Daily Mashriq


وہ کامیاب ہوگیا

وہ کامیاب ہوگیا

زندگی سیکھتے رہنے کا نام ہے۔ عمر بھر انسان زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے میں لگا رہتا ہے۔ گاہے گمان ہوتا ہے کہ سب کچھ سمجھ آگیا ہے مگر پھر ایک نئی گرہ اور زندگی کے نئے سبق آپ کے ہمراہی ہوتے ہیں۔ زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ عالم اپنے علم وفضل کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ سقراط دعوے کیساتھ ایک بات کہا کرتا تھا اور وہ یہ تھی کہ ایک بات وہ جانتا ہے کہ ''وہ کچھ نہیں جانتا''۔ قرآن نے انسان کو جاہل کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جو وہ جانتا ہے وہ اس کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے جو کہ وہ نہیں جانتا۔ ہر لمحہ زندگی کا ایک نیا دریچہ کھلتا ہے اور انسان حیران ہو جاتا ہے کہ اس نے اس پہلو سے تو کبھی سوچا ہی نہ تھا۔ ایک کتاب آج کل زیرمطالعہ ہے' عنوان ہے ''گڈ ٹو گریٹ'' (Good to great)۔ جم کولنز کی لکھی کتاب کا پہلا سبق ہی چونکا دینے والا ہے۔ ''گڈ'' دشمن ہے ''گریٹ'' کا۔ ''Good is the enemy of great''۔ جم کولنز اور ان کی ٹیم کے مشاہدات عمومی تصور اور تاثر کے برعکس ہیں۔ بہتر سے بہترین یعنی گڈ سے گریٹ بننے کے عمل کا مشاہدہ کیا گیا اور درج ذیل باتیں سامنے آئیں۔

ٹیکنالوجی عمومی طور پر ایک کلیدی عنصر سمجھی جاتی ہے مگر کامیاب ترین کمپنیوں کی بابت جم کولنز کا مشاہدہ ہے کہ گڈ ٹو گریٹ کی ٹرانسفرمیشن کے سفر کی ابتداء میں ٹیکنالوجی کا یکسر کوئی رول نہیں ہے۔ دو کمپنیوں یا کارپوریشنوں کے انضمام کا بھی گڈ ٹو گریٹ کی ٹرانسفرمیشن شروع کرنے میں کوئی عمل دخل دکھائی نہ دیا کہ دو اوسط درجے کی کمپنیاں ایک عظیم کمپنی کا روپ کیسے دھار سکتی ہیں۔ جن کمپنیوں نے عظمت پائی ان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انہی کمپنیوں کے پروموٹڈ لوگ تھے۔

گیارہ عظیم کمپنیوں میں سے 10کمپنیوں کے اپنے پروموٹڈ سی ای اوز نے اپنی کمپنیوں کو بلندی تک پہنچایا۔ ان چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی عادات وا طوار اور کام کاج کا مشاہدہ کیا گیا تو یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ یہ سبھی لوگ عاجزانہ مزاج کے حامل تھے البتہ ان میں پروفیشنل ول (Will) کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ان سے بے مثال اچیومنٹ کی بات کی جاتی تو یہ اپنی ذات سے بات کو گھما کر اپنی ٹیم اور دیگر عوامل کو کریڈٹ دینا شروع ہو جاتے تھے۔ کتاب کے مصنف نے اس تناظر میں ایک زبردست قول نقل کیا ہوا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ''آپ سب کچھ کرسکتے ہیں اگر آپ اس چکر سے نکل جائیں کہ اس کا کریڈٹ کس کو ملے گا''۔ اس قول کو پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ ہمارے ادھورے رہ جانے والے کاموں کی ایک بڑی وجہ کریڈٹ کا چکر ہی تو ہوتا ہے۔ لوگ ''میں'' کے چکر میں رہتے ہیں اور حکومتیں بھی ہرکام کرتے ہوئے کریڈٹ کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں۔ افراد کی بابت عرض ہے کہ ''میں کا گرداب'' انسانی سرشت میں ہے جس نے اس منہ زور گھوڑے پر قابو پالیا وہ کامیاب ہوگیا۔ صرف پاکستانی معاشرے کی بات نہیں ہے ہر جگہ انسان اس ''میں'' کا مارا ہوا ہے۔ عرصہ قبل ڈیل کارنیگی کی کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ اس میں نیویارک کی ایک کمپنی کے متعلق پڑھا جس نے 500ٹیلی فون کالوں کا ڈیٹا مرتب کیا یہ جاننے کیلئے کہ کونسا لفظ گفتگو میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ ایک لفظ ان کاموں میں 3900دفعہ استعمال ہوا اور وہ لفظ تھا ''میں''۔ صوفیا کی تربیت میں سب سے پہلا اور بنیادی عمل اس ''میں'' سے نجات حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جس نے ''میں'' کو مار دیا وہ کامیاب ہوگیا۔

''ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ''میں'' ہوتا تو کیا ہوتا

خدا کی کائنات ضابطے اور دستور پر چلتی ہے۔ یہ ضابطے اور دستور اس کائنات کا راز ہیں۔ جس نے ان رازوں کو جان لیا اس کی دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے۔ دنیا میں پرتعیش زندگی گزارنے کیلئے لوگ بڑے پاپڑ بیلتے ہیں مگر دراصل خواہش اور تمنا پرسکون زندگی کی ہونی چاہئے۔ پرسکون زندگی کسی فرد کیلئے قدرت کا سب سے بڑا انعام ہے۔ قرآن مجید میں ایک آیت مبارکہ متعدد بار آئی ہے۔ اگرچہ مختلف لوگوں کے حوالے سے اس انعام کا ذکر ہے مگر انعام ایک ہی ہے۔ ''اور ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے' نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اورنہ یہ غمگین ہوں گے''۔ یعنی جو شخص غم اور خوف کے دائروں سے نکل گیا اس سے زیادہ دنیا میں کیا کوئی پرسکون ہوگا۔ مفتی شفیع کی معارف القرآن سے اس آیت کی تفسیر پڑھنے کا موقع ملے تو ضرور پڑھئے۔ مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ غم کا تعلق ماضی سے ہوتا ہے جبکہ خوف ہمیشہ مستقبل کا لاحق ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نفس پر اپنا خاص انعام فرماتے ہیں وہ ماضی اور مستقبل سے بیگانہ ہوکر زمانہ حال میں رہتا ہے۔ عرفان الحق نے ''اللہ الصمد'' میں نفس مطمٔنہ کی بابت لکھا ہے کہ ایسا شخص زمانہ حال میں ہوتا ہے یعنی وہ ''جہاں'' پر ہوتا ہے وہ ''وہیں'' پر ہوتا ہے۔ ہم تو نماز کی حالت میں بھی اپنے خیالات میں بھٹک رہے ہوتے ہیں کجا کہ عام زندگی میں ہم ''وہیں'' پر ہوں ''جہاں'' پر ہم ہوتے ہیں۔ یکسو ہوئے بغیرکامیابی نہیں ہے' نہ دنیا میں اور نہ دین میں۔ کامیابی مر مٹنے کے بنا نہیں ملتی۔ پنجابی میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے ''کُھبھ جانا''جو اپنے کام میں ''کُھبھ'' گیا وہ کامیاب ہوگیا۔

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

متعلقہ خبریں