Daily Mashriq

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

پولی تھین شاپنگ بیگز کے متعلق واویلا کوئی نیا اشو نہیں۔ سالہا سال سے اس کے نقصان دہ اثرات کیخلاف تشویش محسوس کی جا رہی ہے۔ اسے آلودگی پھیلنے کی بہت بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ پانی کے بہاؤ میں ناقابل تحلیل رکاوٹ بن کر آج سے برسہا برس پہلے یہ ایک چیلنج بن کر سامنے آیا اور بڑے بڑے سوچکاروں کے ناک میں دم کرکے رکھ دیا اس پتلے سے پلاسٹک کے بیگ نے۔ ہم نے جب پہلے پہل اسے دیکھا تھا تو بڑے خوش ہوئے تھے۔ کمال کی چیز ہے کتنی آسانی پیدا کردی ہے پلاسٹک کے اس ہلکے پھلکے اور دیدہ زیب بیگ نے۔ سودا بیچنے والے کیلئے اور سودا خرید کر گھر لے جانے والے کیلئے۔ اشیائے صرف ٹھوس، مائع یا گیس کسی بھی شکل میں بھی ہو بڑی آسانی سے اس میں سما جاتی ہیں ۔ دودھ، دہی، بالائی، نان کباب، سالن، جوس سب ہی تو آپ اس میں ڈال کر گھر لاسکتے ہیں یا گھر سے باہر کہیں لے جا سکتے ہیں۔ ان کے متعارف ہوتے ہی کپڑے کے شاپنگ بیگز کے علاوہ کاغذ کے گتھوں اور دھات کے برتنوں میں بھی سودا سلف یا کسی بھی چیز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیکر جانے کے رواج کی چھٹی ہوگئی۔ کیروسین کے شاپنگ بیگز کی جہاں اور بہت سی خوبیاں گنوائی جا سکتی ہیں ان میں سے ایک بہت بڑی خوبی یہ بھی نظر آئی کہ سودا خریدنے والوں کو سودا سلف پر خرچ ہونے والی رقم میں آٹے میں نمک کے مصداق برائے نام قیمت میں پڑتا ہے۔ یعنی سودا خریدنے والا سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس نے دکاندار کو سودا خریدتے وقت اس شاپنگ بیگ کی بھی قیمت ادا کر دی ہے جس میں وہ سودا سلف لیکر اپنے گھر جارہا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دکاندار نے اسے خریدے ہوئے سودا سلف کیساتھ بلا کسی قیمت کے بالکل مفت یہ بیگ دے دیا ہے حالانکہ وہ خود یہ شاپنگ بیگ خرید کر لاتا ہے اور اس کی قیمت اپنی کمائی یا منافع میں ایڈجسٹ کرکے ہی اس میں اپنی دکان پر آنے والے گاہک کو سودا سلف ڈال کر دیتا ہے اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ دکاندار ایک کی بجائے دو دو شاپنگ بیگز میں سودا ڈال کر دیتا ہے کہ کہیں سودا سلف کے بوجھ یا وزن کے سبب شاپنگ بیگ راستے ہی میں زخمی ہوکر پھٹ نہ جائے اور سودا سلف منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں گر کر ضائع نہ ہوجائے۔ ایک کی بجائے دو دو شاپنگ بیگز میں سودا سلف یا تو دکاندار خود دیتا ہے یا راستے میں بیگ کے پھٹ جانے سے سودا سلف کے بکھر جانے کے تلخ تجربہ سے گزرنے والے گاہک دکاندار سے درخواست کرکے ایک کی بجائے دو دو بیگز میں سودا ڈال کر گھر لایا کرتے ہیں۔ میں خود جب شیر فروش کی دکان پر پہنچتا ہوں تو وہ میرے پاس موٹر سائیکل دیکھ کر دودھ، دہی، پنیر اور ملائی وغیرہ ایک کی بجائے دو شاپنگ بیگز میں ڈال کر دیتا ہے اور یوں میں جو کچھ جہاں سے بھی خریدتا ہوں اپنے اکلوتے موٹر سائیکل پر اس غرض سے لگے ہوئے سٹیل کے ڈنڈوں پر لٹکا کر گھر لے آتا ہوں۔ نہ برتن لیکر جانے کا تردد، نہ کپڑے کا گتھا یا تھیلا لے کر گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت، بس گھر سے نکلتے وقت بچوں کی ماں نے اتنا کہہ دیا کہ واپسی پر پانچ کلو چینی اور مٹھائی کا ڈبہ بھی لیتے آنا میں نے فلاں رشتہ دار کے ہاں مبارک باد لیکر جانا ہے یا فلاں گھر کے لوگ ہمارے ہاں منے کے امتحان میں پاس ہونے کی خوشی میں مبارک باد دینے آرہے ہیں۔ بات مبارک بادوں کے تبادلے یا مہمانوں کے آنے جانے پر ختم نہیں ہوتی، ہم زندگی کی ہر ضرورت پوری کرنے کیلئے روزانہ منوں کے حساب سے ریکسین کے شاپنگ بیگز کا استعمال کر رہے ہیں اور پھر ان کے استعمال کے فوراً بعد اسے معمولی سی ڈسپوزیبل آئٹم سمجھ کر گھر میں رکھے کوڑا دان میں جمع کرنے کے بعد اپنی گلی میں پھینک کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں لیکن ہوتا یوں ہے کہ وزن میں ہلکے پھلکے ہونے کی وجہ سے جب بھی یہ ہوا کے دوش پر اُڑ کر ندی، نالے یا آبی گزرگاہ میں گرتے ہیں تو پانی کے بہاؤ میں ناقابل تحلیل رکاوٹ بن کر آبی آلودگی کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کا بہت برا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ پانی ایسی رکاوٹ کو عبور نہیں کرسکتا جس کے سبب جمع ہوکر تعفن اور جراثیم پیدا کرنے اور ان کے پھیلانے کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ 1998کی بات ہوگی ان دنوں راقم السطور کی ادارت میں بلدیہ پشاور کا مجلہ نکلتا تھا۔ ان دنوں حکام بالا نے مجھے ہدایت کی تھی کہ کیروسین بیگ کیخلاف میگزین پڑھنے والوں کا شعور بیدار کرو۔ اس ہدایت کو حکم حاکم سمجھ کر لکھ کر چھاپ دیا تھا ایک آدھ مضمون۔ تب سے اب تک کتنے شاپنگ بیگ لوگ سودا سلف خرید کر گھر لائے۔ کتنے شاپنگ بیگز نے آلودگی اور تعفن کا طوفان بلاخیز برپا کیا اس کی نہ کوئی حد ہے نہ حساب۔ راقم السطور نے بھل صفائی کے بہانے بلڈوزروں اور کرینوں کی مدد سے نہروں کے پانی کس کالے کیچڑ میں تبدیل کرنے والے کیروسین بیگ ڈائینو سارس کو ٹھکانے لگانے کی ناکام کوشش کا اپنی آنکھوں سے تماشا کیا ہے۔ ان کیخلاف بینر آویزاں ہوتے بھی دیکھے اور دھواں دھار تقاریر پر مبنی طرفہ تماشا بھی دیکھا اور اب یہ بات پڑھ کر بہل رہے ہیں کہ ان کے استعمال کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ وہی پرانا گیت جس کے بول سن سن کر ہم شیر شیر آیا کا شور کرنے والوں کی آواز پر بھلا کیوں اور کیسے یقین کر لیں۔ شاید ہماری اس بات کا جواب ہمیں آنے والے چند روز میں مل جائے کیونکہ

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں سے

لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

متعلقہ خبریں