Daily Mashriq


بے بس مسلمان ممالک

بے بس مسلمان ممالک

ہم دنیا کے جغرافیہ پر نظر ڈالیں تو اس وقت یورپی ممالک نے کئی اتحاد بنائے ہیں اور ان اتحادوں کا مقصد مسلمانممالک پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ہمیشہ ان اتحادوں اور جنگوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی فلسفہ اور منطق ہوتی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو نیٹو کے 29ممالک امریکہ کی سر براہی میں مسلمانوں کے خلاف پوری طرح برسر پیکار ہیں۔ جس کی وجہ اسلام دشمنی، جغرافیائی محل وقوع، تیل گیس اور ان کے دوسرے وسائل پر قبضہ کرنے کے علاوہ ان کو ختم کرنا ہے۔ نیٹو اور دوسرے یورپی ممالک نے امریکہ کی سرپرستی میں عراق، شام، مصر، لبنان، لیبیا، افغانستان پر حملہ کر کے نہ صرف وہاں مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کیا بلکہ وہاں پر ان ممالک نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ماہر اقتصادیات رؤف احمد کے مطابق کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی 2 اور 4فیصد کے حساب سے ہونی چاہئے اور اسی طرح ترقی یافتہ ممالک کی اقتصادی ترقی 3اور 6 کے درمیان ہونی چاہئے مگر یہ انتہائی اہم بات ہے کہ نیٹو کی اقتصادی ترقی کی شرح ایک سے بھی کم ہے۔ نتیجتاً یہی ممالک اپنی اقتصادی شرح کو پورا کرنے کیلئے وسائل سے مالامال ممالک پر کسی نہ کسی بہانے حملہ کرتے ہیں اور ان پر قابض ہو جاتے ہیں۔ اگر نیٹو کے 29ممالک کی اقتصادی شرح دیکھیں تو یہ انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے پاس دنیا کے 70 فیصد وسائل ہیں مگر نااہل قیادت اورآپس میں نفاق اور سائنس اور ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان وسائل سے صحیح طریقے سے استفادہ نہیں کر سکتے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہیں ان کے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور وہ ذلت اور پستی کا شکار ہیں۔ مشہور زمانہ ’’جرنل آئل اینڈ گیس‘‘ کے مطابق مسلمانوں کے پا س اس وقت 70 فیصد تیل ہے جو 600 بلین بیرلز ہے اس کے علاوہ مسلمانوں کے پا س 50 فیصد قدرتی گیس ہے جو3000 ٹریلین مکعب فُٹ ہے۔ دنیا کے دس ممالک جس میں عراق، ایران، سعودی عرب میں ہزاروں بلین ڈالر کے قدرتی وسائل ہیں۔ عراق میں 16ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل (دنیا کا 10 فیصد)، سعودی عرب میں 35 ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل (دنیا کا 20 فیصد) اور ایران میں 28ہزار ارب ڈالر کے قدرتی وسائل ہیں جو دنیا کا17 فیصد ہے۔ دنیا کے سلفر برآمد کرنے والے 10ممالک میں تین مسلمان ممالک متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران ہیں۔ علاوہ ازیں ’’دی جرنل آف یو رینیم‘‘ کے مطابق مسلمانوں کے پاس پوری دنیا کا 30 فیصد یعنی 6500 ٹن یور ینیم ہے جس سے جوہری اور ایٹمی میدان میں انقلاب برپا کر کے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں نائیجریا، نمیبیا اور قازقستان سرفہرست ہیں۔ لوہے کے وسائل میں ترکی، ایران، مصر، تیونیسیا، الجیریا اور مراکش سرفہرست ہیں۔ دنیا کے دس ممالک جہاں پر کوئلہ زیادہ پایا جاتا ہے اُن میں قازقستان اور پاکستان شامل ہیں۔ تانبے کی پیداوار میں دس بڑے ممالک میں انڈو نیشیا شامل ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں لیتھیم اور سلی کان بکثرت پایا جاتا ہے جس سے شمسی توانائی اور موبائل بیٹری کے بنانے میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان چاول کپاس پیدا کرنے والے ٹاپ ممالک میں ہیں۔ ملائیشیا ربڑ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ پاکستان دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دنیا کا کُل رقبہ 15کروڑ مربع کلومیٹر ہے اور مسلمان تقریباً 3کروڑ مربع کلومیٹر یعنی 19فیصد رقبے پر رہتے ہیں جبکہ مسلمانوں کی آبادی 1.8ارب یعنی پوری دنیا کا تیسرا حصہ ہے۔ یہ تو چند وسائل کا ذکر میں نے کیا اس کے علاوہ ایسے ہزاروں قدرتی وسائل ہیں جو مسلمان ممالک میں ہیں مگر ان وسائل سے مسلمان استفادہ نہیں کر سکتے اور اتنے سارے وسائل کے با وجود بھی یہود وہنود کی بربریت کا شکار ہیں۔ 57 اسلامی ممالک کی اقتصادیات 19 ہزار ارب ڈالر ہے جبکہ صرف امریکہ کی اقتصا دیا ت 19 ہزار ارب ڈالر ہے۔ اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو ہانگ کانگ جس کا رقبہ 45 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں پر فی کس آمدنی 54 ہزار ڈالر ہے۔ لگزمبرگ کا رقبہ تقریباً 3ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر اس ملک کی فی کس آمدنی 55ہزار ڈالر فی کس ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان کا رقبہ تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر ہے مگر اس کی فی کس آمدنی 2ہزار ڈالر ہے۔ یہود وہنود کے چند لاکھ فوجیوں نے پوری اُمت مسلمہ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ نیٹو اور امریکہ کے چند ہزار فوجیوں نے اگر ایک طرف اپنے جدید اسلحے اور وسائل کے بل بوتے پر افغانستان، عراق، لیبیا پر قبضہ کیا ہوا ہے تو دوسری طرف ماضی قریب میں ایران کو دھمکیاں دے رہا تھا کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام بند کر دیں مگر کسی اسلامی ملک میں یہ اخلاقی جرأت نہیں کہ وہ امریکہ کو بتا سکے کہ اگر نیوکلیئر پروگرام انسانوں کی فلاح وبہبود میں نہیں تو سب سے پہلے امریکہ اپنا نیوکلیئر پروگرام کیوں بند نہیں کرتا۔ مسلمان ظلم کا شکار اس لئے ہیں کہ ان کی لیڈرشپ اور قیادت اس اہل نہیں جو اپنے مسائل کو بخوبی حل کر سکے۔ لیڈرشپ ملکوں اور ریاستوں کی قسمت کو بدل دیتی ہے اور ترقی یافتہ ممالک نے جتنی ترقی کی ہے وہ ان کی اچھی لیڈرشپ اور قیادت کی وجہ سے ہے۔ اگر مسلم ممالک کی قیادت اچھی ہو تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم یورپ سے پیچھے رہ جائیں۔

متعلقہ خبریں