میاںنوازشریف کے آئین کوبدلنے کے ارادے

میاںنوازشریف کے آئین کوبدلنے کے ارادے

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جی ٹی روڈ مارچ کے اختتام پرلاہور پہنچنے پر اعلان کردیا ہے کہ آئین اور نظام بدلنا ہو گا۔ اس نتیجے پر وہ یکم اگست کو نااہلی کے فیصلہ کے بعد جس مختصر عرصے میں پہنچے ہیں اسے اچانک ہی کہا جا سکتا ہے۔ ورنہ اسی آئین اور نظام نے انہیں تین مرتبہ وزیراعظم منتخب کیا تھااور گزشتہ تقریباً تیس سال سے وہ اسی آئین اور نظام کے اندر رہتے ہوئے سیاست میں جلوہ گر رہے ہیں۔ یکم اگست کو عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ دو دن تک خاموش رہے ۔ اعلان ہوا کہ وہ موٹر وے سے چپ چاپ گھر چلے جائیں گے لیکن پھر غالباً پارٹی رہنماؤں کے مشورے پر انہوں نے فیصلہ بدل لیا جن کا غالباًیہ خیال ہو گا کہ ن لیگ میں سے ن منہا ہو جائے تو پارٹی کو ضعف پہنچ سکتا ہے اور ان کا سیاسی مستقبل مخدوش ہوسکتا ہے۔ انہوں نے چپ چاپ گھر جانے کا فیصلہ بدل دیا اور جی ٹی روڈ سے مختلف مقامات پر عوام کی حمایت حاصل کرتے ہوئے لاہور جانے کا اعلان کیا گیا۔ 5 اگست کو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ جو ہو رہا ہے سب دیکھ رہا ہوں لیکن خاموش رہوں گا۔ پھر انہوں نے کہا کہ میرے خلاف سازش ہوئی ہے وقت آنے پر بے نقاب کر دوں گا۔جب یہ سوال ابھرا کہ سازش کون کر رہا ہے انہوں نے اس موقف کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی۔پھر کہا مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کس بنا پر نااہل قرار دیا گیا ہے۔ پھر کہا کہ مجھے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ وصول نہ کرنے کی وجہ سے نااہل قرار دیاگیاہے۔ پھر کہا کہ بیس کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعظم کو پانچ معزز لوگ نااہل قرار دے دیں یہ مناسب نہیں۔پھر کہا کہ بیس کروڑ عوام کے ووٹ کی توہین کی گئی ہے۔ اور یہ کہ وہ عوام کے ووٹ کی توہین کا مقدمہ لے کر نکلے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے اور اپنے جلسوں کے حاضرین سے پوچھا کہ کیا وہ مظلوم نواز شریف کا ساتھ دیں گے اور آخر کار 12اگست کی شام لاہور پہنچنے پر استقبالیہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ''وائرس زدہ نظام اور آئین'' کو بدلنا ہوگا۔اور اعلان کیا کہ وہ اس تبدیلی کے لیے پروگرام آج یوم آزادی کے موقع پر دیں گے۔ سطور بالا میں ان کے موقف میں روز بروز آنے والی تبدیلی کے ذکر سے ظاہر ہے کہ آئین اور نظام کی ''وائرس زدگی'' اور اس کی تبدیلی کی ضرورت ان پر نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے چند دن کے اندر وارد ہوئی ہے۔ آج جو وہ پروگرام دیں گے اس سے توقع ہے کہ ان کے موقف کی وضاحت ہو جائے گی۔ جہاں تک ان کے جی ٹی روڈ کے جلسوں کی بات ہے وہ ان میںشریک ہونے والوں کو اپنی مظلومیت کا یقین نہیںدلا سکے۔یہ واضح نہیں کر سکے کہ ان پر کیا ظلم ہواہے۔نہ وہ عوام کو''سازش'' کا قائل کر سکے اور نہ یہ یقین دلا سکے کہ ان کی نااہلی دراصل عوام کی نااہلی ہے اور اس کے ذریعے عوام کے ووٹ کی توہین ہوئی ہے۔ ان کے سامعین کسی کے خلاف جوش و جذبہ یا مظلوم نواز شریف کی حمایت میں غیظ و غضب کا اظہار نہیں کر رہے تھے۔ ٹی وی سکرینوں پر ان کے جلسوں میں میلے ٹھیلے کا سماں نظر آتا رہا۔ لوگ بھنگڑے ڈالتے رہے ،گھوڑوں اور بیلوں کے رقص دکھاتے رہے ۔ آتش بازی کے مظاہرے کرتے رہے اور مسلم لیگ کے ترانوں کی دھنوں پر رقص کرتے رہے۔ میاں صاحب کا استقبال تو خوب ہو گیا لیکن وہ عوام کی کسی تحریک کے لیے منظم اور فعال کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ فیصلے کے بارے میں متعدد ایسے ریمارکس کے باوجود جو توہین عدالت شمار کیے جا سکتے ہیں یہ واضح نہیں کر سکے کہ وہ کس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے صوبائی اور وفاقی ادارے ان کی حفاظت پر مامور تھے ' ان کو روکنے پر نہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی تحریک کے خدوخال بیان نہ کر سکے جس کی وجہ سطور بالا میںبیان کی گئی ہے کہ ان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے سامنے ڈٹ جانے کا موقف کسی سیاسی فکر کی بنیادپر قائم نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد پارٹی کو مربوط اور غیر منقسم رکھنا ہے اور سیاست کے میدان میں ہلچل مچاتے رہنا ہے۔ جیسا کہ انہوں نے کہا ہے کہ نہ وہ خود چین سے بیٹھیں گے اور نہ بیٹھنے دیں گے۔ اس کا فوری مقصد این اے 120میں اپنی بیگم کلثوم نواز کی جیت کے لیے مدد فراہم کرنا بھی ہے تاکہ وہ یہ اعلان کر سکیں کہ ان کے تحریک کو فتح حاصل ہوئی ہے۔ ان کے اب تک بیان کیے گئے موقف کا لب لباب یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں یا وزیر اعظم کو پورے پانچ سال سیاہ سفید کا مالک ہونا چاہیے اور اس پر کسی قانون کی گرفت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ایسا ہو جائے تو عوام کے ووٹ کی توقیر ہو گی اور اگر ایسا نہ ہو تو عوام کے ووٹ کی توہین ہو گی جیسے کہ انہوں نے سفر لاہور کے دوران بار بار کہا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلے سے عوام کے ووٹ کی توہین ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بیس کروڑ عوام نے انہیں وزیر اعظم منتخب کیا ہے اور ''اُن لوگوں'' نے انہیں چند منٹ میں چلتا کر دیا۔ اول تو میاں نواز شریف کو 20کروڑ عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں تھا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں غالباً چھ کروڑ ووٹروں نے ووٹ ڈالے تھے۔ ان میں سے 32فیصد ووٹ مسلم لیگ ن کو ملے تھے اور باقی 58فیصد باقی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ملے تھے۔ اس 32فیصد ووٹ کے زور پر انہیں وزیر اعظم اس لیے منتخب کیا گیا کہ یہ پاکستان کے اسی آئین کے تحت نظام کا تقاضا تھا جس کو بدلنے کے لیے وہ آج ''پروگرام'' دینے والے ہیں۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ان کی مراد اکثریتی ووٹ لے کر رکن پارلیمنٹ یا وزیراعظم منتخب ہونے والے کی توقیر ہے اور یہ کہ ووٹ کے احترام کا تقاضا ہے کہ اس کے فرمان کو قانوناً مستند قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اکثریتی ووٹ کی آمریت تسلیم کر لی جائے ۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ہیں جب اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والوں نے آمرانہ رویہ اختیار کیا ۔ جرمنی کا ڈکٹیٹر ہٹلر اکثریتی ووٹ لے کر ہی برسراقتدار آیا تھا۔ تو کیا اس نے اپنے جرمن مخالفین پر جو مظالم روا رکھے انہیں عین جمہوریت اور جائز قرار دیا جائے۔ اس نے جو اپنے ہمسائیوں پر چڑھائی کی اور وہاں تاخت و تاراج کی اس کے سامنے انسانیت کو سر جھکا دینا چاہیے تھا۔حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں اکثریتی ووٹ حاصل کیا۔ اس کی وجہ سے امریکہ میں آباد تارکین وطن پر جو خوف طاری ہے اسے عین انصاف سمجھ لیا جائے۔ وہ اسلحہ سازی اور جنگ بازی کی طرف امریکی قوم کو لے جانے کی کوشش کر رہا ہے اسے انسانی اقدار کی پاسداری قرار دے دیا جائے اور اس کی پالیسیوں کے خلاف جو امریکی نبرد آزما ہیں ان کو جیل بھیج دیا جانا چاہیے۔ اس کے دور میں امریکی مسلمانوں اور مساجدپرجو حملے ہو رہے ہیں وہ عین انصاف سمجھ لیے جائیں۔ اس سے بھی زیادہ قریب کی مثال بھارت کی ہے۔ میاں صاحب پوچھتے ہیں کہ کیا ہمارے ہمسائے میںکسی کے ساتھ ایسا ہوا ہے جو ان کے ساتھ ہوا یعنی وہاں کی سپریم کورٹ نے کسی وزیر اعظم کو کسی جرم کی بناپر اس کے منصب سے الگ کیا ہو؟ یقینا بھارت کی کسی عدالت نے نریندر مودی کو بھارت کے صوبہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی سزا نہیں دی۔ وہ امریکہ اور یورپ میں احمدآباد کا بوچر قرار پانے کے باوجود بھارت کا وزیر اعظم منتخب ہوا اور بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب ہوا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس کی حلف وفاداری کی تقریب میںشرکت بھی کی۔ تو کیا نریندر مودی اکثریتی مینڈیٹ حاصل کرنے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام پر پیلٹ گنوں کے استعمال ، مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں بھارتی فوجیوں کے ذریعے وہاں کی پرامن تحریک کو سفاکیت کے ساتھ کچلنے کو عین انسانیت قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیا نریندر مودی کے دور اقتدار میں بھارت میں جگہ جگہ گاؤ کشی کے الزام میں مسلمانوں کے قتل اور ان پر تشدد ' ان کی توہین ' ان کے سماجی بائیکاٹ کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ میاں صاحب کے جمہوری مینڈیٹ کے احترام کے مطالبہ سے یہ صاف نظر آتاہے کہ وہ منتخب ہو کر اقتدار میں آنے والوں کو قانون اور انصاف کے تقاضوں سے بالاتر قرار دے کر انہیں سیاہ و سفید اور عوام کی جان' مال اور آبرو کا مالک بنانا چاہتے ہیں۔ ملک کے عوام بادشاہت کایہ ماڈل تسلیم نہیں کریں گے۔

اداریہ