نشستیں نو از شریف کی جھولی میں ڈال دیں گے مگر اس مر تبہ ان کا کوئی ایسا نہ تو سچا اور نہ نو از شریف سے کیے جا نے والے طرز کا وعدہ ہے کیو ں کہ وہ چال سمجھ گئے ہیں کہ جس طرح بلوچستان سے آزاد گروپ کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اب مسلم لیگ ن کے حلقے میں بھی جنم لے چکا ہے آگے چل کر اس امر کا امکا ن قوی ہو تا نظر آرہا ہے کہ آئند ہ ملک کا وزیر اعظم شاید عبدالقدوس بزنجو جیسا پرچھا وا ں ہی ملک کا وزیر اعظم قرار پائے ۔کیو ں کہ تیز ی کے ساتھ سیا سی کھمبیوں کی کا شت اور آبیا ری شر وع ہو گئی ہے ، لاہور کی ایک تقریب میں عبدالقدوس بزنجو نے حالات کے رخ سے پر دہ بہت پیا رے اندا زمیں کھینچ پھینکا ہے کہ انہو ںنے مشرف دور کے ایک نیم مر د آہن چودھری شجا عت حسین کی کتا ب سچ تو یہ ہے کی تقریب رونما ئی میں فرمایا ہے کہ وہ کل کی طر ح آج بھی اور آئندہ بھی چودھر ی شجاعت کے ہی وفادار رہیں گے۔ یہ وفاداری بھی ویسی ہے کہ وہ مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر منتخب ہو ئے مسلم لیگ ن کے ارکا ن کو باغی کیا اورآزاد گروپ بنا کراور سینیٹ کے آزاد ممبر منتخب کرادیئے۔ ان کو ذرابھر خیال نہیں آیا کہ اپنی پا رٹی کے ممبر کو سینیٹر بنا کر پا رٹی کی پو زیشن مضبو ط کر تے پھر یہ ہی نہیں چیئر مین شپ بھی آزاد رکن کے ہا تھ میںپکڑ ادی ساتھ ہی پی پی کو نواز دیا کیو ں کہ حکم ہی یہ تھا۔ یہ بھی عجب چودھری شجا عت سے وفا داری ہے کہ پھر نئی وجو د میںآنے والی پارٹی میں شامل بھی ہوگئے نہ اپنی ٹکٹ یا فتہ پا رٹی چھو ڑی۔ بہر حال دیکھنا ہے کہ عمر ان خان کے پی کے پر صبر کریں گے یا اپنے وزیر اعظم کے خواب کی تعبیر ہی چاہیں گے ۔

متعلقہ خبریں