Daily Mashriq


خیبر پختونخوا میں نفسیاتی ودماغی امراض' لمحہ فکریہ

خیبر پختونخوا میں نفسیاتی ودماغی امراض' لمحہ فکریہ

ہر قوم کی اپنی ایک فطرت اور نفسیات ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے شاید اب تو سائنس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ماحولیات اور آب وہوا کا بھی انسان کی فطرت ومزاج میں بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔

پختون قوم کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد سے لے کر آج تک زیادہ تر پختون سنگلاخ چٹانوں اور اونچے پہاڑوں کے دامنوں میں زندگیاں گزارتے رہے ہیں۔ زندگی کی بقاء کیلئے انہیں ہمیشہ بہت مشکل حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ اسی بناء پر ان کے مزاج میں سختی اور ایک قسم کی درشتی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ مزاج کی اس سختی کو پختون کی شجاعت وبہادری کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔

پختون کے علاقے ہندوستان پر حملہ آور ہونے کیلئے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔ افغانستان ہی کے راستوں اور دروں سے ہوتے ہوئے مشہور درۂ خیبر کے سربفلک خشک سیاہ پہاڑ بھی اس کی گواہی دیتے ہیں کہ ان پہاڑوں کا سیاہ پن یہاں پر برپاشدہ کارزاروں کا گواہ ہے چونکہ پختونوں کے علاقے اس زمانے میں خود ان کیلئے سامان زیست کے لحاظ سے کچھ زیادہ کشادگی اور وسعت کے حامل نہ تھے' لہٰذا پختون قوم اپنی سرزمین پر کسی کو قیام کرنے کی اجازت دینے کے روادار نہ تھے اور نہ ہیں۔ سکندر اعظم سے لے کر برطانیہ' روس اور امریکہ تک کی تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے۔

فطرت ومزاج کی سختی' تعلیم اور شہری تہذیب سے دور رہنے اور آج کے جدید ترین تہذیبوں کے درمیان بھی حتیٰ کہ یورپ اور امریکہ میں بھی پختون اپنی پہچان اور تہذیبی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہے جس کی بعض اوقات اسے بھاری قیمت بھی چکانی پڑتی رہی ہے۔ پختونوں کی سرزمین پر ہمیشہ شور وغوغا ہی رہا ہے' کچھ ان کی جغرافیائی اور سٹریٹجک حالات کی وجہ سے اور کچھ ان کے اپنے مزاجوں کے سبب کہ کسی پختون سے کبھی پخلا بیٹھا ہی نہیں جاتا۔ اکوڑ خان سے لے کر خوشحال خان تک ان کی شاعری پر رزمیہ مزاج ہی غالب رہا ہے اور آج بھی ان کے رقص تک تلواروں اور کلاشنکوفوں کیساتھ ہوتے ہیں۔

اسلحہ کو جو قوم زیور سمجھتی ہو اور پھر مزاج ایسا ہو کہ مرغ جتنے کیلئے اونٹ ہارنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے اور آج ایک دوسرے کے پاس سے گزرتے ہوئے خشمگیں نگاہ سے دیکھنا یا مونچھوں کو ہاتھ سے پھیرنا بلاؤں کی آمد کا سبب بن سکتا ہو' اس قوم کی نفسیاتی حالات کون نارمل قرار دے سکتا ہے اور پھر اس سب پر مستزاد گزشتہ نصف صدی میں پختونوں پر جو گزری سو گزری' بقول شمس الزمان شمس

یا مہ زڑہ خبر دے یا زما بدن پتہ دہ

کوئی اور قوم ہوتی وہ ایسے حالات کے ہاتھوں زچ ہو کر یا تو ہجرت کرتی یا مایوسیوں کی اتاہ گہرائیوں میں پژمردگی کا شکار ہو جاتی لیکن آفرین ہے پختون قوم پر کہ اس کے باوجود زندگی کی بانکین سے دستبردار نہیں ہوتی لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آخر پختون بھی انسان ہے

کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل

انسان ہوں پیالہ وساغر نہیں ہوں میں

یا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لئے

لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں

حد چاہئے سزا میں عقوبت کے واسطے

آخر گنہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں

پچھلے دنوں یہ خبر میڈیا کے ذریعے نظروں سے گزری کہ خیبر پختونخوا میں نفسیاتی ودماغی امراض میں گزشتہ چند عشروں سے بے پناہ اضافہ ہوا ہے تو مجھے پختونوں پر گزرے ووارد حالات کے اثرات یکے بعد دیگرے منکشف ہوئے۔ دماغی امراض کی بہتات تو افغانستان کے پختونوں سے پختونخوا کے پختونوں تک پھیلی ہوئی ہے اور اس کی بڑی وجہ گزشتہ چار عشروں سے افغانستان کی سرزمین پر مسلط شدہ آہن وآتش کی جنگ ہے جس کے اثرات دہشتگردی کی صورت میں پختونخوا پر سب سے زیادہ مرتب ہوئے ہیں۔ افغانستان میں عجیب صورتحال ہے کوئی ان والدین کے درد دل اور زندگی کے دکھوں کا اندازہ اور تصورکرسکتا ہے جن کی جوان اولاد کی لاشیں گولیوں کی زخموں سے چور چور آئی ہوں یا بمباریوں کے دوران جل کر خاکستر ہوگئی ہوں۔ افغانستان' شام' عراق' یمن اور لیبیا وپاکستان کے پختون پاگلوں جیسی حرکات نہ کریں تو کیا کریں۔ ان ملکوں کے لوگوں کا نفسیاتی ودماغی امراض میں مبتلا ہونا ان خانہ جنگیوں اورجنگوں کے سبب ہے جو ان پر مسلط کی گئی ہیں۔ کچھ ان کے ملکوں میں قدرت کی طرف سے ودیعت شدہ اسباب ووسائل کے سبب اور کچھ ان کی اپنی حماقتوں کے سبب۔ افغانستان کی مثال لیں' سردار داؤد جدیدیت (ماڈرن ازم) کے ترنگ میں اپنے چچا کا تختہ اُلٹتے تو خلقیوں اور پرچمیوں کے ہاتھوں نہ مرتے۔ پرچمی اور خلقی نہ آتے تو روس نہ آتا' روس کے آنے کے بعد اسلام پسندوں اور روسیوں اور ان کے طرف داروں کے درمیان جو جنگ شروع ہوئی وہ آج بھی جاری ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ امت مسلمہ میں بالعموم اور ہمارے خطے میں بالخصوص برپا یہ انسانیت سوز شورش ہمیشہ کیلئے ختم ہو تاکہ ہم پختون بھی کہیں آرام وسکون کے دن گزار سکیں۔ ورنہ خوشحال کے زمانے سے ہی ہمارا حال تو یہ ہے

لایو غم را زنے لاڑ نہ وی بل راشی

لکہ زہ پہ ورز پیدا د شور وشر یم

متعلقہ خبریں