Daily Mashriq


محکمۂ صحت اور معا لجین کی کشمکش کا خاتمہ ہونا چاہئے

محکمۂ صحت اور معا لجین کی کشمکش کا خاتمہ ہونا چاہئے

خیبر پختونخوا شعبۂ طب ان دنوں کئی لحاظ سے موضوع بحث اور ناہمواری کا شکار ہے۔ ڈاکٹروں کو محکمۂ صحت کی جانب سے اس مجوزہ قانون پر تحفظات ہیں جس کا ابھی مسودہ بھی دستیاب نہیں، بہرحال ڈاکٹر برادری پر آنکھیں بند کر کے احتجاج کا راستہ اپنانے کا الزام بھی نہیں لگایا جا سکتا اس لئے کہ ڈاکٹروں کو ان کے ڈومیسائل والے علاقوں میں دوسال کی لازمی سروس کیلئے بھیجنے اور بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کے تبادلوں کی اطلاعات میڈیا پر آچکی ہیں۔ دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں کارڈیک سرجنز اور انتظامیہ کے درمیان آپریشنوں کے معیار پر جاری تنازعہ اوپن ہارٹ سرجریز کی معطلی پر رک گیا ہے۔ کارڈیک سرجنز کی جانب سے افرادی قوت اور مشینری کی کمی سے متعلق فراہم کردہ46 اشیاء پر مشتمل فہرست ارسال کرنے پر انتظامیہ کی جانب سے مطلوبہ ضروریات پوری کرنے پر توجہ دینے کی بجائے تاحکم ثانی مزید آپریشن معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں کارڈیک سرجنز پر واضح کردیا گیا ہے کہ آزاد ذرائع سے بھی کارڈیک سرجنز کی فراہم کردہ اشیاء کی ایولیوشن کرائی جائے گی جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے کہ ایل آر ایچ کا شعبۂ کارڈیو واسکولر گزشتہ ایک ماہ سے تنازعات میں گھرا ہوا ہے، کلینکل آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں چند سرجنز کو زیرعتاب رکھنے کے بعد سرجنز اور ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے سلسلہ جنبانی شروع ہوا ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں کیساتھ ساتھ صوبے کی ڈاکٹر برادری نے اپنے مطالبات بارے احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ محکمۂ صحت کی جانب سے اضلاع میں صحت نظام کی بہتری اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے سلسلے میں ایک قانون کا مسودہ تجویز کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر برادری ہسپتالوں کی نجکاری، اصلاحات کے نام پر میرٹ کی خلاف ورزی، کرپشن کی اجازت، ہسپتالوں میں عوام کو مفت سہولیات کی بجائے پرائیویٹ پریکٹس کے نام پر لوٹ مار، خودمختاری کے نام پر من پسند افراد کو بورڈز کے ممبرز نامزد کرنا، مختلف ٹیسٹوں یعنی ایم آر آئی، سی ٹی سکین، الٹراساؤنڈز اور لیبارٹری کے دیگر اہم ٹیسٹوں کو مہنگا کرنا، عوام کیلئے ہسپتالوں میں بروقت علاج کیلئے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کی بجائے نئے تجربات اور من پسند افراد کی لاکھوں روپے تنخواہ پر بھرتیاں، ایم ٹی آئیز ہسپتالوں میں گزشتہ چار سالوں کے دوران خلاف میرٹ بھرتیوں، ترقیوں، خریداریوں، ٹینڈرز کی لوٹ مار اور کرپشن میں ملوث افراد اور بورڈز کے ملوث ارکان کیخلاف ایکشن نہ لینے، سیاسی' تعصب اور انتقامی بنیادوں پر ڈاکٹروں کو ڈومیسائل کی بنیاد پر ٹرانسفرز وغیرہ جیسے معاملات پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ ادھر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے مریضوں کو سروسز فراہمی میں خلل ڈالنے کی صورت میں احتجاجی ڈاکٹروں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اتنے سارے معاملات کا بیک وقت سامنے آنا اس تاثر کا باعث بننا فطری امر ہے کہ صوبے میں صحت کے شعبے میں معاملات میں بگاڑ ہے جس کی ذمہ داری پوری طرح حکومت اور خودمختار تدریسی ہسپتالوں کی انتظامیہ پر عائد نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر برادری بھی اپنے بعض نامناسب مطالبات منوانے کیلئے دباؤ کے طور پر وہ الزامات بھی عائدکر رہی ہے جن سے ان کا براہ راست نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ اس کے متاثرین ہیں البتہ ڈاکٹر برادری کے بعض مطالبات ایسے ہیں جن کے براہ راست اثرات ان کے فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ اور مشکلات کی صورت میں نکلنے کیساتھ ساتھ مریضوں کیلئے بھی مشکلات کا باعث ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں طبی شعبے میں بحران اور احتجاج کی جو کیفیت ہے اس میں محکمہ صحت، خودمختار ہسپتالوں کی انتظامیہ اور ڈاکٹر برادری کے درمیان ضد، انا اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا رویہ کارفرما ہے جس میں متاثرہ فریق عوام اور خاص طور پر وہ مریض ہیں جن کا علاج متاثر ہورہا ہے۔ اختلافات اور مطالبات ڈاکٹر برادری کاحق ہے گفت وشنید کے ذریعے ان کا حل یا ان کے تحفظات کو دور کرنا حکومت اور محکمے کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں پر ہر دو جانب سے رواداری اور مسائل کے حل کی سعی نظر نہیں آتی بلکہ فریقین اپنے اپنے مؤقف کو ہی درست اور دوسروں کے مؤقف کو اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں حالانکہ اگر فریقین باہم مل بیٹھ کر درمیانی راستہ نکالنا چاہیں تو کوئی مشکل نہیں۔ اس طرح کے معاملات میں بالآخر ہوتا بھی یہی ہے فریقین کا رسہ کشی کے بعد بالآخر مذاکرات کی میز پر آئے بغیر چارہ نہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہر فریق دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی بجائے مسائل کے حل کا راستہ اپنائے اور باہم مل بیٹھ کر ایک دوسرے کی ضروریات اور تحفظات کو سمجھا جائے اور ان کو دور کیا جائے اور مریضوں کے علاج کی سہولت معطل نہ کی جائے۔

متعلقہ خبریں