Daily Mashriq


امتحانوں کا موسم

امتحانوں کا موسم

میں پھردفعہ 144لگنے کا موسم لوٹ آیا ہے۔ٹائم ٹیبل پر عمل کرنے اور جھڑکیوں کا موسم لوٹ آیا ہے۔جی ہاں یوں کہیے کہ امتحانوں کا موسم لوٹ آیا ہے۔فائنل ٹرم،میٹرک ،ایف ایس سی وغیرہ وغیرہ کے امتحانوں کے موسم کو آپ تمام موسموںمیں شدید ترین موسم قرار دے سکتے ہیں۔اس موسم میں صرف بوندا باندی کا امکان نہیں ہوتا بلکہ براہ راست ژالہ باری شروع ہوجاتی ہے۔اور اس موسم کی وجہ ازدواج کی جانب سے آنے والی غضب ناک ہوائیں ہوتی ہیں۔بچے سراسیمہ حالت میں ایک کونے میں نوٹ بک میں آنکھیں ٹھنسائے لہک لہک کر گوٹا لگانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ہم بچپن میں اس قسم کی گھریلومصروفیات سے یکسرناآشنا تھے۔صبح سویرے ملیشیا کے چوکور رومال میںبندھا ہوا بستہ لے کرملیشیاکے ہی شلوارقمیض میں ہم خاموشی کے ساتھ سرکاری سکول چلے جایا کرتے اور چھٹی ہوتے ہی گھر آجایا کرتے اور بستے کو اپنی مخصوص طاق پر دھر دیا کرتے تھے جسے اٹھانے کی نوبت اگلی صبح ہی پیش آتی تھی اللہ اللہ خیرسلا۔کمال کی بات ہے ہم پاس بھی ہوجایا کرتے تھے۔کلاس میں کونسی پوزیشن آتی تھی کبھی ہمیں کسی نے بتایاہی نہیں تھا۔بچے بھی سکون سے جیتے اور والدین بھی سکون سے جیا کرتے۔مجھے لگتا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی والوں کو جب ناکامی ہوئی تو انہوں نے یہ چال چلی کہ پرائیویٹ سکولوں کو عام کردیا تاکہ ہزاروں میں فیس کا سوچ کر ہی لوگ خوف سے خاندانی منصوبہ بندی کرناشروع کردیں۔ اس سے پاکستا ن کی آبادی تو کم نہ ہوسکی البتہ پرائیویٹ سکولوںکی’’برتھ کنٹرول‘‘ناممکن ہوگئی۔یوں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی مشروم گروتھ شروع ہوگئی ۔کوئی بھی سماجی عمل جب کمرشلائزہوجائے تو اس میں خوشخطیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔تعلیم ایک سماجی عمل ہے جب تک تو حکومت کی دسترس اور عملداری میں تھا تو اس میں سادگی اور خلوص موجود تھا لیکن کمرشلائز ہونے کے بعد مارکیٹ میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے پرائیویٹ سکولوں کو کچھ ایسے کام کرنے پڑے کہ جن سے ان سکولو ں کی ظاہری اور دکھاوے کی کارکردگی میں تو اضافہ ہوا لیکن تعلیم ،طالب علم اور استاد یا ادارے کا جوایک روحانی رشتہ ہوا کرتا تھا اس روحانی رشتے کی جگہ کلائنٹج کاتصور سامنے آگیا۔ پرائیویٹ سکول ایک ایسا ادارہ بن کررہ گیا کہ جس کے طالب علم اسی ادارے کے کلائنٹ بن جاتے ہیں۔میں جن خوشخطیوں کی طرف اشارہ کررہا ہوں وہ یہی ہیں کہ پیرنٹس ٹیچرز میٹنگز،ڈائری،پوزیشن ان کلاس،پوزیشن ایزآہول ،موسٹ ریگولر سٹوڈنٹ وغیرہ وغیرہ لیکن وہ تخلیقی صلاحیت کہ جو تعلیم کا خاصہ ہوتی ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی۔یادداشت اور علم میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ان سکولوں نے علم کے حافظ ہی تیار کیے ہیں علم کے ماہر نہیں اور نہ ان سے ہم اس کی توقع کرسکتے ہیںکیونکہ یہ ادارے ریزلٹ اورینٹیشن پر توجہ دیتے ہیں۔بچہ جب گھر آکر امی ابو کو ’’بابابلیک شیپ ہیو یو اینی وول ‘‘یا ’’ٹوینکل ٹوینکل لِٹل سٹار‘‘ سناتا ہے تو امی ابوپھولے نہیں سماتے اور ان کے لبوں سے بے اختیار نکل پڑتا ہے کہ ’’سہ ظالم سکول دے‘‘۔مگر یہ انگریزی رائمز بچے کو مستقبل میں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔بچہ کاٹھا بادام ہی رہتا ہے۔بچہ بے چارہ منہ اندھیرے اپنے وزن سے دگنے وزن کا بیگ لیے بس کے انتظار میں گھرسے نکل جاتا ہے اور سہ پہر کو تھکاہارا ہوم ورک کا ذہنی بوجھ لیے گھرواپس آتا ہے۔ہمارے اس نظام تعلیم نے بچے سے اس کی معصومیت چھین لی ہے۔بڑے تو جیسے تیسے بہت سے سماجی بندھنوں اور مصیبتوں کے بوجھ کو برداشت کرلیتے ہیں لیکن ہم نے بچوں کو فرسٹ آنے ،بڑا آدمی بننے کی چکی میں پسنے کے لیے جھونک دیا ہے۔یہ بھی نہیں سوچتے کہ بڑاآدمی توبچہ بڑا ہوکر ہی بنے گا لیکن جو کچھ کہ وہ ہے کم از کم اس لمحہ موجود میں اسے وہی رہنے دیاجائے مگر ہم والدین اسے بچہ رہنے نہیں دیتے۔ہمارے اس نظام تعلیم میں سارا سال سکولوں میں نوٹس لکھوائے جاتے ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ بچہ گھر میں جاکر انہیں یاد کرے گا۔اور ساتھ سات آٹھ قسم کے ہوم ورک بھی دے دیے جاتے ہیں ۔بچہ سارا سال ہوم ورک ہی کیے جاتاہے اور سیکھنے کے عمل سے دور ہی رہتا ہے۔اور جس دن امتحانوں کی ڈیٹ شیٹ آجاتی ہے اسی روز سے گھروں میں ایمرجنسی نافذ ہوجاتی ہے۔ بچے کے سارے مسائل کسی کھلی کتاب کی طرح سامنے آجاتے ہیں۔مائیں بے چاری کریں بھی تو کیاانہیں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں اپنے بچوں کی رزلٹ رپورٹس پر بحث بھی توکرنی پڑتی ہے۔بچے کے نمبر کم آجائیں تو ان کی ناک خطرے میں پڑجاتی ہے۔اب اس ناک کو اونچا رکھنے کے لیے بچے کی رزلٹ رپورٹ کو شاندار ہوناچاہیے، چاہے گھر میں جنگی حالات ہی کیوں نہ نافذ کردیے جائیں۔مردوں کے لیے ایسے حالات میں مشورہ ہے کہ وہ ان دنوں گھروں میں بھی ہیلمٹ پہن کر رہا کریں کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔کوئی ہیلمٹ کی وجہ پوچھے تو کچھ بھی کہہ دیں اور کچھ بن نہ پڑے تو کہہ دیں کہ یونہی دل چاہ رہاتھاہیلمٹ پہننے کو۔۔۔۔یا پھر این جی اوز کی زبان میں ’’میرا ہیلمٹ میری مرضی ‘‘کا نعرہ لگا لیا کریں ۔۔

متعلقہ خبریں