Daily Mashriq


کمیٹی بنانے سے احتراز شکوک وشبہات کا باعث امر ہے

کمیٹی بنانے سے احتراز شکوک وشبہات کا باعث امر ہے

خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں21کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر حکومت کی طرف سے مخالفت کا کوئی جواز نہ تھا۔ کسی بھی معاملے کے درست یا غلط ہونے کے الزام کی حقیقت تحقیقات اور معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ہی واضح ہوسکتی ہے۔ اگر حزب اختلاف محکمے کے جواب سے مطمئن نہ تھی اور حکومت کا مؤقف رپورٹ کی تائید میں تھا تو بجائے اس کے کہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے مطالبے کو رد کیا جاتا اگر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل سے اتفاق کیا جاتا تو کیا قباحت تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے احتراز کا راستہ اختیار کر کے معاملے کو مزید مشکوک بنایا گیا۔ حکومتی ارکان کا اقدام حزب اختلاف کے مؤقف کی تائید کے زمرے میں آتا ہے۔ حزب اختلاف نے جو نکات اُٹھائے اور الزامات دہرائے اس کی بازگشت میڈیا میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ حکومتی اقدام کے بعد اس ضمن میں مزید لوگوں کے کان کھڑے ہوسکتے ہیں اور دباؤ بڑھ سکتا ہے جو خود ایوان میں حکومتی اراکین اسمبلی کا رویہ حزب اختلاف کیساتھ تعاون اور اعتماد کا ہونا خود حکومتی بنچوں کے مفاد میں ہے۔ حکومتی اراکین کے اس قسم کے رویئے کے باعث ہی حزب اختلاف کو دیگر فورم نیب وغیرہ سے رجوع کرنے کی راہ دکھائی دے گی اور میڈیا بھی ان کی طرف متوجہ ہوگا اور خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بن سکتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ آئندہ کے اجلاس میں ایوان میں یا سپیکر کے چیمبر میں اس معاملے پر حزب اختلاف کو مطمئن کیا جائے اور معاملہ طے کر دیا جائے۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر حکومتی اراکین سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کے اعتراضات بے معنی ہیں تو ان کو قائل کرنا مشکل نہیں۔

پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کی مؤثر ممانعت

اگرچہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی ماحول دشمن پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور حکومت اس ضمن میں سخت اقدامات کا عندیہ دیتی ہے یہاں تک کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی ایک سے زائد مرتبہ اس ضمن میں سنجیدہ بیانات دیئے ہیں لیکن اس کے باوجود پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کے تدارک کیلئے نظر آنے والے اقدامات کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ اگر اس ضمن میں لکی مروت کی ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے یا پھر سوال میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور چترال میں اس پر مکمل اور موثر پابندیوں کا جائزہ لیا جائے تو اطمینان ہوتا ہے کہ ناقابل تلف پلاسٹک کے تھیلوں کیخلاف ان اضلاع میں موثر کارروائی ہورہی ہے جو حوصلہ افزاء بھی ہے اور اس سے ان اضلاع کی انتظامیہ کی سنجیدگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کی روک تھام کا پہلا مرحلہ اس کی تیاری اور سپلائی پر پابندی ہے جس میں اب تک کتنی پیشرفت ہوئی ہے اس بارے کوئی حکومتی دعویٰ سامنے نہیں آیا۔ ممکن ہے اس ضمن میں کارروائی ہوئی ہوگی لیکن جب تک اس قسم کی کارروائی کی تشہیر نہ کی جائے اور انتظامیہ ان پلاسٹک کے تھیلوں کی تیاری کے کارخانوں کو بند کر کے اس سے متاثر ہونے والوں کیلئے متبادل کاروبار اور روزگار کا بندوبست نہیں کرتی اس وقت تک اطمینان کا اظہار نہیں کیا جاسکتا۔ صوبے کے دیگر اضلاع کی انتظامیہ کو محولہ اضلاع اور علاقوں میں ہونے والی کارروائی سے رہنمائی لینی چاہئے اور انہیں بھی اس قدر سنجیدگی کیساتھ پلاسٹک تھیلوں کے استعمال کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

ہوس ولالچ بری بلا ہے

پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے صفائی کا موقع دینے کے بعد ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی برطرفی کا اقدام جہاں قانون سب کیلئے برابر ہونے اور عدلیہ کے بھی احتساب کا ہونا ہے، وہاں دوسری جانب یہ امر بڑی تکلیف دہ ہے کہ عدالت میں اعلیٰ عہدے پر فائز کوئی شخص کرپشن میں ملوث پایا گیا۔ اگرچہ اس کیخلاف کارروائی عمل میں لائی گئی لیکن یہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے کے زمرے میں آتا ہے۔ انصاف کی کرسی نہایت باعزت اور اس پر بیٹھنے والا نہایت محترم اور باوقار سمجھا جاتا ہے جن سے کسی بدعنوانی تو کیا کسی غیرسنجیدہ حرکت کے ارتکاب کی بھی توقع نہیں ہوتی کجا کہ الزام ثابت ہو اور برطرفی کی نوبت آئے۔ یہ ہمارے معاشرے کا وہ المیہ ہے کہ یہاں پر محض مجبوری اور حسرت کے ہاتھوں نہیں بلکہ اعلیٰ عہدوں پر اور باعزت زندگی کے اہل افراد بھی لقمۂ حلال پر اکتفا نہیں کرتے۔ معاشرے میں خوف خدا پیدا کرنے کیلئے ہر ماں باپ کو چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کو روپے پیسے کی ہوس، بے جا نمود ونمائش اور لقمۂ حرام سے بچنے کی شروع سے تلقین اور ذہن سازی کرے۔ معاشرے میں حرام کی لعنت کی پوری طرح مذمت ہونی چاہئے۔ اس لعنت کیخلاف ذہنوں میں نفرت پیدا کرکے ہی اس میں کمی لائی جاسکتی ہے جو والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں