Daily Mashriq


اب یہ امریکہ کے بس میں نہیں

اب یہ امریکہ کے بس میں نہیں

امریکہ اور روس کے درمیان معاملات کی گرما گرمی کو دنیا کے باقی ممالک خاموشی سے دیکھ رہے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے ۔ صدر ٹرمپ کی طبیعت کابچپنااب کسی کے لیے اچنبھے کی بات نہیں ۔ وہ ممالک جنہیں امریکہ کی جانب سے ہمیشہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی سوچ کی امید رہتی تھی ، اب جان چکے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ دراصل امریکہ کے زوال کا پہلا واضح اشارہ ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے معاملات بھی یوں چلاتے ہیں جنہیں دیکھ کر بار بار Bull in china shopمحاورہ یاد آتا رہتا ہے ۔ دوسری طرف روس عالمی سیاست میں اپنے نئے ابھرتے ہوئے کردار سے بخوبی واقف ہے ۔ اور نہایت سوچ سمجھ کر فیصلے کر رہا ہے ۔ ابھی تک روس کی جانب سے نہ تو کسی اُتائولے پن کا مظاہرہ کیا گیا ہے نہ ہی کسی ایسے فیصلے کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہو کہ شاید رویوں میں کچھ جلد بازی ہے ، یا طبیعت میں کوئی اتھلاپن ہے ۔ روس اپنا پورا وزن محسوس کر کے اسکے حساب سے فیصلے بھی کر رہا ہے ،ردعمل بھی ظاہر کر رہا ہے اور اب امریکہ کی باتوں کا جواب بھی دے رہا ہے ۔ روس کی جانب سے یہ کہا جانا کہ وہ ٹویٹر ڈپلو میسی میں یقین نہیں رکھتے لیکن امریکہ کو یہ واضح رہے کہ شام پر امریکی حملہ کسی طور بھی برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اس بات میں صرف روس کی خارجہ پالیسی کا ہی نہیں امریکہ کے لیے انتباہ بھی ہے ۔ وہی امریکہ جو ایک طویل عرصے تک دنیا پر تنہا حکومت کرتا رہا ہر فیصلے ، ہر زاویہ نگاہ ، ہر معاملے کو اپنی لاٹھی سے ہانکتا رہا اب اسے یہ سمجھ آجانا چاہیئے کہ معاملات وحالات بد ل رہے ہیں ، دنیا میں اسکی چودھراہٹ کے دن گنے جا چکے ہیں ۔ اب روس بھی آہستہ آہستہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہا ہے ۔ اوربات صرف روس تک ہی محدود نہیں ۔ ترکی نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ وہ یورپی یونین جو ترکی کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے تیار نہ تھا ۔ جہاں اسکی تکنیکی وجوہات تھیں ، وسائل کی تقسیم اور آبادی کے تناسب کا معاملہ تھا ، وہیں یورپ کے ذہن سے صلیبی جنگیں بھی تو محو نہیں ہوتیں ۔اب ترکی اپنارُخ یورپی یونین سے پھیر رہا ہے ۔ روس سے ابتداً خراب تعلقات میں بھی بہتری آرہی ہے ۔ جن کے ساتھ تعلقات میں پختگی ہے ۔ اور پھر ان تینوں ممالک کو اس خطے کی اہمیت کا بھی بھر پور اندازہ ہے ۔ روس کی جانب سے ایشین بلاک کی بات آج ہو نہ ہو ، تینوں طاقتوں کو ابتدا میں امریکہ کو پچھاڑنے کے لیے آپس میںہاتھ ملانے کی ضرورت پڑے گی ۔ امریکہ کی پشت پناہی کرنے والوں کی طاقت کوبھی یہ تینوں مل کر ہی پچھاڑ سکیں گے ۔ ابھی تک یہ بات تینوں کو سمجھ آہی چکی ہوگی ۔ روس کی طرف سے امریکہ کو شام پر حملہ نہ کرنے کا پیغام بہت واضح ہے ۔ اور یہ بات فقط یہیں تک موقوف نہیں ۔ روس کی جانب سے اسرائیل کو بھی بہت واضح پیغام دیا گیا ہے ۔ اسرائیل اس خطے میں روس کی اہمیت اور موجود گی کو نہ صرف بخوبی سمجھتا ہے بلکہ یہ بھی جانتا ہے کہ روس کی جانب سے واضح پیغام سے نگاہیں پھیرنااس کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے ۔ امریکہ اس ساری صورتحال کو عراق کی طرح طے کرنے کی کوششیں کر رہا ہے ۔ شاید امریکی تجزیہ نگار اس بات سے واقف نہیں کہ انکے لیے یہ معاملہ اس قدر آسان نہ ہوگا ۔ عراق پر کیمیائی ہتھیاروں کا کہہ کر امریکہ کاحملہ اس لیے کامیاب رہا تھا کیونکہ اس وقت خطے کے حالات بہت فرق تھے۔ ترکی کو بھی اپنے زور بازو پر ایسا یقین نہ تھا اور روس تو خاموشی کے پردے میں لپٹا ہوا تھا ۔ اس وقت عراق کو کسی بھی بہانے سے نشانہ بنا نا آسان تھا کیونکہ امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سامنے کھڑا ہونے کے لیے کوئی طاقت ہی موجود نہ تھی ۔ اب کی بار حالات بالکل مختلف ہیں ۔ امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بے وقوفی کا بوجھ اس حد تک نہ اٹھا سکے گا کہ کسی ایسی صورتحال کو جنم دے جس میں ایک بڑی جنگ خود اسکے دروازے پر آن کھڑی ہو ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کیسے بھی مُنہ زور ہوں اور کسی حد تک بھی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں آگے جا سکتے ہوں یہ معاملہ اس طرح وہ حل نہ کر سکیں گے ۔

امریکہ میں تجزیہ نگار شام کے معاملات کو حل کرنے کی ذمہ داری امریکہ کے کاندھوں پر ضرور ڈالیں لیکن جب آگ اپنے گھر کو لگ جانے کا اندیشہ ہو تو قدم سوچ سمجھ کر ہی اٹھانا پڑتا ہے ۔ شام ماضی میں اسرائیل کے حوالے سے بڑے دعوے کرتا رہا ہے ۔ عراق میں صدام حسین کے زمانے میں جب صدام حسین نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو یہ کہا تھا کہ اگر انکی افواج کو اسرائیل تک جانے کا راستہ مل جائے تو وہ اسرائیل پر حملہ بھی کر سکتے ہیں ۔ اس وقت شام نے نہایت فراخ دلی سے یہ راستہ دینے کی بات کی تھی ۔ اسرائیل کے دل میں یہ کھٹک ابھی تک باقی ہوگی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ شام کے لیے معاملات کو وہ رنگ دینا جو عراق کے ساتھ دیا گیا روس اور ترکی کی موجودگی میں ممکن ہی نہیں رہا ۔ روس کے کھل کر سامنے آجانے سے یہ بات امریکہپر بھی واضح ہوگئی ہوگی اور اسرائیل بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہا ہوگا ۔ دیکھنا اب صرف یہ ہے کہ وہ معاملات کو کس جانب دھکیل کر ، اس صورتحال سے ایک بہترخروج کی راہ تلاش کرتے ہیں ، اور اگرامریکہ کسی بے وقوفی کے نتیجے میں اسے اپنی انا کا مسئلہ بنالے ، اپنی بہادری اور مضبوطی شام پر حملے کی صورت میں ظاہر کرنے کی کوشش کرے تو امریکہ کی تباہی ہم اپنے سامنے ہوتے دیکھیں گے ۔

متعلقہ خبریں