Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

جعفر برمکی وہ شخص ہے جو ہارون رشید کی ناک کا بال تھا اور اس کی وجہ سے برامکہ (جعفرکا خاندان ) کو وہ اقبال اور ترقی حاصل ہوئی کہ بڑے بڑے اراکین سلطنت ان کی آستانہ بوسی کو باعث فخر سمجھتے تھے ۔ جعفر برمکی ہارون الرشید کا استاد بھی تھا ۔ ان کی شاہانہ اور مسرفانہ زندگی کے نمونوں سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ان کے محلات میں برپا ہونے والی مجلسوں میں علماء ، شعراء ، امیروں او رغریبوں کے ڈیرے لگتے تھے ۔ وقت ایک ایسا مسافر ہے ، جو ر کے بغیر سب کچھ دیکھتا ہوا اپنا سفر جاری رکھتا ہے ، اس نے جعفر برمکی کی والدہ کا وہ وقت بھی دیکھا تھا ، جب اس کی خدمت میں ہروقت چارسو کنیزیں رہا کرتی تھیں ۔ پھر وہ وقت بھی دیکھا کہ عین عید کے دن ، جبکہ غریب سے غریب آدمی بھی نئے کپڑے پہنتا ہے ، اس کی والدہ عبادہ پھٹے پرانے کپڑوں میں کوفے کے امام مسجد محمد بن عبدالرحمن کے گھر معمولی امداد مانگتی نظر آتی ہے ۔

یہ واقعہ خود امام صاحب کی زبانی سنتے ہیں ۔

’’میں عیدالاضحی کے موقع پر اپنی والدہ سے ملنے گیا تو دیکھا کہ ایک شریف عورت میری والدہ کے پاس بیٹھی باتیں کررہی ہے ، والدہ نے مجھ سے پوچھا ۔ ’’محمد! تم اس عورت کو جانتے ہو؟‘‘

میں نے عرض کیا :نہیں ۔

والدہ نے بتایا کہ یہ جعفر بن یحییٰ برمکی کی والدہ عبادہ ہے ۔ یہ سن کر مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس وحسرت بھی ۔

میری نظروں کے سامنے وہ زمانہ گھومنے لگا ، جب بڑے بڑے دانشور اور علماء وادباء ان کی ادنیٰ توجہ کے لئے ترستے تھے ، کیونکہ اس کا بیٹا اتنی بڑی سلطنت کا وزیر اعظم تھا کہ ایک دن اس نے بادلوں کو گزرتے دیکھ کر کہا تھا : ’’تم جہاں چاہو جا کر برسوتمہارا اخرج مجھے ہی ملے گا ‘‘

آج اسی شخص کی والدہ اس خستہ حا لی میں میری والدہ کے پاس بیٹھی تھی ، میں نے ان سے مخاطب ہو کر بہت مئود بانہ انداز میں پوچھا :

’’اماں جی ! آپ کا یہ عجیب و غریب حال ، میں کیا دیکھ رہا ہوں ؟ ‘‘

انہوں نے کہا ـ :

’’بیٹا ایک وقت وہ تھا کہ عید آتی تھی تو چار چار سو کنیزیں میرے اشارے کی منتظر رہتی تھیں ، میں پھر بھی اپنے بیٹے کو نافرمان اور خدمت گزاری سے بے پرواہ سمجھتی تھی اور یہ عید ہے کہ مجھے اگر قربانی کے دو بکروں کی کھالیں مل جائیں تو میں ایک سے نیچے بچھانے کا گدا بنالوں او ردوسری کھال کو اوڑھنے کی رضائی بنالوں ۔

(حکایات و واقعات ص، 181)

کیسا عبرتناک واقعہ ہے ۔ سچ کہا ہے کہ دولت اندھی ہوتی ہے اور جس کے پاس آتی ہے ، اسے بھی اندھا کر دیتی ہے ۔ حق تعالیٰ دولت کے فتنوں سے محفوظ رکھے ۔ امین

متعلقہ خبریں